آپ آف لائن ہیں
بدھ6؍ جمادی الثانی 1442ھ 20؍جنوری 2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

بجلی بلیک آؤٹ سے متعلق رپورٹ جمع کرا دی گئی


پاکستان کے دارالحکومت سمیت ملک بھر میں ہونے والے حالیہ بجلی بلیک آؤٹ سے متعلق رپورٹ پاور ڈویژن کو جمع کروا دی گئی ہے۔

بجلی بلیک آوٹ سے متعلق رپورٹ نیشنل پاور کنٹرول سینٹر کی جانب سے پاور ڈویژن کو جمع کروائی گئی ہے۔

نیشنل پاور کنٹرول سینٹر کی جانب سے پاور ڈویژن کو جمع کروائی گئی  رپورٹ کے مطابق  9جنوری کو رات 11.41 بجے 500 کے وی گڈو شکار پور سرکٹ 1 اور 2 ٹرپ کر گئے تھے اور ساتھ ہی کے وی 500 گڈو مظفر گڑھ اور گڈو ڈی جی خان ٹرانسمشن لائنز بھی ٹرپ ہو گئی تھیں۔

رپورٹ کے مطابق  پورا بجلی کا نظام بیٹھ گیا تھا، بلیک آؤٹ سے قبل سسٹم کی فریکوئنسی 49.85 تھی اور بلیک آوٹ سے قبل سسٹم مجموعی طور پر 10ہزار 311میگاواٹ بجلی پیدا کر رہا تھا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ  پانی سے 1257 میگاواٹ بجلی بنائی جا رہی تھی،  سرکاری تھرمل بجلی گھروں سے 983 میگاواٹ بجلی پیدا کی جارہی تھی اور  آئی پی پیز سے 8 ہزار 70 میگاواٹ بجلی پیدا کی جارہی تھی۔

رپورٹ کے مطابق سسٹم کی بحالی کا عمل تربیلا منگلا اور وارسک پاور ہاؤسز سے شروع کیا گیا تھا مگر سسٹم فریکوئنسی کی بہت زیادہ اتار چڑھاؤ سے ٹرپنگ جاری رہی، سسٹم کو مستحکم کرنے کے لیے تربیلا اور منگلا کو انٹر لنک کیا گیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق تربیلا منگلا انٹر لنک کے بعد سسٹم بحالی شروع ہو گئی اور  10 جنوری کو رات 7.40 تک تمام ٹرانسمشن عمل بحال کر دیا گیا تھا۔

رپورٹ میں نیشنل پاور کنٹرول سینٹر کا بتانا ہے کہ 10جنوری کو شام 6.44 بجے این ٹی ڈی سی کا نیٹ ورک کے الیکٹرک کے ساتھ جوڑ دیا گیا تھا۔

قومی خبریں سے مزید