آپ آف لائن ہیں
اتوار2؍صفر المظفّر 1442ھ 20؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

نواز شریف سے متعلق عدالتی فیصلےکا احترام کرتے ہیں، ن لیگ


مسلم لیگ (ن) کی قیادت نےکہا ہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف سے متعلق اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کا احترام کرتے ہیں، نواز شریف بیرون ملک 4،5 اسپتالوں میں زیر علاج رہے ہیں۔

سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، سابق وفاقی وزراء احسن اقبال اور خواجہ آصف نے نواز شریف سے متعلق ہائی کورٹ کے فیصلے پر مشترکہ پریس کانفرنس میں اظہار خیال کیا۔

شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ انہیں نواز شریف سے متعلق اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کا احترام ہے مگر یہ فیصلہ سابق وزیراعظم کی صحت کی صورتحال پر خاموش ہے۔

ن لیگ کے سیکریٹری جنرل احسن اقبال نے کہا کہ فیصلے میں اس بات کی تردید نہیں کی گئی کہ نواز شریف کی زندگی کو خطرہ ہے۔

خواجہ محمد آصف نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ عدالتوں کےفیصلوں کا احترام کیا ہے، اس کی بڑی شہادت میاں نواز شریف کا صاحبزادی کے ہمراہ اپنی زیر علاج بیگم کو چھوڑ کر پاکستان واپس آنا ہے۔

انہوں نےکہا کہ اس طرح کے عمل کی مثال نہیں ملتی کہ کوئی شخص اپنی علیل اہلیہ کو چھوڑ کر وطن واپس آئے اور عدالتی فیصلے کے بعد جس کی جماعت نے ڈیڑھ کروڑ ووٹ لیا ہوا۔

خواجہ آصف نے مزید کہا کہ ن لیگ کی قیادت نے آنے والی نسلوں کے لیے مثال قائم کی، نواز شریف آج کے فیصلے کو بھی مانتے ہیں۔

ان کاکہنا تھا کہ پاکستان کے مایہ ناز ڈاکٹروں نے میاں نواز شریف کی رپورٹس کو مانا اور پھر باہر جانے کی اجازت دے دی، سابق وزیراعظم بیرون ملک 4،5 اسپتالوں میں زیر علاج رہے ہیں۔

سابق وزیر خارجہ نے یہ بھی کہا کہ ان حالات میں بھی میاں نواز شریف نے انگلستان کی رپورٹس جمع کروائی، پلیٹی لیٹس کی کمی کا مزاق حکومتی عملہ بناتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جمہوریت کی بدقستمی ہے کہ یہاں غیر منتخب شدہ لوگ حکمرانوں کے قریب ہوجاتے ہیں، میاں نواز شریف کی جان کو خطرہ ہے، دعا گو ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ ہمارے کو واپسی کے لیے صحت عطا فرمائے، وہ ملک واپس آکر کیسز کا سامنا کریں گے۔

خواجہ محمد آصف نے کہا کہ میاں نواز شریف نے قانون اور آئین کے لیے تاریخی نعرہ دیا ’ووٹ کو عزت دو‘، میاں نواز شریف اب بھی اپنے نظریے پر ماضی کی طرح قائم ہیں، ہمارے خلاف فیصلہ آیا ہے لیکن ہمیں عدالتوں کے فیصلے کا احترام اور دعا ہے کہ میاں نواز شریف کے ڈاکٹرز انہیں اجازت دیں اور وہ وطن واپس آئیں۔

احسن اقبال نےکہا کہ ن لیگ کی سیاست کا مقصد آئین کی بالادستی ہے، ہم پر جو بھی فیصلے آئے ہم نے انہیں قبول کیا، پاناما کے وقت پاناما کو ایک طرف رکھ دیا گیا اور اقامہ پر نااہل کیا گیا، جس کو ہم نے قبول کیا ۔

انہوں نے کہا کہ جب میاں نواز شریف کو پارٹی کے صدر کے حوالے سے فیصلہ آیا، ہم نے اس کو بھی قبول کیا۔

سابق وزیر داخلہ نے کہا کہ ملک میں ایک شخص جیل توڑ کر فرار ہوا جبکہ اس کا ٹرائل علیحدہ رکھا گیا، پرویز مشرف کو سزا ہوئی لیکن دوران مفروری ان کی اپیل پر سماعت ہوئی اور انہیں سزا سے بری ذمے دار قرار دے دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ جنرل پرویز مشرف کے فیصلے کو دیکھتے ہوئے ہمارے تحفظات ہو سکتے ہیں لیکن ہمیں فیصلہ قبول ہے۔

احسن اقبال نے مزید کہا کہ حکومت نے میڈیکل رپورٹس کے حوالے سے کوئی ثبوت پیش نہیں کیا، رپورٹس میں صاف لکھا ہے کہ نواز شریف کا کورونا وائرس کے دوران سفر کرنا جان لیوا ہو سکتا، ہمارا نظام قانون کسی کی صحت کو کیسے دیکھتا ہے، اس کا فیصلہ انگلینڈ کی عدالت کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ ملک سے باہر نواز شریف کو مسلم لیگ ن نے نہیں بھیجا، یاسمین راشد، وزیراعظم عمران خان استعفیٰ پیش کریں کیونکہ انہوں نے نواز شریف کو ملک سے باہر بھیجا۔

سابق وزیرداخلہ نے کہا کہ اندازہ کریں وزیراعظم فرماتے ہیں کہ نواز شریف ایک دو دن کے مہمان ہیں، اس لیے باہر بھیج دو تاکہ گلے نہ پڑ جائے، کروڑوں پاکستانی نواز شریف کو ملک کا ہیرو سمجھتے ہیں، اگر نواز شریف کی جان اللّٰہ نے بچا لی تو حکومت کے پیٹ پر مروڑ اٹھ رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھاکہ وزیراعظم کو جواب دینا چاہیے کہ غریب کیوں مر رہا ہے اور مہنگائی کیوں بڑھ رہی؟ صبح اٹھتے ہیں تو نواز شریف کے حوالے سے سازش اور مقدمات بنانے کا سوچا جاتا ہے جو سازشیں حکومت کر رہی ہے نواز شریف کی عزت پر کوئی فرق نہیں پڑے گا بلکہ وہ سرخ رو ہوں گے۔

شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ کوئی شبہ نہیں کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے قانونی نکات کو ترجیح دی ہے، لیکن مایوسی بھی ہے، نواز شریف نے ہمیشہ عدالتوں کا احترام کیا ہے اور کرتے رہیں گے۔

انہوں نے کہاکہ نواز شریف کی صحت اس میں اہم پہلو ہے اور میڈیکل رپورٹس ہم عوام کے سامنے رکھتے ہوئے ہم عوام پر فیصلہ چھوڑتے ہیں کہ نواز شریف صحیح ہیں یا غلط۔

سابق وزیراعظم نےمزید کہا کہ نواز شریف کا حق ہے کہ وہ اپنا علاج کروائیں، اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ ڈاکٹروں کی رپورٹس بتاتی ہیں کہ نواز شریف کی جان کو خطرہ ہے، نواز شریف کا علاج کورونا وائرس کی وجہ سے تاخیر کا شکار ہوا۔

ان کاکہنا تھا کہ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ اپیلیں چلتی رہیں گی اور ان میں جج ارشد ملک کی اپیل بھی شامل ہے، سب جانتے ہیں کہ جج ارشد ملک کا فیصلہ کیسے ہوا جس پر اسے نکال دیا گیا، حکومت نے نواز شریف کو بلیک میل کرکے سزا دلوائی تو عام آدمی کو کہاں انصاف ملے گا۔

قومی خبریں سے مزید