آپ آف لائن ہیں
جمعرات13؍ صفر المظفّر 1442ھ یکم اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

کراچی کی بارش نے بلدیاتی اداروں کے دعووں پر پانی پھیر دیا

یوں تو پورا سندھ گوناگوں مسائل کا شکار ہے تاہم سندحھ کے تمام بڑے شہر مسائل کی ٓاماجگاہ ہیں امن وامان، بے روزگاری، اسٹریٹ کرائم ،بجلی پانی کا بحران ،ڈاکو راج ،ٹوٹی سڑکیں ،ٹرانسپورٹ جیے مسائل عرصہ دراز سے موجود تھے تاہم رہی سہی کسر بارش نے پوری کر دی کراچی میں بارش نےبلدیاتی اداروں کے دعوے پانی میں بہا دئے کراچی میں ہونے والی بارش غیر متوقع نہیں تھی۔مون سون کی اس بارش کی اطلاع محکمہ موسمیات اور بین الاقوامی میڈیا دے چکا تھا۔

لیکن سندھ حکومت اور شہری حکومت میں بیٹھے ارباب اختیار نے بارش کے پانی کی نکاسی سمیت دیگر احتیاطی تدابیر اختیار کرنے میں پوری توانائی صرف نہیں کیجسکی وجہ سے ۔ باران رحمت باران زحمت میں تددیل ہو گئی شہریوں کی جانب سے کہا جا رہا ہے کہ ارباب اختیار کی تمام کاوشیں حسب معمول چند بے بنیاد بیانات۔اور چند فوٹو شوٹ تک محدود رہیں۔

صرف 39 ملی میٹر بارش کے بعد حکومت سندھ اور شہری حکومت کے تمام دعوے زمیں بوس ہوگئے کراچی کا کوئی علاقہ بارش کی تباہ کاریوں سے محفوظ نہیں۔ رہا کراچی کی بڑی شاہراہیں زیر ٓاب ٓاگئی اور کئی علاقوں میں بارش کا پانی گھروں میں داخل ہو گیا جسے تا دم تحریر نہیں نکلا جا سکا ہے ماہرین کے مطابق اگر گزشتہ تین سالوں میں نالے صاف کرنے کے نام پر جو اربوں روپے شیر مادر سمجھ کر ہڑپ کئے گئے ان کا 25 فیصد بھی خرچ کردیا ہوتا تو آج یہ صورتحال نہ ہوتی۔

ستم بالائے ستم کے الیکٹرک کا اذیت ناک ناکارہ بوسیدہ نظام 400 فیڈر ٹرپ ہونے سے شہر اندھیرے میں ڈوب گیا۔ بارش کے بعد دس تا بارہ گحنٹے کی لوڈشیڈنگ کراچی کے شہری بھگت رہے ہیں چند روز قبل گورنر سندھ عمران اسماعیل اور ففاقی فزیر اسد عمر نے دعوی کیا تھا کہ اب لوڈشیڈنگ نہیں ہو گی کے الیکٹرک نے رویہ تبدیل نہیں کیا تو اسے تحویل میں لے لینگے شہری ان دعوی کا مذاق اڑا رہے ہی بعض افراد کا کہا ہے کہ اسد رمر کے دیگر دعوی کی ظرح یہ دعوی بھی جھوٹا نکلا ا ٓاے والے بلدیاتی الیکشن میں کیا پی ٹی ٓائی ان دعووں کے بل بوتے پر الیکشن میں جائے گی ؟ 

جماعت اسلامی کے بعد پی پی پی نے بھی کراچی پریس کلب پر کے الیکٹرک کے خلاف بڑا مظایرہ کیامظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے وقار مہدی کا کہنا تھا کہ کے الیکٹرک کی نجکاری کیخلاف ہمیشہ پیپلز پارٹی نے احتجاج کیا اور احتجاجی کیمپ لگائے۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم نے اور بابر غوری نے کے الیکٹرک کی نجکاری میں اہم کردار ادا کیا اورریحام خان نے اپنی خطاب میں بھی لکھا کہ پی ٹی آئی کے الیکشن میں ساری فنڈنگ عارف نقوی نے کی جس کے سبب وفاقی حکومت کے الیکٹرک کیخلاف کچھ نہیں کرتی اور کراچی کی عوام کو کے الیکٹرک کے رحم و کرم پر چھوڑ رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کے الیکٹرک نے ابھی تک اپنا سسٹم اپ گریڈ نہیں کیا جب کہ اس مد میں اربوں روپے ہضم کر چکی ہے۔ 

انہوں نے کہا کہ کے الیکٹرک نے اربوں کا منافع کراچی کی عوام کا خون چوس کر کمایا ہے ،کے الیکٹرک کو سبق پاکستان پیپلزپارٹی سیکھائے گی ادھر پی پی پی اور پی ٹی ٓائی کے درمیان لفظوں کی جنگ جاری ہے حریک انصاف کراچی کے صدر خرم شیر زمان نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کراچی میں بارش کے پیش نظر کراچی کے بلدیاتی نظام کے حوالے سے پیپلزپارٹی کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ 

اس حوالے سے میڈیا سے گفتگو میں صدر پی ٹی آئی کراچی خرم شیر زمان نے کہا کہ کل کراچی میں ایک سے سوا گھنٹے کی بارش نے پورے شہر کو ڈبو دیا کراچی کے لوگوں نے اللہ تعالیٰ سے بارش کے لیے دعائیں کی اور پیپلرزپارٹی کے بلدیاتی نظام نے کراچی کے عوام کے لئے ابررحمت کو زحمت بنادیا جبکہ پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سکھر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ رکن قومی اسمبلی سید خورشید شاہ کی قید کو ناانصافی قرار دیا، انہوں نے کہا کہ ضمانت ملنا سید خورشید شاہ کا بنیادی حق ہے جبکہ ابھی تک ان کو کسی کیس میں convicted بھی قرار نہیں دیا گیا ہے، اگر خورشید شاہ کو ان کے آئینی حقوق بھی نہ ملے تو بظاہر یہ تاثر آئے گا کہ سلیکٹڈ حکومت کو سپورٹ کرنے کے لئے اپوزیشن کی جماعتوں پر دباؤ ڈالا جارہا ہے اور ان سے سیاسی انتقام لیا جارہا ہے۔ 

انہوں نے کہا کہ سیاسی مخالفین اور میڈیا مالکان جیسے میرشکیل الرحمان کے ساتھ جو ہورہا ہے، ہم اس کی مذمت کرتے ہیں، بلاول بھٹو زرداری نے کلبھوشن یادو کے حوالے سے پی ٹی آئی حکومت کے خفیہ آرڈیننس کا معاملہ بھی اٹھایا، انہوں نے آرڈیننس کو غیرآئینی قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت بتائے کہ اس آرڈیننس کے اجراء کا آخر ملک کو کیا فائدہ ہوا ہے؟ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے یہ بھی کہا کہ کلبھوشن یادو کے حوالے سے آرڈیننس کا اجراء اگر کوئی مجبوری تھی تو اس پر دیگر سیاسی جماعتوں بالخصوص اپوزیشن، پارلیمان اور عوام کو اعتماد میں کیوں نہیں لیا گیا۔

تجزیے اور تبصرے سے مزید
سیاست سے مزید