آپ آف لائن ہیں
بدھ6؍ جمادی الثانی 1442ھ 20؍جنوری 2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

مجھے اس جنگل میں گھومتے ہوئے دو گھنٹے ہو گئے تھے ، شاید میں راستہ بھول چکا تھا ۔ ٹھنڈ میری ہڈیوں میں سرایت کر چکی تھی اور خون رگوں میں جم چکا تھا ۔ شہرکے نواح میں واقع اِس جنگل کی سیر کا مشورہ مجھے میرے ایک دوست نے دیا تھا ۔

اُس نے کہا تھا کہ اگر میں نے جنگل میں خیمہ لگا کر رات نہ گزاری تو سمجھو زندگی میں کوئی ایڈونچر نہیں کیا۔ مجھے ایڈونچر سے نفرت ہے ، خاص طور پر ایسے ایڈونچر سے جس سے بچ نکلنے کا کوئی متبادل طریقہ نہ ہو۔ خیر اب کیا ہو سکتا تھا۔ شام ہو چکی تھی ، کچھ ہی دیر میں اندھیرا چھانے والا تھا اور سردی بڑھتی جا رہی تھی ۔ 

میں نے جیکٹ کے تمام بٹن ایک مرتبہ پھر ٹٹولے ، سب اوپر تک بند تھے۔ خوش قسمتی سے میں چمڑے کے دستانے پہننا نہیں بھولا تھا اور سفری تھیلا بھی میرے پاس تھا جس میں چند ضروری ادویات اور چھوٹا سا پاور بینک بھی تھا ۔ میں نے ایک مرتبہ پھر اپنے موبائل کی بیٹری چیک کی ، اُس کی طاقت تو ٹھیک تھی مگر رابطے کے سگنل مفقود تھے۔ 

دل میں سوچا کہ اگر اِس جنگل میں بغیر آگ کے رات گزارنی پڑی تو کہیں میرا حال بھی جیک لنڈن کے افسانے To build a fireکے مرکزی کردار جیسا نہ ہو۔ مجھے ایک جھرجھری سی آ گئی ۔میں نے ادھر ادھر دیکھنے کی کوشش کی ، اندھیرا آہستہ آہستہ بڑھتا جا رہا تھا۔جنگل میں مکمل خاموشی تھی ،فقط میرے جوتوں کے نیچے پتوں کے چرمرانے کی آواز سناٹے کا سینہ چیر رہی تھی ۔ 

میں نے جیب میں سے سگریٹ نکالے اور لائٹر سے ایک سگریٹ سلگا لیا۔ لائٹر کی ہلکی سی آنچ نے ایک لمحے کے لیے خوشگوار حدت پیدا کی ، میں نے سوچا کیوں نہ یہیں پتوں اور ٹہنیوں کو آگ لگا کر جسم کو تھوڑا گرما لیا جائے ، مگر پھر یہ ارادہ ترک کر دیا۔ مجھے اِس جنگل سے جلد از جلد باہر نکل جانا چاہیے ۔

میں دل ہی دل میں اُس وقت کو کوسنے لگا جب میں نے جنگل کی سیر کا منصوبہ بنایا تھا۔آخر اِس کی تُک ہی کیا تھی! لوگ تفریح کے لیے بھری پُری جگہوں پہ جاتے ہیں ،شہر کی سڑکوں پر گھومتے ہیں ، کیفے میں کھانا کھاتے ہیں،شاپنگ کرتے ہیں ، تصویریں بناتے ہیں اور واپس چلے جاتے ہیں ۔ 

نہ جانے وہ کون سا منحوس لمحہ تھا جب میں نے جنگل میں قدم رکھا تھا۔

شام اب رات میں ڈھل چکی تھی ۔ پہلی مرتبہ مجھے حقیقی معنوں میں خوف محسوس ہوا ۔اِس سے پہلے میں کچھ حوصلے میں تھا، میرا خیال تھا کہ جنگل میں کوئی نہ کوئی مجھے ضرور مل جائے گا جو میری رہنمائی کرکے مجھے یہاں سے باہر نکال لے جائے گا یا پھر مجھے یہ خوش فہمی تھی کہ میں کبھی بھٹک نہیں سکتا اور تھوڑی بہت پریشانی کے بعد مجھے راستہ ضرور نظر آجائے گا مگر فی الحال تو دور دور تک کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ میں نے سوچا اگر میں یہاں مر گیا تو کیا ہوگا۔

میری تلاش کے لیے پولیس کی ٹیمیں بھیجی جائیں گی ،میرے دوست سے انہیں پتا چلے گا کہ میں اِس جنگل کی سیر کے لیے نکلا تھا ۔ کیا میرا دوست اب تک پریشان نہیں ہو گیا ہوگا؟میں نے گھڑی پہ وقت دیکھا ، مجھے اِس جنگل میں گھسے ہوئے تین گھنٹے ہو چکے تھے ۔ 

مجھے یا د آیا کہ میں نے اپنے دوست سے جنگل اور دریا کی سیر کا ذکر ضرور کیا تھا مگر یہ نہیں بتایا تھا کہ میں کس دن اور کس وقت جاؤں گا۔ فورا ً ہی ایک اورخیال نے مجھے مزید خوفزدہ کر دیا۔ 

اب مجھے یاد آ رہا تھا کہ میرے دوست نے کہا تھا کہ وہ ویک اینڈ پر فارغ ہوگا تو اسی دن وہ میرے ساتھ جا سکے گا۔ مگر میں تو اسے بتائے بغیر ہی یہاں آ گیا تھا۔اب کیا ہوگا؟ پولیس بھی میری تلاش میں اسی وقت آئے گی جب میرے دوست کو تشویش ہوگی کہ میں کہیں کھو گیا ہوں۔ 

اسے کیا پتا کہ میں جنگل میں بھٹک رہا ہوں!جنگل اور دریا ہمیشہ مجھے اپنی طرف کھینچتے ہیں۔جب مجھے اِس جنگل کا علم ہوا کہ اِس کے بیچوں بیچ دریا بہتا ہے تو میں نے فوراً یہاں آنے کا منصوبہ بنا لیا تھا۔ 

تصویروں میں دریا میں کشتیاں چلتی ہوئی دیکھ کر یہ اطمینان بھی ہو گیا تھا یہ کوئی ایسی ویران جگہ بھی نہیں ۔بلکہ آج سہ پہر کو جب میں جنگل میں داخل ہوا تھا تو اچھے خاصے لوگ دریا کی سیر کے لیے آئے ہوئے تھے ، کچھ لوگوں کے پاس میں نے خیموں کا سامان بھی دیکھا تھا۔

آخر وہ لوگ بھی تو یہیں کہیں ہوں گے ، انہوں نے بھی تو را ت اسی جنگل میں بسر کرنی ہوگی، کاش کہیںکوئی خیمہ نظر آ جائے تو میری پریشانی کچھ کم ہو۔ میں نے ایک مرتبہ پھر اپنا موبائل فون نکال کر دیکھا ، رابطے کا کہیں نشان نہیں تھا۔ میں نے مایوس ہو کر سگریٹ سلگا لیا۔

شکر ہے کہ لایٹر کی گیس کم نہیں ہوئی تھی ۔ اگر کہیں آگ جلانی پڑی تو کام بن جائے گا۔

میں نے اونی مفلر کو اپنی گردن کے گرد لپیٹ کر اس بات کو یقینی بنایا کہ کہیں میری گردن کو سرد ی نہ لگے ۔لیکن فوراً ہی مجھے احساس ہوا کہ میری یہ کوشش ناکافی ہے ۔ اس سے پہلے مجھے جنگل کی سردی کا کوئی تجربہ نہیں تھا، ویسے بھی یہ جنگل تو ملک کے ایسے حصے میں تھا جہاں گرمیوں میں بھی موسم کچھ سرد ہی رہتا ہے۔

موت کا خوف کیا ہوتا ہے ، اِس کا احساس مجھے اس سے پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔میں نے موت کے بارے میں سوچا ضرور تھا مگر ایسی کسی موت کا کبھی تصور نہیں کیا تھا۔لیکن شاید کوئی بھی ایسی موت کا تصور نہیں کرتا،اپنی نارمل زندگی میں ایک جیتا جاگتا انسان کیوں اذیت ناک موت کے بارے میں سوچے گا؟

اچانک مجھے ایک خوفناک احساس ہوا، مجھے لگا جیسے میں جنگل میں تنہا نہیں ہوں بلکہ میرے ساتھ لاکھوں روحیں یہاں موجود ہیں ، اُن تمام لوگوں کی روحیں جو ان دیکھی اور سفاک موت کا شکار ہوئے ۔

اِس خیال نے میرے جسم پر کپکپی طاری کر دی ، شدید سردی کے عالم میں بھی میرا جسم پسینے میں نہا گیا ، میں نے اپنے ماتھے پر ہاتھ پھیرا مگرمجھے کسی قسم کے لمس کا احساس نہیں ہوا۔

مجھے لگا کہ میں مر چکا ہوں اور میری روح بھی ان لاکھوں کروڑوں بے بس لوگوں کی روح کے ساتھ جنگل میں بھٹک رہی ہے !

تازہ ترین