آپ آف لائن ہیں
بدھ9؍ربیع الثانی 1442ھ25؍نومبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

شمیم حنفی

بیسویں صدی کو تاریخ کی پُر تشدد صدی کہا جاتا ہے۔اس صدی نے انسان کو تشدد کے نت نئے راستوں پر لگا دیا۔تہذیبی ،لسانی ،سیاسی ،جذباتی تشدد کے کیسے کیسے مظہر اس صدی کی تہہ سے نمودار ہوئے۔حد تو یہ ہے کہ اس صدی کی اجتماعی زندگی کے عام اسالیب تک تشدد کی گرفت سے بچ نہ سکے ۔اس عہد کی رفتار، اس کی آواز،اس کے آہنگ اور فکر ، ہر سطح پر تشدد کے آثار نمایاں ہیں۔

ادب خاموشی،تنہائی اور دھیمے پن کی شاخِ زرّیں سے پھوٹتا ہے اور ہر بڑی تخلیقی روایت کا ظہور فن کا رانہ ضبط ، ٹھہراؤ اور تحمل کی تہہ سے ہوتا ہے۔ایک بے قابو اور بے لگام معاشرے میں جو اپنی رفتار ،اپنی آواز، اپنے اعصاب اور حواس کو سنبھالنے کی طاقت سے محروم ہوچکا ہو، آرٹ اور ادب ایک طرح کے دفاعی مورچے کی حیثیت رکھتے ہیں۔

معروف ادیب آندرے مالرو نے کہا تھا،’’اگر ہمیں فکر کا ایک گہرا ،بامعنی، مثبت اور انسانی زاویہ اختیار کرنا ہے تو لامحالہ ہمیں دو باتوں پر انحصار کرنا ہوگا ۔ایک تو یہ کہ زندگی بالآخر ہمارے اندر ایک طرح کا المیاتی احساس پیدا کرتی ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم اپنی تمام فکری اور مادّی کامرانیوں کے باوجود یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ ہم کہاں جا رہے ہیں۔دوسرے یہ کہ ہمیں بہرحال انسان دوستی کے تصور کا سہارا لینا ہوگا، کیونکہ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ ہم نے اپنا سفر کہاں سے شروع کیا تھا اور ہم کہاں پہنچنا چاہتے ہیں۔‘‘گویا انسان دوستی کا احساس تخلیقی تجربے کی بنیاد میں شامل ہے ۔ مشرق کی ادبی روایت تو اپنی تاریخ کے کسی دور میں صرف زبان و بیان کی خوبیوں کی پابند نہیں رہی۔

ہر زمانے میں یہاں بلند تہذیبی اور اخلاقی قدریں شاعری کے لیے ضروری سمجھی جاتی رہیں ۔مغربی تہذیب کی بنیادیں اور اس تہذیب کا پروردہ تصور حقیقت مختلف سہی لیکن مشرق و مغرب کی ادبی ثقافت میںبہت کچھ مشترک بھی ہے۔ معروف انگریزی ادیب فورسٹر نے ایک سیدھی سادی بات یہ کہی تھی ،’’کہ ادب اور آرٹ ہمیں جانوروں سے الگ کرتے ہیں اور طرح طرح کی مخلوقات سے بھری ہوئی اس دنیا میں ہمارے لیے ایک بنیادی وجہ امتیاز پیدا کرتے ہیں۔یہی امتیاز ادب اور آرٹ کو اس لائق بناتا ہے کہ اسے اس کی خاطر پیدا کیا جائے۔فورسٹر نے اسی ضمن میں یہ بھی کہا تھا کہ ایک ایسی دنیا جو ادب اور آرٹ سے خالی ہو میرے لیے ناقابل قبول ہے اور مجھے اس دنیا میں اپنے دن گزارنےکی کوئی طلب نہیں ہے۔گویا کہ انسانی تعلقات کے احساس کے بغیر آرٹ ،ادب اور زندگی سب ہی بے معنی اور کھوکھلے ہوجاتے ہیں۔

سائنسی اور سماجی علوم کے برعکس ،ادبی روایات کی پائیداری اور استحکام کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ انسانی تجربے کے جن عناصر سے یہ روایتیں مالا مال ہوتی ہیں ،وہ نئی دریافتوں اور نئے نظریات کے چلن کی وجہ سے کبھی ناکارہ نہیں ہوسکتیں۔بہت محدود سطح پر سہی لیکن ادب اور آرٹ کی روایتیں اجتماعی زندگی کے ارتقا میں اپنا رول ادا کرتی رہتی ہیں۔

بہ قول ایلیٹ ،’’ایک انوکھا اتحاد انسانی تاریخ کے مختلف زمانوں سے تعلق رکھنے والی روحوں کو ایک صف میں یکجا کردیتا ہے،بظاہر اجنبی اور پرانی آوازوں میں نئے انسان کو اپنی روح کا نغمہ بھی سنائی دیتا ہے‘‘۔رومی، حافظ، شیکسپیئر ،غالب، اقبال اور ٹیگور ایک ساتھ صف بستہ ہوجاتے ہیں۔

انسان دوستی کے تصور کی بھی کئی سطحیں ہیں،مذہبی ،سماجی اور سیاسی۔ادب میں انسان دوستی کا تصور ان میں سے کسی بھی سطح کا تابع نہیں ۔سیاسی،سماجی،مذہبی نظام کے تحت انسان دوستی کا تصور کسی نہ کسی مرحلے میں ایک طرح کی براہ راست یا بالواسطہ مصلحت کا شکار بھی ہوسکتا ہے، جہاں اسے وہ آزادی ہر گز میسر نہ آسکے گی ،جس تک رسائی صرف ادب کےذریعے ممکن ہو سکتی ہے۔ادب ہمیں بتاتا ہے کہ انسان کی روحانی طلب صرف مرئی ،ٹھوس اور مادّی چیزوں تک محدود نہیں ہوتی۔بلکہ وہ ایسی چیزیں سمجھنا چاہتا ہے جو بہ ظاہر کام کی نہیں ہوتیں اور جن سے روز مرہ زندگی میں ہماری کسی ضرورت کی تکمیل ممکن نہیں۔

مثلاََ فلسفہ اور نفسیات انسان اظہار کی ایسی ہیئتیں وضع کرنا اورایسی ’’چیزیں‘‘بنانا چاہتا ہےجو منطق سے ماوارہوتی ہیں ۔ایک ادیب اور آرٹسٹ جو تخلیقات وضع کرتا ہے،اس کا مفہوم صرف مروجہ سماجی ضابطوں اور معیاروں کی مدد سے متعین نہیں کیا جاسکتا۔گہری انسانی دوستی کا تصور ادیب یا آرٹسٹ کی اپنی تخلیقی آزادی کے شعور سے پیدا ہوتا ہے، ایسی صورت میں اس کے دل و دماغ پر کسی بیرونی جبر کا دباؤ نہ ہو۔وہ اپنے ضمیر کی عدالت میں اپنے آپ کو آزاد محسوس کرے ،وہ اپنی بات کسی مصلحت ، خوف ،اندیشے یا لالچ کے بغیر کہہ سکے۔وہ اپنی صلاحیتوں ،احساسات کو اور اپنے ہی تصور کی طرح ،انسانی ہمدردی کے تصور کو بھی دوسروں کا مطیع وماتحت نہ بنا دے۔ادیب اسی طرح کے فکری ،نظریاتی ،سماجی،مذہبی جبر کی پرواہکیے بغیر اپنے احساسات پروارد ہونے والی تخلیقی سچائیوں کو دوسروں تک پہنچانا چاہتا ہے۔

انسان دوستی کا تصور چودہویں اور پندرہویں صدی عیسوی کے دوران با ضابطہ طور پر رواج پا چکا تھا اور علوم کے اس دائرے میں، جسے’’ انسانی مطالعات‘‘ کا نام دیا گیا،یہ تصور نامانوس اور اجنبی نہیں تھا۔ہر علمی،ادبی، تہذیبی،تخلیقی روایت کے مرکز میں انسان دوستی کے عنصر کو ایک بنیادی محرک کی حیثیت حاصل رہی ہے۔چھوٹے چھوٹے وقوعوں لطیفوں کی بیرونی پرت رکھنے والے افسانچوں پر مشتمل منٹو کا مجموعہ’’سیاہ حاشیے‘‘کے نام سے اکتوبر 1948ء میں شائع ہوا تھا۔

منٹو نے تو اجتماعی وحشت اور دیوانگی کے اس ماحول میں ہندواور مسلم سے بے نیاز ہوکر انسانوں کو سمجھنے کی کوشش کی۔اس حقیقت کے باوجود کہ تقسیم کے سانحے کا اثر براہ راست منٹو کی زندگی پر بھی گہرا پڑا،اس نے اپنی حالت اور اس فضا میں اپنے باطن کی زمین پر اٹھنے والے سوالوں کا احاطہ ان لفظوں میں کیا،

’’اب میں سوچتا ہوں کہ میں کیا ہوں اس ملک میں جسے دنیا کی سب سے بڑی اسلامی مملکت کہاجاتاہے، میرا کیا مقام ہے۔میرا کیا مصرف ہے۔آپ اسے افسانہ کہہ لیجئے،مگر میرے لیے یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ میں ابھی تک خود کو اپنے ملک میں جسے پاکستان کہتے ہیں اور جو مجھے بہت عزیز ہے،اپنا صحیح مقام تلاش نہیں کرسکا، یہی وجہ ہے کہ میری روح بے چین رہتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ میں کبھی پاگل خانے اور کبھی اسپتال میں ہوتا ہوں۔‘‘

منٹو نے صرف یہ دیکھنے کی کوشش کی کہ ظالم یا مظلوم کی شخصیت کے مختلف تقاضوں سے ظالمانہ فعل کا کیا تعلق ہے۔ظلم کرنے کی خواہش کے علاوہ ظالم کے اندر اور کون کون سے میلانات کارفرما ہیں۔انسانی دماغ میں ظلم کتنی جگہ گھیرتا ہے،زندگی کی دوسری دلچسپیاں باقی رہتی ہیں یا نہیں ،منٹو نے نہ تو رحم کے جذبات بھڑکائے نہ غصے کے اور نہ نفرت کے۔ وہ تو آپ کو صرف انسانی دماغ ،انسانی کردار اور شخصیت پر ادبی اور تخلیقی انداز سے غور کرنے کی دعوت دیتے ہیں ۔اگر کوئی جذبہ پیدا کرنے کی فکر میں ہیں تو صرف وہی جذبہ جو ایک فنکارکو پیدا کرنا چاہیے،یعنی زندگی کے متعلق بے پایاں تحیر اور استعجاب۔

ادب میں انسان دوستی کے تصور کی سب سے گہری اور پائدار جہت دراصل اسی زاویے سے نکلتی ہے ۔رقت خیزی یا ترحم یا مثال پرستی کی سطح سے یہ سطح بالکل الگ ہے اور اپنے لازوال انسانی عنصر کے ساتھ ساتھ لکھنے والے کی اپنے حقیقی منصب (یعنی تخلیقی عمل)کے تیئں دیانت داری اور ذمے داری کے احساس کی گواہی بھی دیتی ہے۔انسان دوستی کا زاویہ یہ بھی ہے اور اس زاویے تک رسائی کے لیے منٹو نے صرف اپنی بصیرت کو رہنما بنایا ۔ ادب کا مطالعہ پہلے سے طے شدہ کسی سیاسی ،سماجی یا علمی دستاویز کا نعم البدل نہیں ہوتا۔