• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

فیصلہ ہر گز کسی کی جیت اور ہار نہیں ہے، شہزاد اکبر


فیصلہ ہر گز کسی کی جیت اور ہار نہیں ہے، شہزاد اکبر


وزیراعظم کے معاون خصوصی شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ معزز جج صاحب کی فیملی کو منی ٹریل ایف بی آر کو دینا ہو گی، سپریم کورٹ کا فیصلہ کسی کی جیت اور ہار نہیں ہے، حکومت اس فیصلے سے مطمئن ہے، یہ بہت احسن فیصلہ ہے۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کےخلاف  ریفرنس میں سپریم کورٹ کے فیصلے پر شہزاد اکبر نے کہا کہ آج سپریم کورٹ کا بہت اہم فیصلہ آیا ہے، تحریک انصاف کے قائد عمران خان اور وکیل کی حیثیت سے میرے دل میں عدلیہ کی عزت اور آزادی مقدم ہے، آئین کی سربلندی کے لیے ضروری ہے کہ عدلیہ، مقننہ اور انتظامیہ آزاد ہے۔

یہ بھی پڑھیے: جسٹس فائز عیسیٰ کیخلاف صدارتی ریفرنس کالعدم قرار

شہزاد اکبر نے کہا کہ آئین کے تحت تین صورتیں ہیں جس میں جج سے متعلق سوال اٹھایا جاسکتا ہے، ایک طریقہ کوئی بھی شخص سپریم جوڈیشل کونسل کو معلومات بھیج سکتا ہے، دوسرا طریقہ، حکومت کی جانب سے صدر مملکت ریفرنس بھیج سکتے ہیں، جبکہ تیسرا آپشن سپریم جو ڈیشل کونسل ازخود نوٹس لے سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ صدارتی ریفرنس کو سپریم کورٹ کے فل بنچ نے کالعدم قرار دے دیا، اس ریفرنس کے تحت جاری کیے گئے شوکاز نوٹس کو بھی کالعدم قرار دیا گیا، ان دونوں چیزوں کو فیصلے کے باقی مضمرات کے تابع کیا گیا۔

شہزاد اکبر نے کہا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ اور بچوں کو نوٹس بھیجے جائیں گے، چیرمین ایف بی آر کو 75 دن میں کمشنر انکم ٹیکس رپورٹ پیش کریں گے، چیئرمین ایف بی آر پابند ہوں گے کہ وہ رپورٹ پر دستخط کرکے سپریم جوڈیشل کونسل کو بھجوائیں گے۔

یہ بھی پڑھیے: فیصلہ قانون کی حکمرانی کی فتح ہے، حامد خان

معاون خصوصی نے کہا کہ رپورٹ حکومت کو نہیں سیدھی سپریم جوڈیشل کونسل کے سیکریٹری کو بھیجی جائے گی، سپریم جوڈیشل کونسل اس رپورٹ پر غور کرے گی، جبکہ جج صاحب کی اہلیہ اور بچوں کو لندن کے تین فلیٹس کی تفصیل اور منی ٹریل جمع کرانا ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ ہم شروع سے اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ ججز سے متعلق معاملہ سپریم جوڈیشل کونسل دیکھے، حکومت سپریم کورٹ کے اس فیصلے سے مطمئن ہے۔

شہزاد اکبر نے کہا کہ یہ بات نہیں ہے کہ سوال کا جواب نہیں ہے لیکن جواب نہ دینے کا مقصد کسی تنازع میں نہیں الجھنا ہے، ہمیں جو آئین کے تحت آزادی حاصل ہے اس کا تحفظ ججز ہی کرتے ہیں۔

معاون خصوصی برائے احتساب نے کہا کہ فیصلہ آنے کے بعد ایسا ماحول بنایا گیا کہ یہ کسی کی جیت یا کسی کی ہار ہے، جبکہ یہ کسی کی جیت یا ہار نہیں اس کو کسی اور رنگ میں پیش کرنا غلط ہے۔

تازہ ترین