آپ آف لائن ہیں
ہفتہ24؍ذی الحج 1441ھ15؍اگست 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

پتہ نہیں علی زیدی کہاں سے JIT بنا لائے ہیں: مراد علی شاہ


وزیرِ اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ ہم پر سیاسی دباؤ آیا تو ہم نے جے آئی ٹی جاری کر دی، علی زیدی نے غیر ذمے داری کا کام کیا، پتہ نہیں وہ جے آئی ٹی کہاں سے بنا کر لائے ہیں۔

سندھ روشن پروگرام کرپشن کیس میں وزیرِ اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ قومی احتساب بیورو (نیب) کے آفس میں پیش ہوئے، جس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نیب سے درخواست کی ہے کہ ایک ماہ کا وقت دیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ مجھے کوئی سوالنامہ نہیں دیا گیا تھا، مجھے زیادہ ٹائم نہیں دیا گیا، 9 جون کو سوالنامہ بھیجا گیا جبکہ 18 جون کو بلا لیا گیا۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ ایک واقعے کی ایک جے آئی ٹی ہوتی ہے، زائد جے آئی ٹیز نہیں ہوتیں، علی زیدی نے غیر ذمے داری کا مظاہرہ کیا، غیر دستخط شدہ کاپی دکھائی۔

انہوں نے کہا کہ علی زیدی ملزمان کو فائدہ پہنچانے کے لیے جے آئی ٹی کو متنازع بنا رہے ہیں، جے آئی ٹی پر تمام ارکان کے دستخط ہیں، وہی عدالت میں جمع کرائی ہیں۔

وزیرِ اعلیٰ سندھ نے کہا کہ ہمیں محکمۂ قانون نے منع کیا تھا کہ جے آئی ٹی کو جاری نہ کریں، پیپلز پارٹی کو ضیاء الحق اور مشرف نے ختم کرنے کی کوشش کی، جو کامیاب نہیں ہوئی۔

ان کا کہنا ہے کہ جب ضیاء اور مشرف پیپلز پارٹی کو ختم نہیں کر سکے تو یہ لوگ کیا بیچتے ہیں، علی زیدی بتا دیتے کہ موٹر سائیکل پر آنے والے کسی شخص نے انہیں رپورٹ دی ہے۔

مراد علی شاہ نے مزید کہا کہ اگر علی زیدی یہ بتا دیتے تو شاید میڈیا بھی جے آئی ٹی شائع نہ کرتا، اگر علی زیدی کے بیان نے کسی ملزم کی مدد کی تو قانون ان کے خلاف کارروائی کرے گا۔

یہ بھی پڑھیئے: مراد علی شاہ آج نیب کے سامنے پیش ہوں گے

انہوں نے یہ بھی کہا کہ جے آئی ٹی رپورٹ کے ہر صفحے پر ارکان کے دستخط ہیں، علی زیدی نے قومی اسمبلی میں بغیر دستخط رپورٹ لہرائی، وزیرِ اعظم عمران خان نے خود تسلیم کیا ہے کہ پیپلز پارٹی نظریاتی پارٹی ہے۔

واضح رہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) نے وزیرِ اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کو سندھ روشن پروگرام کرپشن کیس میں جعلی اکائونٹ کے ذریعے اربوں روپے کرپشن کے میگا اسکینڈل میں 6 جولائی کو طلب کر رکھا تھا۔

سید مراد علی شاہ نے بعض ناگزیر وجوہات کی بناء پر 6 جولائی کو نیب تفتیشی ٹیم کے سامنے پیش ہونے سے معذرت کر لی تھی جس پر نیب نے انہیں آج دوبارہ طلب کیا تھا۔

وزیرِ اعلیٰ سندھ کو 28 سوالات پر مشتمل سوالنامہ بھجوایا گیا تھا جس کے جوابات مانگے گئے تھے۔

قومی خبریں سے مزید