آپ آف لائن ہیں
جمعرات4؍ ربیع الاوّل 1442ھ 22اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

سی سی پی او لاہور نے سینٹ کمیٹی میں ہاتھ جوڑ لیے


موٹر وے زیادتی کیس میں پولیس کے جائے وقوع پر پہنچنے کا معاملہ معمہ بن گیا، جبکہ سینیٹ کمیٹی کے سامنے سی سی پی او لاہور عمر شیخ نے ہاتھ جوڑلیے اور کہا کہ ایک مرتبہ تمام کمیٹیوں کا مشترکہ اجلاس بلالیں تاکہ وہ ایک ہی بار سب سے مشترکہ معافی مانگ لیں۔

سینیٹر مصطفٰی نواز کھوکھر کی زیرِ صدارت سینٹ کی فنکشنل کمیٹی انسانی حقوق کا اجلاس ہوا۔

طلبی کا نوٹس جاری ہونے کے بعد اجلاس میں سی سی پی او لاہور عمر شیخ کمیٹی کے سامنے پیش ہوئے اور موٹر وے زیادتی کیس میں تحقیقات میں پیش رفت سے آگاہ کیا۔

اس موقع پر انھوں نے کہا کہ ہماری بچیوں اور بیٹیوں کی اس طرح بے حرمتی نہیں ہونی چاہیے، یہ واقعہ ہماری حدود میں ہوا اس لیے ہم ذمہ دار ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ کیس کا مرکزی ملزم بابر ملک مفرور ہے جس پر  رکن کمیٹی عینی مری نے کہا کہ مرکزی ملزم عابد ہے یا بابر آپ تحقیقات کر رہے ہیں لیکن مرکزی ملزم کا نام معلوم نہیں۔


ارکان کمیٹی کی سرزنش پر سی سی پی او لاہور عمر شیخ نے ہاتھ جوڑ لیے اور کہا کہ ایک ساتھ کمیٹیوں کا مشترکہ اجلاس بلا لیں تاکہ وہ ایک ہی بار سب ارکان سے معافی مانگ لیں۔

سی سی پی او لاہور کا کہنا تھا کہ 2 بج کر 47 منٹ پر 15 پر کال کی گئی، پولیس ٹیم 28 منٹ میں وہاں پہنچی۔

اس دوران ارکانِ کمیٹی بولے کہ پولیس کے بیان میں تضاد ہے، گزشتہ اجلاس میں بتایا گیا تھا کہ پولیس 6 منٹ میں پہنچی جبکہ آپ کہہ رہے ہیں پولیس 28 منٹ میں پہنچی۔

اس پر سی سی پی او لاہور نے کہا کہ 6 منٹ میں امریکا کی پولیس بھی جائے وقوعہ پر نہیں پہنچ سکتی ہم کیسے پہنچ گئے؟

انہوں نے کمیٹی کو بتایا کہ وہ پولیس میں کورٹ مارشل کا نظام بھی متعارف کروا رہے ہیں۔

قومی خبریں سے مزید