آپ آف لائن ہیں
منگل4؍صفر المظفّر 1442ھ 22؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

ہاؤسنگ مارکیٹ نے آمدن پر عدم مساوات پیدا کی ہے، برطانوی تھنک ٹینک

لندن (وجاہت علی خان) برطانیہ کے ایک تھنک ٹینک نے انکشاف کیا ہے کہ ملک میں آمدنی کے لحاظ سے عدم مساوات انتہائی زیادہ ہے اور اس کی بڑی وجہ ہائوسنگ مارکیٹ کا رجحان ہے جس نے جغرافیائی عدم مساوات میں اضافہ کیا ہے، تھنک ٹینک کے مطابق حالانکہ دارالحکومت لندن میں فی کس آمدنی کی شرح دیگر شہروں سے زیادہ ہے لیکن یہاں غربت نسبتاً زیادہ ہے کیونکہ اگر رہائش کے اخراجات کو مدنظر رکھا جائے تو لندن غریب تر ہے، سروے کے مطابق آج جب حکومت کوویڈ19سے نمٹنے میں مصروف ہے اور قوم کو’برابری‘ دینے کے وعدے کررہی ہے ،ایسے میں معاشی اعدادوشمار ہمیں تصویر کا دوسرا رخ دکھا رہے ہیں اور لندن سے باہر کم سے کم اجرت نے لندن سے باہر کمائی میں اضافہ کیا ہے جب کہ زیادہ کمائی والی ملازمتیں جن میں سے بیشتر موٹروے ایم 25کے دائرے میں تھیں ابھی وہ کورونا وائرس سے پہلے آخری کساد بازاری سے نمٹنے کی سست روی سے کوشش کررہی تھیں، مالیاتی مطالعات کے انسٹی ٹیوٹ (آئی ایف ایس) کا کہنا ہے کہ 2000ء کے اوائل سے لے کر آج تک لندن اور ملک کے دیگر

حصوں کی آمدنیوں میں عدم مساوات بڑھاہے، مثال کے طور پر 2002ء کے بعد لندن میں کُل وقتی آمدن میں 1.5فیصد جب کہ دیگر شہروں میں 5.6فیصد اضافہ ہوا ہے چنانچہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ رہائشی مکانات کی قیمتوں کو مدنظر رکھا جائے تو دیگر برطانوی شہروں کی نسبت لندن میں غربت عروج پر ہے، ’’آئی ایف ایس‘‘ کے مطابق گزشتہ 20برس میں لندن سے باہر آمدنیوں میں 13فیصد اور لندن میں صرف 6فیصد اضافہ ہوا ہے، اگر آپ خود کو ٹاپ 10کمانے والوں میں شامل کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو ویلز میں 50 ہزار پونڈ سے زیادہ جب کہ لندن میں 85 ہزار پونڈ سے زیادہ کمانا پڑیں گے۔

یورپ سے سے مزید