آپ آف لائن ہیں
جمعہ18؍ذیقعد 1441ھ 10؍جولائی 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

ایگزیکٹ جعلی ڈگری کیس، 40 ملین روپے رشوت کی تحقیقات ملتوی

اسلام آباد (زاہد گشکوری)وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) نے ایک منظم دھندے کی تحقیقات خاموشی سے ملتوی کردی ہیں جہاں چند کالی بھیڑوں نے ایگزیکٹ جعلی ڈگری اسکیم میں تمام اہم ملزمان کو کلین چٹ دینے کیلئے رشوت کے طور پر 40 ملین روپے سے زائد کی رقم وصول کی۔

ایف آئی اے کے سینئر عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر جیو نیوز کو تصدیق کی کہ ایگزیکٹ جعلی ڈگریوں کے دھندے کی تحقیقات تقریباً ملتوی کردی گئی ہیں۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے جج پرویز القادر میمن کو ان کی سروس سے برطرف کرنے کے بعد ایف آئی اے کو فروری 2018 میں ایگزیکٹ اسکیم کے تمام ملزمان کو بریت کی سہولت دینے والی کالی بھیڑوں کو بے نقاب کرنے کا حکم دیا تھا۔

چونکا دینے والا انکشاف ایف بی آئی کے سابق ایجنٹ کی جانب سے واشنگٹن میں پاکستانی مشن کو الرٹ کیے جانے کے ہفتوں بعد ہوا۔ انہوں نے امریکا میں پاکستان کے سفیر ڈاکٹر اسد مجید خان کو ایک خط میں ایگزیکٹ کی جانب سے دوبارہ جعلی ڈگریاں یا ڈپلومے فروخت کرنے کے حوالے سے بتایا تھا۔

ایگزیکٹ اسکیم سے منسلک اس دھندے میں کالی بھیڑوں کے بارے میں انکشاف ایک اعلیٰ ایجنسی کے اعلیٰ افسر نےاسلام آباد ہائی کورٹ کی کمیٹی کے سامنے ان کیمرا بریفنگ میں کیا تھا اور اس معاملے میں کام انجام دینے کے لئے جج پرویز القادر میمن کے بہت سے معاونین جرم کو بے نقاب کیا۔

اس دھندے میں 40 ملین روپے کی رشوت حاصل کرنے والی باثر شخصیات کے ملوث ہونے کے بارے میں جاننے کے بعد اس وقت کے چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ انور خان کاسی نے یہ کیس فوری طور پر ایف آئی اے بھیجنے کا حکم دیا۔ جیو نیوز کو دستیاب خصوصی سرکاری مواصلات میں انکشاف ہوا کہ محکمانہ جاتی پروموشن کمیٹی نے متفقہ طور پر جج میمن کو عہدے سے ہٹانے اور اس اسکیم میں مناسب کارروائی کرکے ایگزیکٹ اسکینڈل کے دھندے میں دیگر کالی بھیڑوں کو پکڑنے کی سفارش کی۔برطرف جج پرویز القادر میمن کا کہنا ہے کہ مجھے سنے جانے کا موقع ہی نہیں دیا گیا۔

ناتو مجھے اسلام آباد ہائی کورٹ کےکسی بھی جج نے سنا اور ناہی کسی نے مجھ سے کوئی سوال کیا۔ انہوں نے مزید انکشاف کیا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ یا ایف آئی اے میں سے میرا نقطہ نظر جاننے کیلئےکسی نے بھی رابطہ نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے میری درخواست کے جواب میں تحریری طور پر کہا کہ اسے میرے خلاف کوئی بھی ثبوت نہیں ملا ہے۔

اعلیٰ ایجنسی کے اس سینئر افسر کی جانب سے اکٹھے کئے گئے ماخوذ کرنے والے شواہد اور بعد میں جنہیں کمیٹی کے سامنے پیش کیا گیا ان میں مزید انکشاف ہوا کہ جج میمن کو ذاتی طور پر دوسرے شخص سے ان کی ٹیلی فونک گفتگو کے بارے میں سنا گیا اور انکوائری کی گئی اور اس شخص کے ساتھ ان کے تعلقات کی نوعیت کو واضح کرنے کے لئے مزید وضاحت طلب کی گئی۔

میمن اس شخص کے ساتھ اپنے سابقہ کسی ​​تعلق کے حوالے سے کوئی وضاحت پیش کرنے میں ناکام رہے بلکہ انہوں نے اپنی بات چیت کو بھی تسلیم کرلیا۔ خفیہ مواصلات میں مزید انکشاف ہوا کہ جب ان ( جج میمن) سے 40 ملین روپے کے مساوی غیرقانونی رقم حاصل کرنے کا سوال کیا گیا تو انہوں نے 5 ملین روپے کی رشوت وصولی کا اعتراف کیا۔

اہم خبریں سے مزید