• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایران کی جغرافیائی طاقت، امریکی حدود اور بڑھتی معاشی لاگت نے ٹرمپ کو پسپائی پر مجبور کردیا، عالمی مبصرین

کراچی (رفیق مانگٹ ) امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی میں اچانک پیدا ہونے والی سفارتی سرگرمیوں اور ٹرمپ کی جانب سے پانچ روزہ حملہ روکنے کے اعلان نے خطے میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کی جغرافیائی برتری، آبنائے ہرمز پر اس کا کنٹرول، امریکی فوجی حدود اور تیل کی بڑھتی قیمتوں نے واشنگٹن کو وقتی پسپائی پر مجبور کیا ہے، جبکہ مذاکرات کی اصل شرائط اور دونوں فریقین کی سیاسی ضرورتیں اب بھی پوری نہیں ہو رہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ جنگ رک ضرور گئی ہے مگر ختم نہیں ہوئی، اور اصل سوال یہ ہے کہ اس بحران سے نکلنے کا راستہ کس کے ہاتھ میں ہے۔ایک غیر ملکی ٹی وی مباحثے میں تجزیہ کاروں نے کہا کہ ایران کی جغرافیائی پوزیشن، خصوصاً آبنائے ہرمز پر کنٹرول، اسے واضح اسٹریٹجک برتری فراہم کر رہا ہے، جبکہ امریکہ ابھی تک مکمل فوجی برتری حاصل نہیں کر پایا۔ ان کے مطابق ایران اپنے جغرافیے کو مؤثر طور پر استعمال کر رہا ہے۔ماہرین نے کہا کہ سنجیدہ مذاکرات تین بنیادی عناصر کے "مذاکرات کے لیے تین چیزیں ضروری ہیں: فریقین کا تیار اور اہل ہونا، فوری کارروائی کی ضرورت، اور مفادات کا توازن — اور فی الحال یہ سب موجود نہیں۔ اسی لیے ٹرمپ کے پانچ روزہ وقفے کو مبصرین صرف وقت خریدنے کی کوشش قرار دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ پانچ دن کوئی حتمی مدت نہیں بلکہ محض سیاسی سانس لینے کا وقفہ ہے۔تجزیہ کاروں نے نشاندہی کی کہ ٹرمپ کے بیان میں دی گئی تفصیلات، جن میں متعدد نکات شامل تھے، اس جانب اشارہ کرتی ہیں کہ پس پردہ کچھ نہ کچھ ضرور ہو رہا ہے۔ بعض تجزیہ کاروں نے کہا کہ اگر اسلام آباد میں ملاقات ہوتی ہے تو یہ جنگ سے نکلنے کا ایک ممکنہ راستہ بن سکتا ہے، اگرچہ کچھ سفارتی حلقوں کا خیال ہے کہ ایسی ملاقات دبئی یا عمان میں زیادہ ممکن ہے۔ پاکستان کے کردار سے متعلق بھی رائے منقسم ہے؛ کچھ اسے پاکستان کی روایتی ثالثی صلاحیت قرار دیتے ہیں جبکہ کچھ اسے مبالغہ سمجھتے ہیں۔ماہرین کے مطابق ایران کی جانب سے مذاکرات کی تردید غیر معمولی نہیں، کیونکہ تہران کے اندر پالیسی سازی پر آئی آر جی سی کا اصل کنٹرول ہے اور وہاں دو دھڑوں کی موجودگی کے امکانات کو رد نہیں کیا جا سکتا۔ دوسری طرف اسرائیل اور امریکہ مکمل ہم آہنگ دکھائی دیتے ہیں، اور نیتن یاہو ٹرمپ پر پوری طرح انحصار کر رہے ہیں۔ مگر اس کے باوجود ٹرمپ کی پالیسی میں تسلسل نظر نہیں آتا اور ان کے بیانات اکثر متضاد ہوتے ہیں۔کئی ماہرین کا کہنا تھا کہ جنگ کا خاتمہ تبھی ممکن ہے جب دونوں فریقوں کو اپنی فتح کا دعویٰ کرنے کا راستہ دیا جائے۔

اہم خبریں سے مزید