آپ آف لائن ہیں
جمعہ12؍ربیع الاوّل 1442ھ 30؍اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

بچپن میں ہم نے خالاؤں کو ’’ف‘ ‘کی بولی بولتے سنا۔ اس کی ساخت کچھ یو بنائی گئی تھی کہ ہر لفظ کے پہلے حرف سے پہلے’’ف‘‘ لگا دیا جاتا تھا اور روانی قائم کرنے کے لیے حسب ضرورت تشدید کے ساتھ بولا جاتا۔ مثلاً افاپ، کفو یفے، بفات، سَفَمّفَجھ، کفیفوں نفیفی افاتفی (آپ کو یہ بات کیوں سمجھ نہیں آتی)۔ اشرف صبوحی کے ایک خاکے سے معلوم ہوا کہ ایسی مرموز بولیاں یا کوڈ لینگویج دہلی میں قلعے کی خواتین نے ایجاد کی تھیں اور انہیں زرگری اور فرفری کا نام دیا گیا۔ صبوحی صاحب نے ’’نیازی خانم‘‘ کے خاکے میں اس کی مثال بھی نقل کی ہے۔ ’’زرگری اور فرفری اور اسی طرح کی کئی بولیاں قلعے والیوں کی ایجاد شہر کے اکثر گھرانوں میں آپہنچی تھی۔ ان بولیوں کا شریفوں کی لڑکیوں میں بہت رواج تھا۔ 

انجانوں سے بات چھپانے کی خاصی ترکیب تھی۔ چناں چہ ایک بہن بولی ’’کنروں ازاپزااِزس سِرے لزے چزل لزیں یزا نزئیں‘‘(کیوں آپا اسے لے چلیں یا نہیں؟)‘‘۔ بعض گھرانوں میں ’’پ‘‘ اور’ ’ڑ‘‘ کی بولیوں کا رواج بھی سنا ہے۔ خدا جانے یہ رواج اب بھی کہیں باقی ہے یا نہیں۔ بہرحال یہ زبان کے معاملے میں عورتوں کی مہارت اور تخلیقیت کی یاد گار ہے۔ آپ احباب میں بھی ایسا کوئی رواج ہوگا۔