آپ آف لائن ہیں
منگل12؍جمادی الثانی 1442ھ 26؍جنوری 2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

احسان مانی کی بطور چیئرمین پی سی بی دوسری مدت میں عدم دلچسپی؟

کراچی (عبدالماجد بھٹی/ اسٹاف رپورٹر) پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین احسان مانی اپنے تین سالہ عہدے کی معیاد پوری ہونے کے بعد معاہدے میں توسیع میں دلچسپی نہیں رکھتے ؟ امکان ہے کہ مزید بارہ ماہ کام کرنے اور وزیر اعظم عمران خان کا وژن پورا کرنے کے بعد وہ اپنی ذمے داریوں سے سبکدوش ہوجائیں گے۔ نمائندہ جنگ نے اس سلسلے میں احسان مانی سے رابطہ کیا تو انہوں نے واضح جواب دینے سے گریز کیا اور کہا کہ میرا تقرر تین سال کے لئے ہوا ہے اور ابھی ایک سال باقی ہے۔ پاکستان کرکٹ کی خدمت کے لئے یہاں موجود ہوں ۔ ابھی میرے پاس بارہ ماہ کا وقت باقی ہے۔ احسان مانی کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ احسان مانی اپنی اہلیہ کے ساتھ لاہور کے پوش علاقے کے فلیٹ میں رہائش پذیر ہیں ۔ تاہم وہ اگلے سال ستمبر میں تین سال مکمل ہونے کے بعد دوبارہ لندن میں واقع اپنے گھر میں شفٹ ہونے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے اپنے قریبی لوگوں سے اس بات کا اظہار کیا ہے کہ وہ پی سی بی چیئرمین کی حیثیت سے معاہدے میں توسیع لینے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔ احسان مانی

وزیر اعظم عمران خان کے قریبی دوستوں میں شمار ہوتے ہیں ۔ پی سی بی میں آنے سے قبل وہ شوکت خانم اسپتال کے بورڈ آف ڈائریکٹر میں شامل تھے۔ عمران خان نے انہیں گلیات اتھارٹی میں بھی اہم ذمے داری سونپی تھی۔ انہوں نے چیئرمین بننے کے بعد پی سی بی کا نیا آئین وزیر اعظم کے وژن کو سامنے رکھ کر بنایا۔ ملک سے ڈپارٹمنٹل کرکٹ کا خاتمہ ہوگیا ۔ پی سی بی کو پروفیشنل بنیادوں پر چلانے کے لئے انہوں نے برطانیہ سے تعلق رکھنے والے وسیم خان کو چیف ایگزیکٹیو آفیسر بنایا جبکہ کئی پرانے افسروں کو فارغ کردیا گیا۔ اس وقت وہ کرپشن کے خاتمے کے لئے حکومت کے ساتھ مل کر قانون سازی پر کام کررہے ہیں۔ احسان مانی کے قریبی لوگ اس بات کی تصدیق کررہے ہیں کہ عمران خان کی دوستی کی وجہ سے انہوں نے یہ ہائی پروفائل عہدہ قبول کیا تھا لیکن وہ دوبارہ لندن جانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بقیہ ایک سال سے کم عرصے میں احسان مانی پی سی بی کے معاملات کے ساتھ پاکستانی کرکٹ ٹیم کو دنیا کی صف اول کی ٹیم دیکھنا چاہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے تین دن پہلے مصباح الحق کی بحیثیت کوچ کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کیا تھا۔