• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سال 2020ء آخری سانسیں لے رہا ہے۔ یہ سال پاکستان سمیت دنیا بھر میں بڑا بھاری گزرا، کورونا کی وباء الجھی سانسوں کی ڈوریں کاٹتی رہی لیکن جوشیلے نوجوان اپنے میں مگن رہے۔ ان کی آئینہ سی آنکھوں میں خواب جھلملاتے رہ مگر وہ اس مصرعے کی مانند نظر آئے:

؎ زندگی خاک نہ تھی ، خاک اڑاتے گزری

ہاتھوں میں ڈگریاں لیے روزگار کی تلاش میں مارے مارے پھرتے نوجوانوں نے سکون کی تلاش میں نشے کو اپنا لیا۔ تنکوں کو چن کر اپنا گھونسلہ بنانے کے بجائے اپنے ڈھنگ اور وژن سے نیا آشیانہ بناتے بناتے سال بیتا دیا۔ مایوسی، اضطراب کے گرداب میں بھٹکتے دنیا سے نظریں چراتے رہے۔ پاکستان سمیت دینا بھر میں نوجوانوں کی صورت حال 2020ء میں کیسی رہی، یہ جاننے کے لیے مختصراً جائزہ نذر قارئین ہے۔

 پاکستان کی مجموعی آبادی کا 64 فیصد حصہ پندرہ سے تیس سال کے نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ 2018 کے عام انتخابات میں ملک میں نوجوانوں کی بڑی تعداد بہت سرگرم تھی اور ان کی اُمیدیں موجودہ حکومت کے قائد سےکچھ زیادہ ہی تھیں، مگر جوں جوں وقت گزرتا گیا اُمیدیں دم توڑتی گئیں۔ نوجوان طبقہ کا وہ جوش و خروش جو دو سال قبل دکھائی دیاتھا وہ 2020 میںشدید مایوسی میں بدل چکا ۔اُس وقت ہرنوجوان اور بزرگ ملکی حالات سے سخت نالاں تھے۔ نوجوان تبدیلی کے نعرے لگا رہے تھے،اُن کی رہنمائی کرنے کے دعویدار نئے پاکستان کے تصور کی باتیں کر رہے تھے، مگروقت گزرنے کے ساتھ تمام دعوے پانی کی تحریر ثابت ہوئے ۔ صرف نوجوان ہی نہیں بلکہ عوام کی اکثریت شدید اضطراب کا شکار رہی ۔

ہمارے رہنما، دانشور اور اشرافیہ کی سرکردہ شخصیات نوجوان کو مستقبل کا معمار کہتی ہیں اور وعدے بھی بڑے بڑے کرتی ہیں، مگر نتیجہ صفر نکلتا ہے، اس تگ و دو میں 73 سال بیت چکے ہیں،اب تو چوتھی نسل بڑی ہو رہی ہے۔ لیکن آج بھی پاکستان میں نوے فیصد نوجوانوں کو تفریحی اور کھیلوں کی سہولت حاصل نہیں ہے۔ ماضی میں اسکولوں اور کالجوں کے کھیلوں کے مقابلے ہوتے تھے مگر اب یہ بھی ختم ہوگئے ہیں۔ 

پارکوں، کھیلوں کے میدانوں پر لینڈ مافیا کے قبضے ہیں۔ گرچہ فون اور کمپیوٹر کے استعمال سے ٹیکنالوجی کے متعلق آگہی میں قدرے اضافہ ہو رہا ہے۔ مگر اس کا دوسرا رُخ یہ ہے کہ طلبا میں کتاب پڑھنے کا رجحان کم سے کم ترین ہوتا جا رہا ہے۔ لکھنے پڑھنے سے زیادہ سننے اور دیکھنے کا رجحان زور پکڑ رہا ہے۔ اس کی وجہ تعلیم کا فقدان ہے۔ معیارِ تعلیم میں شدید گراوٹ ،نوجوانوں میں امتحانات میں نقل کرنے کے رجحان میں روز بروز اضافہ، تیار شدہ غیر معیاری نوٹس پر اکتفا ہے۔ اس کا ذمہ دار نظام تعلیم ہے۔

نوجوانوں کو نہ گھر سے نہ اسکول کالج یا یونیورسٹی سے کوئی درست رہنمائی حاصل ہوتی ہے،جیسے تیسے تعلیم مکمل کرکے جب وہ میدان عمل کا رُخ کرتے ہیں تو ان کے ذہن میں بہت سی خواہشات، بہت سے وسوسے سر اُٹھاتے ہیں۔ انہیں یہ معلوم نہیں ہوتا کہ کرنا کیا چاہئے۔ ملک میں ایسا کوئی منظم ادارہ نہیں جو نوجوانوں کی رہنمائی کر سکے۔ طلبا کی ایک بڑی تعداد تعلیم کی تکمیل کے بعد گومگو کا شکار رہتی ہے۔ 

یہی صورت حال کالجوں اور جامعات میں داخلے کے وقت پیش آتی ہے کہ کس مضمون کا انتخاب کیا جائے۔ کونسلنگ کے نظام میں ماہرین طلبا کی صلاحیتوں اور رجحان سے انہیں مضامین کے انتخاب کا مشورہ دیتے ہیں۔ اسی طرح ملازمتوں کے حصول کے لئے بھی نوجوانوں کو شعبہ منتخب کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ بالخصوص انٹرمیڈیٹ کے بعد طلبا کو کالجوں میں داخلے کے لئے ، مضامین کے انتخاب کے لئے مشورہ کی ضرورت ہوتی ہے، مگر افسوس ، ہمارے ملک میں تعلیم کو ہی اہمیت نہیں دی جاتی تو مزید ضروری اقدام پر کون غور کرے گا۔

بیسویں صدی کے اوائل میں پورے یورپ میں طلبا کی کونسلنگ کے ادارے قائم کئے گئے تھے۔ جرمن، فرانس، ہالینڈ، برطانیہ اور دیگر ممالک میں بچوں کے نرسری میں داخلے کے وقت اور نرسری کے بعد اسکول میں باقاعدہ تعلیمی شروعات کے وقت بچے کے رجحانات کا پتہ چلایا جاتا تھا اور اس کے مطابق اس کو مضامین پڑھائے جاتے تھے۔ 

بعدازاں ہائی اسکول کے بعد کی کونسلنگ میں طالب علم یا طالبہ کو کون سی ملازمت یا کون سا مضمون اعلیٰ تعلیم کے لئے مناسب ہو گا اس کا بھی مشورہ دیا جانے لگا۔ مغربی ممالک کی ترقی میں سب سے زیادہ تعلیم، تحقیق اور تنوع پر زور دیا جاتا ہے اور اس ضمن میں نوجوان طلبا کو مناسب مشوروں سے نوازا جاتا ہے۔ یہی ان ممالک کی ترقی کا راز ہے۔ والدین اپنی مرضی اولاد پر نہیں ٹھونستے۔ نوجوانوں کے رجحان اور شوق کو ترجیح دی جاتی ہے۔ ہر سال پاکستان میں ڈھائی سے تین لاکھ طلبا کونسلنگ سے محروم رہتے ہیں۔ 

ہر سال چالیس سے چھیالیس ہزار طلبا میڈیکل میں داخلے کے لئے ٹیسٹ دیتے ہیں۔ اور صرف پانچ ہزار طلبا کو داخلہ ملتا ہے۔ انجینئرنگ میں داخلے کے لئے ہر سال ستر ہزار سے پچھتر ہزار طلبا داخلہ ٹیسٹ دیتے ہیں، مگر صرف سات ہزار دو سو طلبا کو داخلہ مل پاتا ہے، جبکہ ڈیڑھ سے دو لاکھ طلبا ہر سال داخلے کے وقت تذبذب کا شکار ہوتے ہیں اور یہ فیصلہ نہیں کر پاتے کہ کالج میں کس مضمون کا انتخاب کریں۔اس صورت میں2020 میں کچھ زیادہ ہی اضافہ ہوا، ویسے بھی اس سال تو تعلیمی سلسلہ نہ ہونے کے برابر تھا، وجہ کرونا، لاک ڈاؤن ٹہری۔بہر حال مجموعی طور پر2020 کی صورت حال دیکھیں تو اندازہ ہوگا کہ پاکستان میں شہری اور دیہی علاقوں کے نوجوانوں میں بڑا فرق پایا جاتا ہے۔ 

جیسے تعلیم، نوجوانوں اور سہولیات کی بات کی جاتی ہے وہ شہری نوجوانوں کو دی جاتی ہے، جبکہ دیہی علاقوں میں شہری علاقوں سے زائد نوجوان رہتے ہیں ان میں سے قطعی اکثریت جدید تعلیم اور سہولیات سے محروم رہے۔ 5 سے 12 سال کے بچوں کی بڑی تعداد دینی مدرسوں میں چلی جاتی ہے۔ وہ والدین کا ہاتھ بٹانے کے لیے محنت مزدوری کرتےہیں۔ دیہی علاقوں میں تعلیمی سہولیات کا شدید فقدان ہے کیونکہ پاکستان کے معاشرے میں بڑے زمیندار جاگیردار، وڈیرے اور قبائلی سرداروں، پیر و مرشدوں کا بہت گہرا اثر اور عمل دخل شامل ہے۔ یہ اشرافیہ کا طبقہ تعلیم کے خلاف ہے۔ انہیں خدشہ ہے تعلیم عام ہونے کی صورت میں نوجوان انصاف، مساوات اور جمہوریت کے لئے آواز اٹھائیں گے اور ملک میں تبدیلی کی ، نئی لہر جنم لے گی۔ 

اس لئے وہ جدید تعلیم کے خلاف اور دینی مدارس کی حمایت کرتے ہیں۔ دیہی اسکولوں کی حالت بہت خراب ہے۔ اساتذہ سفارش پر بھرتی کئے جاتے ہیں۔ جن کو خود تعلیم کی ضرورت ہوتی ہے وہ محض تنخواہ وصول کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ ویسے ملک بھر میں یہ تنقید عام ہے کہ جو طلبا شہروں میں اعلیٰ تعلیم حاصل کر کے سند حاصل کرتے ہیں۔ ان میں سے اکثر طلبا سند کے اعتبار سے اس معیار پر پورے نہیں اُترتے۔ انہیں اُردو اور انگریزی لکھنے پڑھنے اور بولنے کی استدعا بہت کم ہوتی ہے اور اپنے مضامین کی بھی کم تر معلومات رکھتے ہیں۔کالجوں اور جامعات میں ہم نصابی سرگرمیوں کا بھی بڑا فقدان ہے۔ بہت کم تعلیمی ادارے اور اسکول اس اہم ترین شعبے پر توجہ دیتے ہیں۔

بے روزگار نوجوان

پاکستان میں سال 2020 کے اعداد و شمار کے بموجب بے روزگار نوجوانوں کی تعداد9 فیصد کے قریب ہے۔خواندگی کی شرح 57 فیصد ہے۔ اس میں دستخط کرنے کی صلاحیت رکھنے والےبھی شامل ہیں۔ پاکستان میں 23 ملین بچے جن کی عمریں پانچ سے سولہ برس ہے، وہ 2020 میں بھی اسکول نہیں جاتے تھے۔ ملک میں خواتین اور لڑکیوں میں شرح خواندگی کم ہے۔ دُنیا میں خواندگی کی شرح کے مطابق پاکستان کا شمار 120 ممالک میں 113 نمبر پر ہوتا ہے۔ پاکستان متواتر ان ممالک کی فہرست میں بہت نمایاں چلا آرہا ہے۔ تعلیم پر سب سے کم بجٹ مختص کرتے ہیں اس لئے تعلیمی شعبہ مسلسل نظر انداز کیا جاتا رہا ہے۔ تعلیم کے ساتھ تحقیق بہت اہم ہے۔ 

یورپ کی ترقی تحقیق سے منسلک ہے۔ یورپ، امریکہ اور دیگر ترقی یافتہ ممالک جیسے جاپان، آسٹریلیا اور جنوبی کوریا تعلیم اور تحقیق پر اپنی جی ڈی پی کا سالانہ 3تا6 فیصد خرچ کرتے ہیں اور محنتی و ذہین طلبا کو وظائف دیئے جاتے ہیں۔

درحقیقت اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لئے والدین یا حکومت جو رقم نوجوانوں پر خرچ کرتی ہے۔ وہ مستقبل کی سرمایہ کاری ہے، جس کا ثمر ملک اور قوم کو انفرادی اور اجتماعی طور پر حاصل ہوتا ہے۔ ہمیں اس نکتہ کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ تعلیم اور تحقیق پر جو رقم خرچ کی جائے گی وہ روشن مستقبل کی ضمانت ہے۔

سگریٹ نوشی، الکوہل اور منشیات کا استعمال بھی تیزی سے بڑھا

2020میںپاکستان کے نوجوانوں میں سگریٹ نوشی، الکوہل اور منشیات کا استعمال بھی تیزی سے بڑھا۔ یہ خطرناک رجحان ہے۔ حکومت اور سول سوسائٹی کو اس مسئلے سے پوری سنجیدگی سے نمٹنے کی ضرورت ہے۔ نشے کی طرف کوئی فرد اس وقت مائل ہوتا ہے۔ جب وہ بہت زیادہ ذہنی الجھنوں، مسائل یا اعصابی دباؤ کا شکار ہوتا ہے۔ 

نوجوان ایک دوسرے کو دیکھ کر بھی ان برے اطوار کا شکار ہو جاتے ہیں یاخراب صحبت میں پڑ کر نشے کی لت میں مبتلا ہو جاتے ہیں، تاہم اس مسئلے پر والدین، اساتذہ اور حکومت کے متعلقہ اداروں کو اس نازک مسئلے کا تدارک کرنا چاہئے۔ حکومت کو ضروری اقدام اٹھانے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ نشے کی لت کسی وبائی بیماری کی طرح پھیلتی ہے۔

ذہنی الجھنوں کا شکار

2020 میں پاکستانی نوجوانوں کی بڑی تعداد معاشرے میں پھیلی ہوئی بیشتر برائیوں ناانصافی، امیری اور غربت کی تفریق کی وجہ سے ذہنی الجھنوں کا شکار رہی۔ معاشرے سے مثبت روایات اور اخلاقی اقدار ختم ہوتی گئیں۔ دوہرے معیار، دکھاوے اور نمود و نمائش سے نوجوانوں کو احساس محرومی نے بڑی تعداد کو متاثر کیا۔اُن کو اعلیٰ روایات، متوازن رویوں اور مثبت سوچ اپنانے کی تلقین کرنے سمجھانے والی شخصیات کم کم دکھائی دیتی ہیں۔ 

نوجوان اس دوہرے معیار سے بھی نالاں ہیں۔ وہ نئی دنیا کے ساتھ قدم ملا کر چلنے کی خواہش رکھتے ہیں، مگرملکی اور معاشرتی صورت حال کو اپنی خواہشات کے مطابق نہیں پاتے اور نہ پچھلی نسل ان کے فکری رجحان کو سمجھ پاتی ہے۔ یہ فکری فاصلے بھی نوجوانوں کو پریشان کرتے ہیں۔ اعداد و شمار جو بھی دعوے کریں، اس سے قطع نظر ملک کے نوجوانوں کی ذہنی فکر عام رویئے اور وہ کیا سوچتے ہیں یہ جاننا ضروری ہے۔ 

اس حوالے سے نوجوانوں کی فکری سطح اور سماجی طور پر تین حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ ایک حصہ وہ ہے جو پانچ سے آٹھ برس کی عمر میں سے جبری محنت اور مشقت میں جھونک دیا جاتا ہے، جو ہوش سنبھالنے کے بعد غم و غصے، مایوسی اور بے زاری میں گھرا رہتا ہے اور جب بھی اس کو احتجاج کا موقع ملتا ہے وہ کاریں جلانے املاک کو نقصان پہنچانے اور توڑ پھوڑ میں مصروف نظر آتا ہے۔ نوجوانوں کی نمایاں تعداد جو دینی مدارس سے وابستہ ہے اور تبلیغی و مذہبی اجتماعات میں بڑی گرم جوشی سے شرکت کرتے ہیں۔ 

ان کی بھی بڑی تعداد ہے جو اپنے دینی اور سماجی رویوں میں غیر لچکدار طرز عمل کو اپناتے ہیں۔ نوجوانوں کا تیسرا نمایاں عنصر وہ ہے جو بزرگوں کی بیش تر روایات اور اقدار کو مسترد کرتے ہوئے اپنے لئے نئے راستے تلاش کرنے کی جستجو کرتا رہتا ہے۔ یہ طبقہ ماضی کے تنکوں کو چن کر اپنا گھونسلا بنانے کے بجائے اپنے ڈھنگ اور وژن سے نیا آشیانہ بنانے کو ترجیح دیتا ہے۔

یہ سچ ہے کہ بزرگوں سے بھی بڑی غلطیاں اور کوتاہیاں سرزد ہوئی ہیں، جس کی تاریخ گواہ ہے، مگر انہیں اس کی بھاری قیمت بھی چکانی پڑی ہے۔ کیا یہ درست نہیں ہے کہ بزرگوںمیں جو بعض کوتاہیاں تھیں، اس کے باوجود اپنی محدود دنیا میں رہتے ہوئے کم تر وسائل اور نامساعد حالات سے نبردآزما ہوتے ہوئے، قدرتی آفات، سانحات اور جنگ و جدل سے گزرتے ہوئے بھی بہت سے نمایاں اور ناقابل فراموش کارہائے نمایاں سرانجام دیئے۔ آج کا پاکستان ففتھ جنریشن، سائبر ایج اور سوشل میڈیا کے دور کا ہے۔ اس کرئہ ارض کو گلوبل ولیج کا نام دیا جاتا ہے۔ ایک خبر دنیا کے ایک حصے سے دوسرے حصے تک پہنچنے میں سیکنڈوں کا وقت لیتی ہے۔

پاکستان کے نوجوانوں کی مایوسی، احساس محرومی اور اپنے رہنمائوں سے شکوہ شکایت کی وجہ یہ ہے کہ انہیں 73 برس بعد بھی وعدے، نعرے اور کھوکھلی تقریروں کے علاوہ کچھ بھی نہیں ملا۔ ملک آج بھی معاشی بدحالی، امن و امان کی مخدوش صورت حال اور خراب تر حکمرانی سے گزر رہا ہے۔ بدعنوانی، رشوت ستانی اور اقربا پروری، ملک کی بنیادیں کھوکھلی کر رہے ہیں۔ 

ان حالات نے پاکستانی نوجوانوں کے ایک گہرا شعور دیا ہے۔ وہ حالات سے باخبر ہیں، مگر اپنے اطراف پر نظر ڈالنے کے بعد ان میں بے چینی، جھلاہٹ طاری ہو جاتی ہے، ایسے میں وہ بھی اکثر اپنے حالات کو بہتر بنانے کے لئے شارٹ کٹ تلاش کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ اس کا مظاہرہ درسگاہوں کے امتحانات میں شاہراہوں پر ڈرائیو کرتے ہوئے اور نوجوانوں سے گفتگو کرتے ہوئے ان کی جھلاہٹ یا احساسات کا اندازہ ہوتا ہے۔

برصغیر پاک و ہند میں موروثی سیاست کے چلن نے 2020 میں نوجوانوں کو زیادہ مایوس کیا ہے۔ معاشروں میں ناہمواری، ناانصافی، طاقت کا بول بالا، عدلیہ کی بے بسی، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بے لگامی اور رہنمائوں کی سردمہری نے نوجوانوں کو مایوس کیا ہے۔ وہ کچھ کرنے کی شدید لگن رکھتے ہیں، مگر ملک میں نو آبادیات کے دور کا نافذ سسٹم انہیں کچھ کرنے سے تبدیلی کی حقیقی جدوجہد سے روکتا ہے۔ 

ان کے راستے میں پہاڑ کھڑے کرتا ہے، مگر ارباب سیاست کو یہ ضرور ذہن میں رکھنا چاہئے کہ نوجوان ہر ملک کی ریڑھ کی ہڈی، مستقبل کے معمار اور اہم ترین فورس ہوتے ہیں، انہیں روزگار، روشن مستقبل اور تبدیلی کے خوش نما نعروں سے زیادہ عرصہ نہیں بہلایا جا سکتا یہ ایک دن اپنا راستہ خود تلاش کر سکتے ہیں ان میں اس کا گہرا شعور اور لگن موجود ہے۔

ترقی یافتہ ممالک کے نوجوان 2020ء کے تناظر میں

ترقی یافتہ ممالک نے تعلیم، تحقیق، تربیت، شہری رویوں اور قانونی و اخلاقی نظم و ضبط کو اپنی قوم اور معاشرے کا لازمی جزو بنانے کے لئے سو سال سے قبل، ایک جامع پالیسی وضع کر لی تھی، جن پر پوری سنجیدگی سے عمل کیا جاتا رہا جس کے نتائج سب کے سامنے ہیں وجہ یہ ہے کہ مغربی معاشروں میں مذکورہ پالیسی کی بدولت آج صبروتحمل، رواداری، قانون کی پاسداری اور سماجی و اخلاقی نظم و ضبط نمایاں دکھائی دیتا ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارے برائے انسانی بہبود کے اعداد و شمار کے مطابق 15 سے 25سال کے نوجوانوں کی تعداد ایک ارب بیس کروڑ کے قریب ہے۔ جبکہ دنیا کی مجموعی آبادی سال 2020 تک سات ارب اسی کروڑ سے زائد ہو چکی ہے، البتہ اس سال دنیا کے باون ممالک نے اپنے ملکوں میں مردم شماری کرا ئی۔ان میں امریکہ، چین، برازیل، انڈونیشیا، میکسیکو، روس، فلپائن اور زمبابوے نمایاں ہیں۔ دنیا میں معمر لوگوں کی تعداد سب سے زیادہ جاپان میں28 فی صد ہے، جب کہ اٹلی میں23 فی صد،بلغاریہ میں 23 فی صد، فن لینڈ، پرتگال اور یونان میں بالترتیب 21فیصد، کروشیا، مالٹا، سربیا، سلوانیا اور اسپین میں20فیصدہے۔ 85 سال اور اس سے زائد عمر کے افراد کی تعداد فرانس میں20 فیصد، چین میں12فیصد، امریکہ میں 16 فیصد جبکہ بھارت میں 7 فیصد ہے۔

امریکہ کی مجموعی آبادی میں 24 فیصد نوجوان ہیں۔ لڑکیوں کی تعداد قدرے زیادہ ہے۔ والدین بچوں اور نوجوانوں میں منشیات کے بڑھتے ہوئے رجحان سے پریشان ہیں۔ نوجوانوں میں بڑھتا ہوا اعصابی دبائو، ٹریفک کے حادثات، والدین کے مابین گھریلو مسائل، طلاق کا بڑھتا ہوا اوسط اور جنسی بے راہ روی نوجوانوں کو بے چینی اور اضطراب کی وجہ ہے۔ اس کے باوجود کہ تعلیم اور صحت عامہ کی سہولتیں موجود ہیں۔

امریکہ میں تعلیم کا اوسط 97فیصد ہے۔ نوجوان 21 سال سے قبل ملازمت نہیں کرسکتے۔ چین میں نوجوانوں کی تعداد جن کی عمریں 5سال سے24 سال کے قریب ہے۔270ملین ہے۔ تعلیم کا اوسط 79 فیصد ہے۔ چین میں حکومت نے نوجوانوں کے لئے وطن پرستی، قومی روایات اور نظریاتی بنیادوں پر مبنی فوجی پالیسی وضع کی ہے۔ نوجوانوں کے لئے تعلیم، صحت اور کھیل کی معیاری سہولتیں موجود ہیں۔ اعلیٰ تعلیم کے لئے ذٓہین طلبا کو وظائف دیئے جاتے ہیں اور بیرون ملک تعلیم اور تحقیق کے لئے بجھوایا جاتا ہے۔ لاکھوں نوجوان طلبا بیرون ملک اعلیٰ تعلیم اور تحقیق معروف ہیں۔

روس میں نوجوانوں کی تعداد57فیصد ہے جو 15 سال سے 29سال تک کے نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ وہاں نوجوانوں کی کونسلنگ، ویلیفئر اور کھیلوں کے لئے قومی یوتھ کونسل، روس یوتھ، برگیڈ اور دوسری تنظیمیں فعال کردار ادا کرتی ہیں۔ روسی صدر ولادی میرپوٹن زیادہ تر بچوں اور نوجوانوں سے رابطے میں رہتے ہیں وہ ان سے عالمی تاریخی، ماحولیات، روسی جنگوں اور روسی تاریخ وغیرہ پر بات چیت کرتے ہیں۔ 

ان کے ساتھ کھیلوں میں حصے لیتے ہیں۔ صدر پوٹن کو بچوں اور نوجوانوں کو اپنے سیاسی معاشی یا معاشرتی مفادات کے لئے استعمال کرنے والوں سے سخت بیر ہے وہ اس عمل کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ روس میں تعلیم کا اوسط 82فیصد سے زائد، صحت عامہ، تعلیم اور شہری سہولیات مفت فراہم کی جاتی ہیں۔ روس دنیا کی بڑی طاقتوں میں سرفہرست ہے۔

برطانیہ میں تعلیم کا اوسط 92 فیصد ہے۔ پندرہ سال سے چوبیس سال تک کے نوجوانوں کی تعدادتقریباً 60 فیصد کے ہے۔برطانیہ میں تعلیم، صحت عامہ، شہری سہولیات کے شعبے نہایت فعال ہیں پوری سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔ یوتھ کلب، میوزک کلب اور کھیلوں کے کلب نوجوانوں کی تفریح کا محور ہیں۔

فرانس میں یورپی یونین معلوماتی مرکز برائے نوجوانان بہت فعال ہے۔ فرانس بچوں، نوجوانوں اور کھیلوں کے لئے الگ الگ ویلفیئر پالیسیاں ہیں۔ تعلیم کا اوسط 93 فیصد سے

زائد ہے۔ فرانس یورپی ممالک میں نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔ برطانیہ کی یورپی یونین سے علیحدگی کے بعد فرانس کی اہمیت اور بڑھ گئی ہے۔

بھارت میں خواندگی کا اوسط 79 فیصد ہے۔ نوجوانوں کی تعداد 358ملین ہے جو 60 سال سے 26 سال تک کے بچوں اور نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ بھارت میں معمر افراد کا اوسط 7 فیصد کے قریب ہے۔ نوجوانوں میں بے روزگاری میں اضافہ کی وجہ سے بے چینی اور مایوسی پائی جاتی ہے۔ جاپان ترقی یافتہ اور جدید ملک ہے جس کی مجموعی آبادی تیرہ کروڑ چھیاسٹھ لاکھ کے قریب ہے۔ 

گزشتہ ایک دہائی سے جاپان کی آبادی میں اضافہ کا اوسط کم سے کم ہوتا جا رہا ہے۔ نوجوانوں کی اور 12سال تک کے بچوں کی تعداد 60فیصد تک کے لگ بھگ ہے جن کی عمریں ساٹھ سے زائد ہے۔ آبادی میں اضافہ کم تر ہونے کی وجہ لائف اسٹائل، مہنگائی، کام کے اوقات، بچوں کی نگہداشت میں مشکلات، گوناگوں ذمہ داریاں ہیں۔ جاپان میں تعلیم کا اوسط 98 فیصد سے زائد ہے۔ تعلیمی، تحقیقی، سماجی اور معاشی طور پر جاپان بہت ترقی یافتہ ملک ہے۔ پاکستان سے اس سال جاپان کے لئے پاکستانی ورکرز کے معاہدے ہوئے ہیں۔

سال2020 میں17 عرب ممالک کے چار ہزار نوجوانوں سے جو18 سال سے 24 سال تک کی عمر کے تھے۔ ایک سروے کیا گیا۔ سروے رپورٹ کے مطابق 43 فیصد نوجوانوں نے اپنے ملک کو چھوڑ کر بیرون ملک جانے کی خواہش کا اظہار کیا۔ لبنان، شام، عراق، الجیریا، سوڈان اور لیبیا کے 68 فیصد نوجوانوں نے جو بے روزگاری اور بدامنی سے تنگ آئے ہوئے ہیں، بیرون ملک جانے کی شدید خواہش رکھتے ہیں۔ انہیں اپنے ملکوں میں اپنا مستقبل تاریک نظر آتا ہے۔ تاہم سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں صرف 3 فیصد نوجوانوں نے دیارِ غیر میں ہجرت کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔

ترقی پذیر ممالک بالخصوص مسلم ممالک کے نوجوانوں میں بے روزگاری، مہنگائی، ناانصافی، معاشرتی ناہمواری اور بنیادی حقوق کی پامالی کی وجہ سے بددلی، مایوسی، جھلاہٹ اور اپنے اطراف سے بے زاری میں اضافہ ہو رہا ہے۔ چند برس قبل عرب ممالک میں نوجوانوں کی تحریک جس کو ’’عرب اسپرنگ‘‘ کا عنوان دیا گیا تھا۔ اس سے ان ملکوں میں تبدیلی کی باتیں کی جاتی رہی ہیں۔ مگر سب نے دیکھا کہ وہاں بدامنی، خانہ جنگی اور دہشت گردی کارروائیوں نے جگہ بنا لی اس ضمن میں سب سے نمایاں مثال شام، لبنان، عراق اور لیبیا کی ہے۔

پاکستان میں فوری طور پر جامع معاشی اور سماجی پالیسیاں وضع کرنے کی اشد ضرورت ہے اگر 2021ء میں بھی ایسا نہ کیا گیا اور نوجوانوں کے مسائل حل نہ کئے گئے تو اس کے ڈیموگرافک اور سیاسی نقصانات ہو سکتے ہیں۔ نئے دور کے نئے تقاضوں کے مطابق نوجوانوں کو نئے مواقع نہ فراہم کئے گئے اس کے منفی اثرات نمایاں ہوں گے۔ جس سے قومی اور معاشرتی نقصانات کا اندیشہ ہے۔ ارباب اختیارات کو پاکستان کے زیرک نوجوانوں کی صلاحیتوں پر اعتماد کرنا ہو گا۔

’’یوتھ کونسل‘‘

 وزیراعظم عمران خان نے یوتھ کونسل قائم کی ہے جس کی سربراہی وہ خود کریں گے۔ کونسل کے تحت ملک بھر سے 50 نوجوانوں کا انتخاب کیا جائے گا، نوجوان، وزیراعظم عمران خان سے مل کر پالیسیاں تشکیل دیں گے جو ان کی ضرورت ہے۔ 

وفاقی وزیر اسد عمر نے کہا کہ، یوتھ کونسل کا سلیکشن پراسس شفاف، میرٹ کی بنیاد پر کیا جا رہا ہے، نوجوان کامیاب جوان کی ویب سائٹس سے اپلائی کریں جبکہ 50 بہترین قابل نوجوانوں کو کونسل رکنیت کیلئے منتخب کیا جائے گا۔

’’حقائق‘‘..... نوجوانوں کے مستقبل پر سوالیہ نشان

آج ہماری دنیا میں 10 سال سے لے کر 24 سال کی درمیانی عمر کے نوجوانوں کی تعداد ایک ارب 80 کروڑ سے زائد ہے جن میں سے زیادہ تر کا تعلق پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک سے ہے۔ ان پسماندہ جوانوں کو امیر اور مستحکم ممالک کے جوانوں کے مقابلے میں غربت، اقتصادی عدم مساوات، اور سیاسی عدم استحکام کا سامنا ہے۔ پاکستان ، جہاں ڈیموگرافک تبدیلیاں ہو رہی ہیں، میں ترقی کو درپیش یہ بڑا چیلنج زیادہ نظر آتا ہے ۔ گزشتہ 2 عشروں میں عالمی سطح پر ہونے والی دہشت گردی میں پاکستان سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔ 

 پاکستان دنیا میں سب سے زیادہ نوجوان آبادی والے ممالک میں سے ایک ہے، اور آبادی کے لحاظ سے دنیا کا پانچواں بڑا ملک ہے۔اس وقت ملک میں نوجوانوں کی تعداد قومی تاریخ کے ریکارڈ میں سب سے زیادہ ہے۔ 64 فیصد پاکستانی 30 سال سے کم عمر ہیں اور 29 فیصد کی عمریں 15 سے لے کر 29 سال ہیں۔ 

ہمارے نوجوانوں میں سے اکثر نوجوانوں کو کئی سماجی، اقتصادی اور تعلیم میں طبقاتی امتیازات جیسی پسماندگیوں کا سامنا ہے اور اکثر نوجوان غذائی عدم تحفظ ، حقوق کی عدم دستیابی اور قانون کی کمزور حکمرانی کے ماحول میں رہتے ہیں۔ نوجوانوں میں شرح خواندگی 30 فیصد ہے۔ اکثر نوجوانوں کو اپنے علاقوں میں تفریحی سہولتیں، سینمار، پارکس وغیرہ تک رسائی نہیں ہے۔ 

ایک عام سا اندازہ ہے کہ پاکستان کی کل انتخابی حق رائے دہی کا 44 فیصد نوجوانوں پر مشتمل ہے، ملک میں کام کرنے والوں کی زیادہ تر تعداد کی عمریں 15 سے 64 سال کے درمیان ہیں، جبکہ اس کے مقابلے میں 65 سال سے بڑے اور 15 سال سے کم عمر کے زیادہ تر افراد کام نہیں کرتے۔ یوں پاکستان کی کل لیبر فورس(15 سال سے 65 سال کی عمر کے لوگ) 41 فیصد پر مشتمل ہے۔ 

ہر سال 40 لاکھ پاکستانی نوجوان کام کرنے کی عمر کو پہنچ رہے ہیں۔ اس آبادی کو جاب مارکیٹ میں لے جانے کے لیے ہمارے ملک کو آئندہ پانچ سالوں میں 45 لاکھ(سالانہ 9 لاکھ) نئی ملازمتیں پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ حقائق ہمارے ملک کے مستقبل کے لیے سوالیہ نشان ہیں جن کو قومی پالیسی اور ہیومن سیکیوٹی کے لیے ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جانا چاہیے۔

وزیر اعظم عمران خان نے نیشنل یوتھ ڈیولپمنٹ پروگرام

وزیر اعظم عمران خان نے نیشنل یوتھ ڈیولپمنٹ پروگرام کے اجراء کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے نوجوانوں میں ایک نئی امنگ پیدا کی ہے تاکہ وہ ملک میں سماجی تبدیلی اور اقتصادی بہتری کے لیےفیصلہ سازی اور سیاست میں موثر کردار ادا کر کے قومی ترقی میں کلیدی حصہ ڈال سکیں۔ ہم نے نوجوانوں سے وعدہ کیا تھا کہ جب ہماری حکومت آئی توپالیسی سازی میں رہنمائی کے لیےوہ اہم اور بنیادی کردار ادا کریں گے ۔ 

انھوں نے ہماری بات سنی اور ہمیں اپنے وعدے پورے کرنے کا موقع دیا. لہذا اب وقت آگیا ہے کہ ہم پاکستان کے نوجوانوں کے ساتھ کیے گئے اپنے وعدوں کا احترام کریں۔ ہم پاکستان کو ترقی یافتہ ملک میں بدلنے اور تبدیلی لانے کا اپنا وعدہ پورا کر کے ہی پر جوش نوجوانوں کے دل و دماغ، ان کی توقعات اور امنگوں پر پورا اتر سکتے ہیں۔

چونکہ مستقبل نوجوانوں کاہے ، ان کو اپنے مستقبل کے لائحہ عمل کا انتخاب کرنے، مساوی مواقع تک رسائی دینے اور با مقصدانداز میں ان کی صلاحیتوں سے بھرپور استفادہ کرنے کے لیے عملی اقدامات کا وقت آ گیا ہے۔ حکومت نے اس بات کا پختہ عزم کر رکھا ہے کہ پائیدار ترقی کے حصول کے لیے پاکستان میں کوئی طبقہ بھی پیچھے نہ رہے۔ اس ضمن میں این وائے ڈی ایف میں ادارہ جاتی شراکت داری سے حقوق اور صنفی مساوات کی بنیاد پر نوجوانوں کو بااختیار بنانے کا خاکہ پیش کیا گیا ہے۔

’’کامیاب نوجوان پروگرام‘‘

31 ؍اکتوبر 2019 میں کامیاب نوجوان پروگرام کا اجراء کیا گیا جس کے تحت نوجوانوں کے لیے قرضوں کا اعلان کیا گیا۔کامیاب نوجوان پروگرام میں اس عزم کا اظہار کیا گیا ہے کہ اپنے ہنر کو کام میں لائیں، ملک کی ترقی میں ہاتھ بٹائیں۔ 

نوجوانوں کو کامیابی کی طرف حکومت پاکستان کا ایک اور قدم، نئے کاروبار کا آغاز کرنا ہو یا چلتے ہوئے کاروبار کو وسعت دینی ہو۔ پروگرام کے اجراء کے وقت وزیر اعظم نےاعلان کیا کہ کامیاب نوجوان پروگرام کے تحت 10 لاکھ نوجوانوں کو میرٹ پر قرض دیں گے اور 100 ارب روپے کے قرضوں میں سے 25 ارب خواتین کے لیے ہوں گے اور ایک لاکھ روپے کے قرض پر کوئی سود نہیں ہوگا۔

14جولائی2020 کامیاب نوجوان پروگرام کا دوسرا مرحلہ شروع کیا گیا جس کے تحت نوجوانوں سے کہا گیا وہ اپنے ہنر کو کام میں لائیں، ملک کی ترقی میں ہاتھ بٹائیں۔ وزیراعظم کی جوان یوتھ انٹر پینور شپ ا سکیم کے تحت ملک بھر میں نوجوانوں کو انتہائی کم انٹریسٹ ریٹ اور آسان شرائط پر قرضہ جات کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے، جو کاروباری مواقعوں میں اضافے کا باعث ہو گی۔

اسٹیٹ بینک نے تمام کمرشل بینکوں کو مراسلہ جاری کردیا ہے اور شرح سود بھی 6 فیصد سے کم کرکے 3 فیصد کردی گئی ہے۔ حکومت نے قرض پر مارک اپ میں کمی کے ساتھ ساتھ قرض کی حد 50 لاکھ سے بڑھا کر 2 کروڑ 50 لاکھ روپے کردی ہے۔ وزیراعظم یوتھ پروگرام کے چیئرمین اور وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے امور نوجوان عثمان ڈار نے کہا کہ جو نوجوان مشکلات کا شکار ہیں وہ اس پروگرام سے بھرپور فائدہ اٹھائیں اور صرف کاروبار کا منصوبہ بنائیں۔