آپ آف لائن ہیں
اتوار22؍ رجب المرجب 1442ھ 7؍مارچ2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

کےٹو قراقرم کے پہاڑی سلسلے میں واقع 8611میٹر بلندی کے ساتھ دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی ہے جسے ماہر کوہ پیما سردیوں میں سر کرنے کو خودکشی کے مترادف قرار دیتے ہیں۔ سردیوں میں اِس پہاڑی کو سر کرنے کی مہم جوئی میں دنیا بھر سے کئی ایک ماہر کوہ پیما جان کی بازی ہار چکے ہیں لیکن جب انسان کا حوصلہ اِن فلک پوش پہاڑوں سے بھی بلند ہو تو وہ ناممکن کو بھی ممکن کر سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تاریخ میں پہلی مرتبہ موسمِ سرما میں کےٹو کو سر کرنے کی مہم بالاخر کامیاب ہو گئی ہے۔ 10نیپالی کوہ پیمائوں کی ٹیم 16جنوری کو مقامی وقت کے مطابق شام 5بجے کےٹو کی انتہائی بلندی پر پہنچی۔ نیپالی ٹیم کے ممبران نے آخری 10میٹر کا فاصلہ ایک ساتھ طے کیا اور مل کر چوٹی پر قدم رکھ کر کامیابی حاصل کی۔ ٹیم کی قیادت نیرمل پورجا اور مینگما جی نے کی۔ کوہ پیما 10منٹ تک چوٹی پر ٹھہرے اور پھر اُنہوں نے واپسی کا سفر شروع کیا۔ 48کوہ پیمائوں پر مشتمل ٹیم 29دسمبر کو کےٹو کے بیس کیمپ پر پہنچی تھی جس میں 5خواتین بھی شامل تھی، اِس ٹیم میں پاکستانی کوہ پیما علی سدپارہ اور ساجد سدپارہ بھی تھے تاہم صرف 10نیپالی کوہ پیما خطرناک چوٹی کو سر کرنے میں کامیاب ہوئے۔ اِن کامیاب کوہ پیمائوں میں نیرمل پورجا، منگما ڈیوڈ شرپا، منگما تینزی شرپا، گیلجن شرپا، پیم چیری شرپا، داوا ٹیمبا شرپا، مینگما جی(سربراہ)، داوا ٹینجین شرپا، کیلو پیمبا شرپا اور سونا شرپا شامل ہیں۔ اِس کامیاب مہم جوئی کے بعد بالخصوص پاکستان کے پہاڑی علاقوں کی سیاحت میں اضافہ ہوگا۔ حکومتِ وقت سیاست پر پہلے ہی اپنی توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔ ضرورت اِس امر کی ہے کہ پاکستان میں سیاحت کو مزید سستا اور محفوظ بنایا جائے تاکہ اِس سے مقامی اور عالمی سطح پر زیادہ سے زیادہ زرِ مبادلہ کمایا جا سکے۔

اداریہ پر ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائے دیں00923004647998

تازہ ترین