• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جارج فلائیڈ کا قتل، گلاسگو سمیت سکاٹش شہروں میں نسل پرستی کیخلاف احتجاجی مظاہرے

گلاسگو (طاہر انعام شیخ) سکاٹ لینڈ میں گلا سگو، ایڈنبرا، ایبردین اور انورنس میں نسل پرستی کے خلاف بھرپور مظاہرے کئے گئےجن میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ مظاہرین نے امریکا میں پولیس کے ہاتھوں مارے جانے والے جارج فلائیڈ کے قتل کی شدید مذمت کی۔ بلیک لائوزمیٹر BLACK LIVES MATTER کے تحت گلا سگو میں ہونے والے مظاہرے میں شرکاء نے نہ صرف آپس میں 6فٹ کا فاصلہ برقرار رکھا بلکہ اکثریت نے نقاب بھی پہن رکھے تھے۔ مظاہرے میں 80 فیصد سے زیادہ تعداد نئی نسل کے گوروں کی تھی اور وہ بڑے پرجوش طریقے سے نسل پرستی کے خلاف نعرے بلند کر رہے تھے یہ اس بات کا واضح ثبوت تھا کہ پرانی نسل کے برعکس نئی نسل کی ایک کثیر تعداد نسل پرستی سے شدید نفرت کرتی ہے۔ سکاٹ لینڈ کی سب سے بڑی نسلی اقلیت پاکستانیوں کی تعداد مظاہرے میں نہ ہونے کے برابر تھی ۔ اس کی وجہ ان کی قیادت جسٹس سیکرٹری حمزہ یوسف، سکاٹس پارلیمینٹ کے ممبر انس سرور، گلا سگوکے ڈپٹی لارڈ پرووسٹ کونسل حنیف راجہ، ملک غلام ربانی، کونسلر ثاقب احمد، کونسلر راشد حسین، کونسلر حنطلہ ملک، کونسلر شاہد فاروق پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر مرزا امین، پاکستان تحریک انصاف کے صدر میاں علی احمد صوفی اور پاکستان پیپلز پارٹی کے صدر چوہدری عبدالمجید کی طرف سے ان کو دیئے گئے واضح پیغامات تھے کہ کورونا وائرس کے خطرے کے پیش نظر وہ احتجاج کے دیگر ذرائع مثلاً سوشل میڈیا، ورچوئل مٹینگر اور آن لائن احتجاج کریں۔ لیبر پارٹی کی طرف سے ایک ورچوئل مٹینگ میں خطاب کرتے ہوئے بیلی کونسلر حنیف راجہ نے کہا کہ برطانیہ اور سکاٹ لینڈ میں زندگی کا کوئی شعبہ ایسا نہیں، جہاں نسل پرستی نہ ہو، برطانوی پار لیمنٹ سے لیکر سکاٹس پار لیمنٹ، کونسل سے لے کر پولیس، فائربریگیڈ، کسی بھی جگہ پر نسلی اقلیتوں کو ان کا حق حاصل نہیں جو ایک خفیہ نسل پرستی ہے جو پوری شدت کے ساتھ کام کرتی ہے، میں گزشتہ 40سال سے سیاست اور کمیونٹی کی سیاست میں سرگرم ہوں اور روزانہ مختلف طرح کی نسل پرستی کے واقعات سامنے آتے ہیں۔ فیصلہ کرنے والے اداروں میں نسلی اقلیتوں کی شرح نہایت ہی کم ہے۔ گلا سگو سٹی کونسل کی بیورو کریسی میں ایک بھی نسلی اقلیتوں کا ڈائریکٹر نہیں۔انہوں نے کہا کہ اس وقت امریکا میں ہونے والے جارج فلائیڈ کے قتل کی وجہ سے یہ معاملہ چند دنوں کیلئے اٹھا ہے اور پھر یہ دب جائے گا لیکن اب اس سلسلہ کو زندہ رکھنے کی ضرورت ہے، ہم اور ہماری آئندہ نسلوں کا مستقبل اسی ملک اور سوسائٹی سے وابستہ ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے یہاں پر اکٹھے مل جل کر رہنا ہےچنانچہ ہمیں ان مسائل کا دیرپا حل ڈھونڈنے کی ضرورت ہے۔

تازہ ترین