آپ آف لائن ہیں
منگل11؍صفر المظفّر 1442ھ 29؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

گزشتہ دنوں مجھے پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقدہ قومی اسمبلی قائمہ کمیٹی برائے مذہبی ہم آہنگی کے ایک اجلاس میں شرکت کا موقع ملا، اس دوران مختلف امور زیربحث آئے، بذریعہ زمینی راستہ ایران اور عراق جانے والے زائرین کے حوالے سے بھی تبادلہ خیال ہوا،پاکستان بھر سے ہزاروں زائرین بلوچستان کے دشوار سرحدی علاقوںسے ہمسایہ ممالک میں واقع مقدس مذہبی مقامات کی زیارت کےلئے روانہ ہوتے ہیں، میں نے اس موقع پرتجویز پیش کی کہ پاکستان دنیا کے مختلف مذاہب کا گڑھ ہے ، اگر ہم سیاحوں کو بہترین سفری سہولتوں کی فراہمی یقینی بناسکیں تو جتنی تعداد پاکستانی شہریوں کی مذہبی جوش و جذبے سے بیرون ممالک روانہ ہوتی ہے، اس سے کہیں زیادہ دیگر ممالک کے سیاح پاکستان کے تاریخی، مذہبی، ثقافتی اور قدرتی حسن سے بھرپور مقامات دیکھنے یہاں آسکتے ہیں۔بلوچستان کا پرفضا مقام زیارت بانی پاکستان قائداعظم کے آخری ایام کے حوالے سے پاکستانیوں کےلئے جذباتی لگاؤ کا باعث ہے، زیارت شہر کا پراناقدیمی نام کوشکی ہے جسے ایک بزرگ میاں عبدالحکیم کے مزار کی موجودگی کی بناء پر زیارت کہا جاتاہے، زیارت کےعلاقے میں صنوبر کے وسیع جنگلات سات ہزار سال پرانے ہیں ،مذہبی سیاحت کے حوالے سے زیارت میں ایک ایسا پہاڑبھی واقع ہے جس کی چوٹی پر کھڑے ہوکر دیکھا جائے تو نیچے اترائی میں خرواری بابا کا مزار اور سامنے والے پہاڑ پر قدرتی طور پر لفظ"اللہ"لکھا نظر آتا ہے، مقامی روایات کے مطابق بزرگ خرواری باباسے بہت سی کرامات منسوب ہیں، اسی طرح ہندو کمیونٹی کےلئے بلوچستان میں ہنگول دریا کے کنارے واقع ہنگلاج ماتا مندر کی یاترا بھی ایک مذہبی فریضہ سمجھی جاتی ہے۔ تاہم بلوچستان میں گزشتہ ایک عرصے سے جاری بدامنی نے سیاحت کو شدید نقصان پہنچایا ہے اوریہاں کی خوبصورت وادیاں اور مقامات سیاحوں کی راہ تکتے ہیں۔سندھ کو صوفیائے اکرام کی دھرتی کے نام سے جانا جاتا ہے، صوبے بھر میں اسلام، ہندو اور جین مت کے ماننے والوں کےلئے متعدد مقدس مقامات موجود ہیں، یہاں لعل شہباز قلندر، شاہ عبداللطیف بھٹائی، سچل سرمست اور دیگر عظیم صوفیائے کرام کے مزارات پر خلق خدا کا چوبیس گھنٹے رش رہتا ہے، علاوہ ازیں بے شمار سیکڑوں چھوٹےبڑے مزار، دربار، درگاہیں اور مندر بھی یہاں واقع ہیں ،جو خاص اہمیت کے حامل ہیں،جہاں جاپان، کوریا، تھائی لینڈوغیرہ سے تعلق رکھنے والے سیاح بھی بڑی تعداد میںآتےہیں،اگرہم مذہبی سیاحت کے فروغ میں انگریزوں کے قائم کردہ گرجا گھروں کو بھی شامل کرلیں تویہ مقدس مقامات بھی ترقی یافتہ ممالک کے سیاحوں کی توجہ کا مرکز بن سکتے ہیں۔دنیا کے مختلف ممالک کی اقتصادی ترقی کا جائزہ لیا جائے توبیشتر ممالک کی معیشت کا دارومدارصرف سیاحت پر ہے، ملائیشیا، یواے ای، تھائی لینڈ ، سوئیزرلینڈ جیسے بے شمار ممالک اپنی ملکی ترقی کا پہیہ رواں دواں رکھنے کےلئے عالمی سیاحوں کو راغب کرنے میںمختلف مارکیٹنگ کےطریقے اختیار کرتے ہیں۔ بطورپاکستانی ہمارے لئے یہ لمحہ فکریہ ہے کہ ہمارے بعد آزاد ہونے والے ممالک اپنی سیاح دوست پالیسیوں اور امن و امان کی بہترین صورتحال کی بدولت عالمی منظرنامے میں اپنا نمایاں مقام بنانے میں کامیاب ہوچکے ہیں، متحدہ عرب امارات کی ایمرٹیس ایئرلائن دنیا بھر کے سیاحوں کی نظر میں دبئی کی حیرت انگیز ترقی کی پہچان ہے، دوسری طرف ہماری قومی ائر لائن پی آئی اے ہمارے لئےمشکلات کا سبب بنتی جارہی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان میں دیگر ممالک کی نسبت قدرتی طور پر سیاحت کے میدان میں وسیع مواقع موجود ہیں، تاہم بدقسمتی سے گزشتہ 73برس میں سیاحت کا فروغ کسی حکومت کی ترجیحات میں شامل نہیں ہوسکا،آج بھی بیشتر سیاحتی مقامات تک رسائی میں مختلف سفری مشکلات حائل ہیں، مذہبی جوش و جذبے سے لبریز سیاحوں کو سہولتوں کے فقدان کا سامنا ہے، موجودہ حکومت کے دور میں کرتار پور کوریڈور کے تاریخی اقدام سے امن پسند شہریوں کو بہت سے توقعات وابستہ تھیں لیکن مذہبی سیاحت کا یہ سلسلہ مزید آگے نہیں بڑھ سکا،اسی طرح وزیر اعظم عمران خان نے رواں برس فروری میں سیاحت کے فروغ کےلئے قائم کردہ حکومتی کمیٹی کے اجلاس میں ماحولیات، مقامی ثقافت اور قدرتی مناظر سے بھرپور سیاحتی مقامات کے حوالے سے اگلے چھ ہفتوں میںٹورازم پلان مکمل کرنے کی ہدایت کی تھی،تاہم عوام وزیراعظم کے مشیران، معاون خصوصی اور وزراء پر مشتمل اس اعلیٰ سطحی کمیٹی کی مرتب کردہ سفارشات کے منظرعام پر آنے کے تاحال منتظر ہیں۔ بدقسمتی سے عالمی وباکورونا نے نہ صرف دنیا بھر میں کاروبار زندگی کو درہم برہم کردیاہے بلکہ سب سے زیادہ سیاحت کوبھی نقصان پہنچایاہے، آج بھی مذہبی نوعیت کے بے شمار مقدس مقامات حفاظتی نقطہ نظر کی بناء پر بند ہیں لیکن میرا ماننا ہے کہ خدا کے گھرزیادہ عرصہ بند نہیں رہ سکتے، جونہی کورونا کے جان لیوا حملوںپر قابو پایا جائے گا، خلق خدا کی بڑی تعداد مقدس مذہبی مقامات کارُخ کرے گی ۔ ہمیں ایسی صورتحال کا سامنا کرنے کےلئے ترجیحی بنیادوں پر مذہبی سیاحت کے فروغ کےلئے ٹھوس پالیسی وضع کرنے کی ضرورت ہے، حکومت چاہے تو وہ صرف مذہبی سیاحت سے اتنا زیادہ ریونیو اکٹھا کرسکتی ہے جس سے نہ صرف غیرملکی قرضوں سے چھٹکارا حاصل کیا جاسکتاہے بلکہ قومی ترقی کےلئے اہم منصوبے بھی کامیابی سے پایہ تکمیل تک پہنچائےجاسکتے ہیں،جبکہ مذہبی سیاحت کی بدولت ملک بھر میں مذہبی رواداری کی فضاپروان چڑھے گی اور ہمارا پیارا وطن عالمی برادری کی نظر میں بھی اپنا کھویا ہوا مقام پھر سے حاصل کرنے کے قابل ہوسکے گا۔

 (کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)