آپ آف لائن ہیں
ہفتہ24؍ذی الحج 1441ھ15؍اگست 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

کورونا کے نان ڈاکیومینٹڈ اکانومی پر مثبت اثرات

کورونا کے اس دور میں پاکستانی معیشت پر کیا صرف منفی اثرات ہی مرتب ہوئے ہیں؟ یا کچھ مثبت بھی ہیں؟ ہر طرف صرف اور صرف منفی اثرات کا ہی ذکر کیا جا رہا ہے۔ لیکن اس کالم کے ذریعے ہمیشہ یہ کوشش کی گئی کہ ہر مسئلہ کے منفی اور مثبت پہلوؤں کے ساتھ ساتھ اس کے حل کے لئے بھی تجاویز پیش کی جائیں۔ صحافی ہونے کی وجہ سے اور نئی نئی اسٹوری تلاش کرنے کی جستجو نے نے راقم کے مزاج میں یہ بات ڈال دی ہے کہ صرف سنی سنائی پر بھروسہ نہ کیا جائے بلکہ خود زمینی حقائق کا بغور مطالعہ کرتے ہوئے حقیقت منظر عام پرلائی جائے۔ اسی بدولت یہ جستجو لگی رہی کہ یہ معلوم کیا جائے کہ کورونا کی بدولت ملکی معیشت پر کیا اثرات مرتب ہوئے۔ہمارا ملک دیہی اور شہری علاقوں پر مشتمل ہے۔ دیہی علاقے یا تو کرونا سے متاثر نہیں ہوئے اور اگر ہوئے بھی تو ٹیسٹ کی سہولت نہ ہونے کی وجہ سے اور جدید علاج کی سہولیات کی کمی کی وجہ سے وہ متاثرہ علاقوں میں شامل نہ ہو سکے ۔ رہ گئے شہری علاقے جو کہ آبادی کا کل چالیس فیصد حصہ پر مشتمل ہوتے ہیں یہ شہری علاقہ بھی تین حصوں میں بٹے ہوئے ہیں۔ امیروں کا علاقہ، غریبوں کا علاقہ اور کچی آبادی (کیونکہ کچی آبادی میں امیر اور غریب سب رہتے ہیں)۔معلومات کے مطابق غریب علاقوں اور کچی آبادیوں میں کسی بھی طور لاک ڈاون کی پابندی نا کی گئی وہاں ہر طرح کی کاروباری سرگرمیاں جاری ہیں ۔ مین گیٹ کے بجائے پچھلے چھوٹے دروازے سے. گلیاں تنگ ہونے اور گنجان آبادی کے علاقے ہونےکی وجہ سے گرفت آسان نہیں تھی۔ یا شائد کچھ دے دلا کر چھاپے سے بچا گیا۔ یہ کسی ایک علاقے کی بات نہیں بلکہ تقریبا تمام علاقوں کی یہی صورت حال تھی۔ اندازہ ہوتا ہے کہ بڑے کاروبار کچھ عرصے کے لئے متاثر ہوئے تھے۔ اس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ ٹھیلوں پر اور پرچون کی دکانوں پر اسی طرح بڑے بڑے شاپنگ مالز جو کہ مارٹ کے طور پر مشہور ہوتے ہیں ان میں کسی بھی قسم کی اشیاء کی کمی نہ ہو سکی۔ بلکہ ہر چیز پہلے سے زیادہ بک رہی تھی اس بات کا بین ثبوت ہے کہ لوگ ایک مہینے کا سودا لینے کے بجائے دو دو تین تین مہینے کے لے کر جاتے تھے۔ اور یہی صورتحال ابھی تک موجود ہے اگر کچھ پیدا نہیں ہو رہا تھا کوئی کاروباری سرگرمی نہیں ہو رہی تھی تو یہ ساری خریدو فروخت کیسے ممکن ہورتھی۔ مال تیار ہورہا تھا پیداوار ہورہی تھی مزدور کام پر جارہا تھا تو یہ سب کچھ ہورہا تھا۔حقیقت یہ ہے کہ ہمارے ہاں دو متوازن معیشت چل رہی ہے۔ ایک جس کی داستاویز موجود ہے دوسری وہ جس کی دستاویز موجود نہیں ۔عام زبان میں جنہیں ڈاکیومنٹڈ اکانومی اور نان ڈاکیومنٹڈ اکانومی کہا جاتا ہے۔ ڈاکیومینٹڈ اکانومی جو کے کل معیشت کے تھوڑے حصہ پر مشتمل ہوتی ہے جبکہ نان ڈاکیومینٹڈ اکانومی کا حصہ زیادہ ہوتا ۔ لیکن دستاویزی ثبوت نا ہونے کی وجہ سے اس بات کو مستند نہیں سمجھا جاتا ۔ لہذا کورونا کے معیشت پر اثرات کا جائزہ لینے کے لئے صرف دستاویز پر انحصار کیا جاتا ۔یوں چونکہ data موجود نہیں ہوتا اسی لئے documented economy کے متعلق ہی بات کی جاتی ہے۔ اور اس کے گراف کے نیچے گرنے کی وجہ سے معاشی ترقی کو بھی منفی قرار دیا جارہا ہے۔ اس بات سے کوئی اختلاف نہیں کہ بہت سے کاروبار اس کو رونا کی بدولت بری طرح متاثر ہوئے ہیں لیکن ساتھ ساتھ بہت سے نئے کاروبار بھی شروع ہوئے ہیں ۔ اور بہت سے کاروبار میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے ۔ صحت سے متعلق سارے شعبوں کا کاروبار منافع بخش رہا۔ آئی ٹی سے منسلک سارے شعبوں نے شاندار کامیابی حاصل کی ۔ آن لائن کلاسز نے ان کے کاروبار چار چاند لگا دیئے ۔ شادی ہالز، اور ریسٹورنٹ، اور ٹریول ایجنٹ کے کاروبار کو یقینا نقصان ہوا۔ لیکن یہ وہ کاروبار ہیں جن میں منافع کی شرح بہت بلند ہوتی ہے ۔ تو یہ جلد ہی اپنے منافع کو برقرار کرلیں گے۔ اور ایسے کاروبار والے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر نہیں بیٹھے ہیں بلکہ اپنے ہاتھ پاؤں چلا رہے ہیں ۔شادی ہالز پر پابندی ہے تو بڑے گھر کے مالک اپنے گھر کو کرائے پر دے رہے ہیں اور خاطر خواہ رقم وصول کر رہے ہیں۔ایک کاروبار بند تو اس کے متوازن دوسرا شروع ۔ فرق صرف دستاویزات کا ہے۔ آپ بھی ذرا اپنے اردگرد نظر ڈال کر دیکھیں ۔

minhajur.rab@janggroup.com.pk