• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
صابر ظفرنئی نسل کے شاعروں میں ایک نمایاں مقام رکھتے ہیں ۔ انہوں نے کہا ہے
افشا کروں راز کسی کا
میں کون سا پارسا رہا ہوں
آج کل ہم دوسروں کے راز افشا کرنے میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کو ششوں میں لگے ہوئے ہیں ۔ہمیں اپنی آنکھ کا شہتیر نظر نہیں آتا دوسروں کی آنکھوں کے تنکے نظر آجا تے ہیں۔ ایک ہڑ بونگ مچی ہوئی ہے چاروں طرف ۔ایسے میں جب ہم سب ایک دوسرے کی برائیاں تلاش کرنے میں مصروف ہیں عطا ء الحق قاسمی ادھر ادھر اچھائیاں ڈھونڈ رہا ہے ۔ اور جنہوں نے اچھے کام کئے ہیں ان کا اصل مقام پہچان کر ان کی عزت افزائی کر رہا ہے۔ ڈاکٹر سلیم اختر کو کون نہیں جانتا ۔ نقاد ہیں، افسانہ نگار ہیں۔کسی زمانے میں شاعری بھی کرتے تھے ۔ دس بیس نہیں پورے نوے کتابوں کے مصنف ہیں ۔ اورانتظار حسین کے بقول بہت جلد وہ اپنی کتابوں کی سنچری بھی مکمل کر نے والے ہیں ۔ پہلے زمانے میں ہمارے بزرگ اتنی بہت سی کتابیں لکھا کرتے تھے ۔ اوران کتابوں کے اتنے مختلف مو ضوع ہوتے تھے کہ ہم آج بھی پریشان ہوتے ہیں کہ وہ بزرگ انسان تھے یا جن ۔لیکن اس زمانے میں ان بزرگوں کے پاس کتابیں لکھنے کے سوااور کوئی کام بھی تو نہیں ہوتا تھا ۔مگر آج تو بہت سے الٹے سیدھے کام ہی نہیں طرح طرح کے مشغلے اور رنگ برنگی دلچسپیاں بھی ہیں۔اور سلیم اختر ان تمام دلچسپیوں اور مشغلوں کا حصہ رہے ہیں۔ ثبوت کے لئے آپ ان کی آپ بیتی پڑھ لیجئے ۔
اب ان مشغلوں اور دلچسپیوں کی موجود گی میں اتنی کتابیں انہوں نے کیسے لکھ لیں؟ یہ سلیم اختر ہی بتا سکتے ہیں ۔ ذرا سوچیے، اگر ان کی عمر کے اعتبار سے حساب لگایا جا ئے کہ ایک سال میں کتنی کتابیں چھپیں؟ تو دماغ چکرا جائے گا۔ میرا حساب تو بہت کمزور ہے اس لئے آپ خود ہی حساب لگا لیجئے کہ اکہتر بہتر سال کی عمر اور نوے کتا بیں۔ انہوں نے اردو ادب کی جو مختصر ترین تاریخ لکھی ہے وہ اس موضوع پر سب سے زیادہ چھپنے والی کتاب ہے۔ اب تک اس کتاب کے اتنے ایڈیشن چھپ چکے ہیں کہ شاید خود سلیم اختر کو بھی ان کی تعداد یاد نہ ہو۔وہ کالجوں میں پڑھاتے بھی رہے، لکھتے بھی رہے اور اپنے ہم عصر نقادوں سے ادبی کشتیاں بھی لڑتے رہے ۔ پچھلے دنوں وہ خاصے بیمار رہے۔بیماری ایسی تھی کہ ہم ان کے دوست احباب اور ان کے چاہنے والے سب پریشان ہوگئے تھے ۔ اب وہ ما شا ء اللہ صحت یاب ہوئے ہیں تو عطا کو خیال آیا کہ اپنے اور ان کے احباب اور اردو ادب سے شغف رکھنے والوں کو اکٹھا کیا جا ئے ۔ ان کے فن اور شخصیت کے بارے میں باتیں کی جائیں اور انہیں چھوٹا موٹا اعزازیہ بھی دیا جا ئے ۔ چھوٹا موٹا میں نے اس لئے کہا کہ ایک لاکھ روپیہ آج کل کیا ہو تا ہے ۔ ہم اسے قدر شناسی ہی کہہ سکتے ہیں۔ لاہور میں اس قدر شناسی کی بنیاد بھی عطا ء الحق قاسمی نے ہی ڈالی ہے ۔
اصغر ندیم سید نے اس زمانے کا ملتان یاد کیا جب وہ کالج میں پڑھتے تھے اور سلیم اختر ان کے استاد تھے ۔ تین استاد انہیں یاد آئے جو ہمیشہ خوش پوش نظر آتے تھے ۔ ایک عرش صدیقی، دوسرے نذیر احمد اور تیسرے سلیم اختر۔عرش صدیقی اور نذیر احمد انگریزی پڑھا تے تھے اور سلیم اختر اردو۔ مگر سلیم اختر اردو کے ان استادوں میں سے تھے جو اردو کے ساتھ انگریزی ادب کے رسیا بھی تھے۔ اس لئے ان کا اٹھنا بیٹھنا زیادہ تر انگریزی والوں کے ساتھ ہی تھا۔ اب اگر میں یہ کہوں کہ ملتان کا وہ زمانہ اس اعتبار سے ایک یاد گار زمانہ تھا کہ کیا استاد اور کیا طالب علم اور کیا اخبار والے اور کیا کالجوں کے اساتذہ سب ادبی ہنگاموں میں برابر کے شریک تھے اور اس زمانے میں ملتان سے جن ادیبوں اور شاعروں نے نام پیدا کیا وہ آج پاکستان کے بڑے ادیبوں میں مانے جاتے ہیں، تو شاید ملتان میں آج کل کے نو جوان ناراض ہو جا ئیں ۔ سلیم اختر کو ہی دیکھ لیجئے۔ ان کی اٹھان ملتان میں ہی ہوئی۔ جنس اور نفسیات پر ان کی کتاب لاہور میں چھپ چکی تھی مگر تنقیدی مضامین کا پہلا مجموعہ ملتان میں ہی چھپا ۔سلیم اختر نفسیاتی تنقید کے علمبردار مانے جا تے ہیں ۔ نفسیات سے انہیں دلچسپی کیسے پیدا ہوئی؟ یہ تو نہیں بتایا جا سکتا ۔مگر اس دلچسپی کا یہ عالم ہے کہ انہوں نے اپنی پہلی بیٹی کا نام سائیکی رکھا ۔اب بھلا پاکستان یا مشرق کے کسی بھی ملک میں لڑکیوں کے ایسے نام کون رکھتا ہے ۔بلکہ مغرب میں بھی کسی لڑکی کا یہ نام نہیں ہو گا ۔ لیکن سلیم اختر کو نئی اور منفرد بات کرنے کا جو شوق ہے اسی نے ان سے ایسے مضامین اور افسانے بھی لکھوائے جوشاید دوسر ے نہیں لکھ سکتے ۔
عطا ء الحق قاسمی نے یاد دلایا کہ لاہور میں دو ہی ادیب ایسے تھے جو اپنی سائیکل کی وجہ سے مشہور ہوئے۔ ایک مبارک احمد اور دوسرے سلیم اختر ۔ اردو میں نثری نظم کے باوا آدم مبارک احمد نے تو آخری عمر تک سائیکل چلائی لیکن سلیم اختر جلد ہی سائیکل چھوڑ کر پیدل ہو گئے تھے ۔ اب عطا ء الحق قاسمی کو سلیم اختر کی سائیکل تو یاد رہ گئی مگر وہ بھول گئے کہ سلیم اختر نے اسکوٹر بھی چلایا تھا ۔ اور اس اسکوٹر کے ساتھ ایک ایسا تاریخی واقعہ بھی ہوا تھا جسے آج بھی یاد کر کے سلیم اختر خوب ہنستے ہیں ۔
ایک دن سلیم اختر اپنی بیگم کو پیچھے بٹھائے اسکوٹر پر جا رہے تھے ، چوک پر بتی لال ہوئی تو ٹھہر گئے ۔ بیگم، شاید بیٹھے بیٹھے تھک گئی تھیں۔ وہ ٹانگیں سیدھی کرنے اسکوٹر سے اتر کر کھڑے ہو گئیں ۔ اتنے میں سگنل کی بتی ہری ہو گئی اور سلیم اختر یہ دیکھے بغیر روانہ ہو گئے کہ بیگم پیچھے بیٹھی ہیں یا نہیں ۔ گھر پہنچے تو دیکھا کہ بیگم غائب۔ واپس بھاگے ،وہ غریب سڑک کے کنار ے کھڑی ان کا انتظار کر رہی تھیں ۔ سلیم اختر کے افسانے بھی اس قسم کے واقعات کے گرد ہی گھومتے ہیں ۔ لیکن ایسا نہیں ہے کہ وہ سچ مچ غائب دماغ پروفیسر ہیں۔ اگر روایتی انگریز پروفیسروں کی طرح وہ بھی غائب دماغ ہوتے تو اکہتر بہتر سال کی عمر میں نوے کتابیں کیسے لکھ لیتے۔
تازہ ترین