• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سردیوں میں ہر کوئی خود کو اور باقی گھر والوں کو ٹھنڈ سے بچانے کے لئے اپنے گھر میں ہر ممکن احتیاطی تدابیر اپناتا ہے، جیسے کہ گھر کی کھڑکیاں بند کرنا، بلا ضرورت دروازے کھلے نہ رکھنا، گرم اور گہرے رنگوں کے قالین اور پردوں کا انتخاب وغیرہ۔ اسی طرح اگر ہم اپنی خوابگاہ کی بات کریں تو اس میں بھی موٹی، گرم اور گہرے رنگوں کی چادریں اور تکیے کے غلاف استعمال کیے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم ایسی چادریں خصوصی طور پر سردی کے موسم کے لئے رکھ دیتے ہیں۔ 

جس طرح چادریں، کپڑے اور یہاں تک کہ کھانے بھی سردیوں کے موسم کے مطابق ہوتے ہیں، اسی طرح دیواروں کے رنگ بھی سردیوں کے موسم کے لئے مخصوص ہوتے ہیں۔ گھرکوگرم رکھنے کے لیے دورِجدید کے ماہرین تعمیرات دوران تعمیرہی سائنسی بنیادوں پرتوانائی کی بچت پرتوجہ دینے پر زور دیتے ہیں۔ اس طرح سردیوں میں گھرکوگرم اور گرمیوں میں ٹھنڈا رکھنا آسان ہوتا ہے۔

چھت اور فرش میں گرمائش کا نظام

روس اور مشرقی یورپ جیسے سرد ترین خطوں میں نقطہ انجماد سے گرے ہوئے درجہ حرارت کو بڑھانے کے لیے چھتوں اور فرش میں گرم پانی کو پائپوں اور موٹرکی مدد سے گھمایاجاتا ہے۔ تاہم نئی ٹیکنالوجی کی مدد سے یہی کام بجلی کے ہیٹرز سے بھی کیا جاسکتا ہے۔ شمسی توانائی کا نظام عام ہونے سے سولر پینل کی مدد سے پانی گرم کرنے کی بات اب نئی نہیں رہی۔

کارپیٹنگ کے مشورے

کمروں کے فرش کو قالین کی مدد سے ڈھانپ کررکھیں تاکہ ٹھنڈے فرش پر چلنے سے بچا جاسکے، بالخصوص ماربل کے فرش سردیوں میں بہت زیادہ ٹھنڈے ہوجاتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کارپٹ کے ساتھ انڈر لے کا استعما ل نہ صرف اسے دبیز بناتا ہے بلکہ گھر کو گرم رکھنے میں بھی مدد دیتاہے۔ 

کارپٹ کے نیچے ربڑ بچھانے سے کارپٹ کی زندگی میں اضافہ ہوتا ہے اور اس سے گھر کو گرم رکھنے کیلئے کئے جانے والے اقدامات پر اٹھنے والے خرچ میں بھی کمی واقع ہوتی ہے۔ ایک آپشن ووفل کا بھی ہے۔ ووفل پیٹرن والی شیٹ میں ہوا کے بلبلے بنے ہوتے ہیں، جوکارپٹ کو نرم رکھنے کے علاوہ گھر کو گرم رکھنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔ اگر آپ کسی وجہ سے کارپیٹ نہیں بچھا سکتے تو کوشش کریں کہ ٹھنڈے فرش پر چپل یا جوتے پہنے رہیں۔

مرمت اور صفائی

ہر موسم کی آمد سے پہلے گھرمیں ضروری ترامیم اور اضافہ کرنا پڑتا ہے۔ سردیوں کی تیاری کرتے وقت کوشش کریں کہ کھلی جگہوں اور سوراخوں کو بند کردیں کیونکہ ان سےسرد ہوا کے گھر میں داخل ہونے کا امکان ہوتا ہے۔ کھڑکیوں اور دروازوں کی سلوں کو ٹھیک کروالیں اور اگر ان کے پٹ ٹوٹے ہوئے ہیں تو ان کی مرمت کروالیں۔ ان سوراخوں سے آنے والی ہوائیں الرجی اور زکام کی صورت میں(خصوصاًشیرخوار بچوں کے لیے) نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہیں۔

گیزر کا بندوبست

پہلے گیس سے چلنے والے گیزر زیادہ فروخت ہوتے تھے لیکن اب گیس کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے بجلی سے چلنے والے گیزر لگانے کا رجحان زیادہ نظر آرہا ہے۔ گیزر کی قیمت کا انحصار اس کے سائز پر ہوتا ہے۔ گیزر کا سائزجتنا بڑا ہوگا قیمت بھی اتنی ہی زیادہ ہوگی۔ 

بجلی کا گیزر اگرچہ گیس کے گیزر سے نسبتاً سستا مل جاتا ہے لیکن اس کے استعمال سے بجلی کا بل قدرے زیادہ آتا ہے۔ تاہم اس کا ایک فائدہ یہ ہے کہ سردیوں میں عموماً بجلی کی لوڈشیڈنگ نہیں ہوتی تو آپ کو ہر وقت گرم پانی دستیاب ہوسکتا ہے۔ اگر آپ کا گیزر گیس سے چلتا ہے تو لازمی اس کی سروس کروائیے۔

سردیوں کے رنگ

اگر سردیوں کے حوالے سے آپ اپنے گھر میں رنگ کروانا چاہتے ہیں، تو موسم کی مناسبت سےآپ گرم رنگوں جیسے ہلکےبادامی،گہرے جامنی، سرمئی، خاکستری اور نیلے رنگ کا انتخاب کرسکتے ہیں ۔ سردیوں میں ان رنگوں کی دیواروں سے گرماہٹ کا احساس ہوتاہے ۔

ہیٹر کے استعمال میں احتیاط

سب سے پہلے تو ہیٹر چیک کروالیں کہ وہ ٹھیک کام کررہاہے یا نہیں۔ ہیٹر استعمال کرنے میں احتیاط لازمی ہے، آپ کو چاہیے کہ سونے سے پہلے گیس کے ہیٹر کو احتیاط کے ساتھ مکمل بند کردیں تاکہ گیس لیکیج کے باعث ہونے والے حادثات سے محفوظ رہ سکیں۔ 

سردیوں کے دوران بہت سے لوگ کمروںکو بند کرکے گیس ہیٹر استعمال کرتے ہیں، جس کے نتیجہ میں گیس کے اخراج اور آکسیجن کی کمی کی وجہ سے کوئی بڑا حادثہ رونما ہونے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔ اس لیے مختلف پیچیدگیوں سے بچنے کے لئے گیس ہیٹرز یا گرم ہوا کے بلورز کا استعمال احتیاط سے کرنا چاہیے۔

قدرتی توانائی

دن کے وقت خود کو اور کمروں کوگرم رکھنے کے لیے سورج کی توانائی سے ہرممکن استفادہ کریں۔ دھوپ سینکنے سے صحت پربھی اچھا اثرپڑتا ہے۔ وہ ضروری کام جو آپ دھوپ میں بآسانی کرسکتے ہیں، ضرور دھوپ میں بیٹھ کر کریں۔ گھر کے اندر بیٹھ کر ٹھنڈ سہنے سے بہترہے کہ جوکام آپ باہر جاکر کرسکتے ہیں، ان کے لیے ضرور باہر نکلیں کیونکہ اس طرح صحت پربھی اچھا اثر پڑتا ہے۔ سورج کی براہ راست روشنی کمرے میں آنے دیں اور شیشوں سے پردے ہٹا دیں۔