آپ آف لائن ہیں
بدھ9؍ربیع الثانی 1442ھ25؍نومبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

تانپورے اور تنبورے

پطرس بخاری ریڈیو اسٹیشن کے ڈائریکٹر تھے ۔ایک مرتبہ مولانا ظفر علی خاں صاحب کو تقریر کے لئے بلایا ،تقریر کی ریکارڈنگ کے بعد مولانا پطرس کے دفتر میں آ کر بیٹھ گئے۔ بات شروع کرنے کی غرض سے اچانک مولانا نے پوچھا: ’’ پطرس یہ تانپورے اور تنبورے میں کیا فرق ہوتا ہے؟‘‘ پطرس نے ایک لمحہ سوچا اور پھر بولے: ’’مولانا آپ کی عمر کیا ہو گی؟‘‘ اس پر مولانا گڑ بڑا گئے اور بولے: ’’بھئی ،یہی کوئی 75سال ہو گی۔‘‘ پطرس کہنے لگے: ’’ مولانا جب آپ نے 75 سال یہ فرق جانے بغیر گزار دئیے، تو دو چار سال اور گزار لیجئے ‘‘۔

سعادت مند

ایک بار کسی نے مجاز سے پوچھا: “کیوں صاحب! آپ کے والدین آپ کی رِندانہ بے اعتدالیوں پر کچھ اعتراض نہیں کرتے؟” مجاز نے کہا: “جی نہیں۔” پوچھنے والے نے کہا: “کیوں؟” مجاز نے کہا: “لوگوں کی اولاد سعادت مند ہوتی ہے، مگر میرے والدین سعادت مند ہیں۔‘‘

کشتِ زعفران

پنڈت برج موہن دِتاتر یہ کیفی دہلوی ایک بار لکھنو گئے تو ان کی اعزاز میں محفل شعر و سخن سجی۔ حامد علی خان بیرسٹر ایٹ لاء جو شعر و سخن کا اچھا ذوق رکھتے تھے۔ محفل میں موجود تھے، ان سے غزل یا نظم کی فرمائش کی گئی تو انہوں نے کیفی دہلوی کے کان کے پاس منھ لے جا کر یہ ’’شعر کہا:

اکتہر، بہتر، تہتر، چوہتر

پچھتر، چھہتر، ستتر، اٹھتر

اس مذاق پر کیفی دہلوی نے خوش دلی سے داد دی۔ آخر میں جب کیفی صاحب سے کلام سنانے کی فرمائش کی گئی تو انہوں نے بیرسٹر حامد علی خان کے کان کے پاس اپنا منہ لے جا کر کہا:

اکیاسی، بیاسی، تراسی، چوراسی

پچاسی، چھیاسی، ستاسی، اٹھاسی

اس پر ساری محفلِ سخن کشتِ زعفران بن گئی اور یہ لطیفہ زندہ رہ گیا۔

ڈرانے کے لیے

لکھنؤ کے ایک مشاعرے میں جگر مراد آبادی غزل پڑھ رہے تھے۔ ان کے ایک قریبی دوست جب ان کی تصویر کھینچنے لگے، تو جگر صاحب بولے “میر تصویر ایسی نہیں آتی کہ تم گھر میں سجا سکو۔“ (جگر صاحب بہت کالے تھے)۔

ان کے دوست نے کہا “تصویر سجانے کے لیے نہیں، بچوں کو ڈرانے کے لیے لے جا رہا ہوں۔“

ٹکٹ

مشہور افسانہ نگار راجندر سنگھ بیدی ریل میں سفر کر رہے تھے ۔ دورانِ سفر ٹکٹ چیکر نے ان سے ٹکٹ مانگا تو بیدی صاحب نے اپنی جیبیں ٹٹولیں مگر ٹکٹ کا پتا نہیں تھا ۔

ٹکٹ چیکر بیدی صاحب کو پہچانتا تھا ۔ کہنے لگا " مجھے آپ پر بھروسہ ہے ، آپ نے یقیناً ٹکٹ خریدا ہوگا ۔"

بیدی صاحب پریشانی سے بولے " بھائی ! بات آپ کے بھروسے کی نہیں ، مسئلہ تو سفر کا ہے ۔ اگر ٹکٹ نہ ملا تو یہ کس طرح معلوم ہوگا کہ مجھے اُترنا کہاں ہے ۔ ؟ "