آپ آف لائن ہیں
منگل7؍رمضان المبارک 1442ھ 20؍اپریل2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

(۲۱ ؍ فروری کو ہر سال مادری زبانوں کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔اسی مناسبت سے زیرنظر مضمون نذرِ قارئین)

……٭٭……٭٭……

اب جبکہ چہار سو عالمگیریت کا دور دورہ ہے، قومی ریاستوں کی سرحدیں کمزور ہوتی جارہی ہیں، سرمایہ نئی سے نئی منڈیوں کی طرف رواں دواں ہے ،تو ایسے میں دنیا بھر میںثقافتی اور تہذیبی سطح پر بھی غیر معمولی تبدیلیاں وقوع پذیر ہورہی ہیں۔ مقامی ثقافتیں اپنے بچائو کی کوششیں کر رہی ہیں۔ ان میں سے جس ثقافت میں حالات کے تھپیڑے برداشت کرنے کی صلاحیت ہے وہ ہنوز اپنی قامت کے ساتھ کھڑی ہے۔ جن کے اندر جان برقرار نہیں رہی وہ معدوم ہوتی جارہی ہیں۔ دوسری جانب ایک عالمی نوعیت کی ثقافت کی داغ بیل پڑ چکی ہے، ذرائع ابلاغ کی ترقی نے ، مواصلات کی ایجادات نے اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی نے رہن سہن، کھانے پینے،پہننے اوڑھنے، اشیائے صرف اور یہاں تک کہ عقائد و افکار کو بھی ایک عالمی اسلوب دینا شروع کردیا ہے۔ 

ایسے میں زبانوں کے درمیان بقاء کی کشمکش کیوں پیدا نہ ہوتی سو ،سینکڑوں زبانیں عالمگیریت کے بہائو میں اپنے وجود سے محروم ہوگئیں، کچھ زبانوں کو غلبہ حاصل ہوچکا ہے اور وہ معیشت و سیاست میں سِکّہ رائج الوقت بنتی چلی جارہی ہیں۔ اس تمام صورتحال میں ایک سوال ہے ،جو اٹھا تو بہت پہلے تھا مگر آج کے تناظر میںایک نئی اہمیت کے ساتھ زیر بحث آرہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ مادری زبان اس تمام منظر نامے میں کس مقام پر کھڑی ہے؟ زبانوں میں جو کشمکشِ حیات جاری ہے وہ ایک طرف لیکن ایک بہت اہم موضوع یہ بھی بن چکا ہے کہ تعلیم اور بالخصوص ابتدائی تعلیم کے لیے جتنی موزوں مادری زبان ہو سکتی ہے اتنی کوئی اور نہیں ہوسکتی۔ ماضی میں اگر مادری زبان کے حق میں چار دلیلیں دی جاسکتی تھیں تو آج اسکے حق میں دس دلیلیں دی جارہی ہیں۔ پہلے مادری زبان کا موضوع ادبی حلقوں، مقامی ثقافتوں اور لسانیات کے ماہرین کا موضوع تھا۔ پھر یہ سیاست اور ریاستی تفکرات کے دائرے میں داخل ہوگیا اور اب سائنس کے مخلف شعبوں سے وابستہ اہلِ دانش اس موضوع پر اپنے دلائل کے ساتھ شاملِ گفتگو ہوچکے ہیں۔

مادری زبان کے حق میں تاریخی طور پر بہت سے دلائل دیے گئے ہیں۔ ایک بالکل سامنے کی بات یہ ہے کہ مادری زبان سیکھی نہیں جاتی یہ انسان کو حاصل ہوجاتی ہے بڑی خاموشی کے ساتھ، بالکل غیر محسوس طریقے سے۔ انسان فطری طور پر اس کو اختیار کرتا ہے، بظاہر بغیر کسی کوشش کے۔ نہ اس کے لیے کوئی سبق لینے پڑتے ہیں نہ مکتب میں جانا پڑتا ہے اور نہ ہی اسکے لیے کسی قسم کا مالی تردّد روا رکھنا پڑتا ہے۔ بچہ آنکھ کھولتا ہے تو ماں کی گود میں جو ابتدائی چیزیں وہ سنتا ہے اور جو کہنے کی کوشش وہ خود کرتا ہے وہ سب اتنا عین فطری ہے کہ اس سے زیادہ فطری شاید اور کوئی چیز نہ ہو۔ یہ جو مادری زبان کے سیکھنے (Learning) کے بجائے اسکے حاصل کرلینے (Acquiring)کا امر ہے اسکے نتائج بھی بڑے دوررس نکلتے ہیں۔ بچہ بہت سہولت سے دنیا میں اپنا سفر شروع کرتا ہے۔ اس کا دماغ اور ذہن کسی دبائو میں نہیں آتا، ایک مانوس فضا ایک مانوس دنیا پہلے دن سے اس کو اپنی آغوش میں لیے رکھتی ہے۔

زرا بڑا ہوتا ہے تو بچے کو گرد و پیش کی دنیا سے سابقہ پیش آتا ہے۔ کچھ چیزیں مادی وجود کی شکل میں اسکے سامنے آتی ہیں کچھ چیزیں خیالی اور تجریدی (Abstract) نوعیت کی ہوتی ہیں۔ مادری زبان میں بچہ چیزوں کو سمجھنے کی اتنی اہلیت حاصل کر چکا ہوتا ہے کہ اب حقائق و خیالات کو سمونے کی اور جذب کرنے کی صلاحیت بھی اس میں پیدا ہونے لگتی ہے۔ 

مائیں آس پاس ہوں اور وہی مادری زبان بولنے والے لوگ آس پاس ہوں تو بچے کا ذہن نئی چیزوں کو سمجھنے میں دیر نہیں لگاتا۔ بہت سی چیزیں بالکل مقامی نوعیت کی ہوتی ہیں، گائوں میں آنکھ کھولنے والا بچہ وہاں پائے جانے والے مخصوص جانوروں کو دیکھتا ہے، ایک مخصوص تلفظ سے مانوس ہوتا ہے ، چیزوں کو پرکھنے کا ایک خاص اسلوب اسکے سامنے آتا ہے، احساسات، خیالات ، اشارے یہاں تک کہ کنائے بھی مقامی ماحول سے ابھر رہے ہوں تو مادری زبان کا پروردہ بچہ رفتہ رفتہ ان سے مانوس ہوتا چلا جاتا ہے۔

یہ تو سب سامنے کی باتیں تھیں جن کو ہر کوئی دیکھتا ہے اور ان کو سمجھنے میں بھی کوئی دشواری نہیںہوتی۔ اہلِ علم نے اسی صورتِ حال کو اپنے انداز میں بیان کیا ہے۔ برٹرنڈرسل بہت بڑے مفکر تھے۔ انسان اور کائنات ، نظامِ معیشت و سیاست ، تاریخ اور اسکے ارتقاء پر انکی گہری نظر تھی۔ مادری زبان پر ان کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کیسی عمدہ مثال پیش کی۔ اُن کا کہنا تھا کہ ایک بڑھتا ہوا پودا، ایک بلوغت حاصل کرتا ہوا فرد، دونوں ہی اپنے خارجی ماحول (Environment) سے براہ راست طور پر مستفید ہوتے ہیں۔ ان کا قریب ترین گردوپیش ان کی نشوونما پر سب سے ذیادہ اثر انداز ہوتا ہے۔

نوم چومسکی ہمارے زمانے کے بہت بڑے سامراج مخالف دانشور ہی نہیں بلکہ لسانیات کے عالمگیر سطح کے ماہر مانے جاتے ہیں۔ مادری زبان کے موضوع پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے انہوں نے زبان اور انسان کے دماغ کے درمیان رشتے کو سائنسی سطح پر سمجھا اور سمجھانے کی کوشش کی۔ ان کا کہنا ہے کہ زبان دراصل دماغ ہی کا آئینہ (mirror of brain)ہے۔ انسانی دماغ کا ایک اہم حصہ زبان کے لیے مخصوص ہے۔وہ اس کو’’حسِ زبان‘‘) (language faculty کا نام دیتے ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ دماغ کا یہ حصہ تولیدی طور پر وجود میں آجاتا ہے ،جیسے انسان کا گردہ ہے، نظامِ دورانِ خون ہے، اسی طرح دماغ کا یہ زبان سے متعلق حصہ بھی ہے۔ نوم چومسکی اس کو’’حیاتیاتی وقف‘‘ (Biological endowment) کا نام بھی دیتے ہیں، یعنی ’’زندگی یاب بیمہ‘‘ یعنی ایک ایسا بیمہ جو جیتے جی مل جائے۔ 

چومسکی کا یہ بھی کہنا ہے کہ زبان سے متعلق انسانی دماغ کا مخصوص حصہ تبدیل بھی ہوتا رہتا ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ جیسے دیگر حیاتیاتی نظام تبدیل ہوتے رہتے ہیں اسی طرح دماغ کا یہ حصہ بھی ارتقاء اور اتفاع پذیر رہتا ہے ۔ چنانچہ بچپن کے مقابلے میں اگلے مرحلوں میں اس کی استدعا بڑھ چکی ہوتی ہے۔ دماغ کا یہ حصہ جو ابتداء میں ماں اور اسکی آوازکی آغوش میں پروان چڑھتا ہے بعد ازاں اس چیز کے لیے تیار ہوچکا ہوتا ہے کہ دوسری زبانیں بھی سیکھ لے اور دوسری زبانوں کو بھی قبول کرسکے۔

مادری زبان کی اہمیت اور اس کی افادیت کے بارے میں دنیا کی سب ہی زبانوں میں بہت کچھ کہا اور لکھا گیا ہے۔ شاید ہی کسی زبان کا ادب ہو جس میں مادری زبان کی اہمیت کو تسلیم نہ کیاگیا ہو۔ خود ہماری سرزمین پر ہر زبان کے ادب میں جہاں مقامیت کی بْو باس بسی ہوئی ہے وہیں ماں بولی یا مادری زبان کی اہمیت کا اقرار بھی مختلف صورتوں میں پایا جاتا ہے۔ اردو زبان جو برصغیر کے مختلف خطوں میں رابطے کی زبان کے درجے پر برسہا برس سے فائز رہی ہے اور اردو بولنے والوں کی بستیاں اب برصغیر سے باہر یورپ، امریکہ، مشرقِ بعید، غرض دنیا کے ہر خطے میں آباد ہو چکی ہیں، بہت سے لوگوں کے لیے مادری زبان کا درجہ بھی رکھتی ہے۔ 

یہی نہیں بلکہ اردو کے اہلِ قلم کی ایک بڑی تعداد نے بھی مادری زبان کے حق میں بہت کچھ لکھا ہے ۔ اس ضمن میں بہت سے اساتذہء ادب اور فکر و دانش کی دنیا کے سرکردہ لوگوں کے بیانات حوالے کے طور پر درج کیے جاسکتے ہیں لیکن مادری زبان کے حق میں جو فکر انگیز اور عقلیت پر مبنی اظہارِ خیال جوش ملیح آبادی نے کیا اس کی نظیر شاید اردو کی کسی اور تحریر میں نظر نہ آئے۔ مادری زبان کے موضوع پر اظہار ِ خیال کرتے ہوئے اپنے مضمون ’’مادری زبان سے روگردانی‘‘ میں انہوں نے اکتسابی اور مادری زبان کا فرق بیان کیا ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ:

’’ اکتسابی زبان ماں کے سینے سے منہ لگا کر پی نہیں جاتی، بلکہ معلم کی درسگاہ میں سیکھی جاتی ہے،اس میں کوئی شک نہیں کہ جو بچے اپنی مادری زبان کی نوک پلک سے اچھی طرح واقف ہیں وہ اکتسابی زبان پر بھی بہت کچھ عبور حاصل کرلیتے ہیں ۔ لیکن اگر کوئی ستر ہزار بار بھی مَر کر جنم لے، پھر بھی وہ اکتسابی زبان پر اپنی مادری زبان کی طرح ، عبور حاصل نہیں کرسکتا۔‘‘

آگے چل کر وہ مزید لکھتے ہیں کہ:

’’ کارلائل نے کتنی باون تولے اور پائو رتّی کی بات کہی ہے کہ اگر تم ادیب ہو تو صرف اس زبان میں ادب پیدا کرو جس کی گرامرجاننے سے پہلے تم اس زبان کو صحت کے ساتھ بولتے تھے ۔ ‘‘

مادری زبان کے حق میںجوش ملیح آبادی کا مندرجہ ذیل اقتباس تو ان کے عقلیت پسند طرزِ فکر اور سائنس کے ساتھ ان کے ذہنی تعلق کا ایک بے مثال مظہر ہے۔

’’ دراصل یہ مقدس مائیں ہی تھیںجنہوں نے اپنے لبوں کی مہک، اپنی زلفوں کی خوشبو، اپنی دلائیوں کی سرسراہٹ، اپنے پالنے کی ڈوریاں کھینچنے والے ہاتوں کے لوچ، اپنی لوریوں کی گنگناہٹوں اور اپنے دودھ کی بتیس دھاروں کے ذریعے ، گونگے بچوں کو زبان سکھانا، زبان چٹانا اور زبان پلانا شروع کردیا۔ جس کا مبارک نتیجہ یہ نکلا کہ زبان بچوں کی ہڈیوں کے گودے تک اتر گئی، ان کے پور پور میں اتر گئی _ انکے ہونٹ اور گلوں میں تیر گئی، انکی رگ رگ میں اس کے جال دوڑگئے اور وہ انکے خون میں گردش کرنے لگی۔‘‘

زبان کی اس اہمیت اور اس کے اعتراف میں دیے جانے والے عقلی دلائل کے باوجود ایک دنیا مادری زبان کے حوالے سے بعض تحفظات کا اظہار بھی کرتی ہے۔ بہت ضروری ہے کہ ان تحفظات پر بھی بات کی جائے اور ان کا شافی جواب دینے کی کوشش کی جائے۔ مادری زبانوں کے حوالے سے عموماً ایک اظہارِ خیال یہ کیا جاتا ہے کہ ان میں سے بیشتر محض مقامی نوعیت کی حامل ہوتی ہیں ۔ یہ ترقی یافتہ دنیا کے تقاضوں کو پورا کرنے کی صلاحیت سے عاری ہوتی ہے۔ اس کاسیدھا سا جواب یہ ہے کہ زبانیں مقامی ہوں یا کسی مخصوص مقام سے بڑھ کر بڑے خطوں میں بولی جانے والی ہوں، ان کی ترقی اور نشوونما انسان کی مساعی اور کوششوں پر

اپنا دارومدار رکھتی ہے۔ ایک زبان کی بقا اور ترقی کا راز اسی میں مضمر ہے کہ اُس زبان کے اندر کتنا تخلیقی جوہر موجود ہے اس کو بولنے اور لکھنے والے کتنی نئی چیزیں اس میں کہنے اور لکھنے کے اہل ہیں ۔ اس زبان کی شاعری کس حد تک مقامی موسیقی سے مل کر ایک دنیا پر اثر انداز ہوسکتی ہے۔ آج کی دنیا میں جبکہ ترسیلِ افکار اور ثقافتی اظہار کے ذرائع غیر معمولی طور پر ترقی کر چکے ہیں، مقامی اور مادری زبانوں میں کہی گئی باتیں دور دراز تک پہنچنے میں دیر نہیں لگاتیں۔ ہم نے دیکھا ہے کہ کس طرح سے کولمبیا کی گلوکارہ کا گایا ہوا نغمہ فوٹ بال کے عالمی کپ کے توسط سے دنیا کے اطراف و اکناف تک پہنچ گیا۔ کس طرح سے ہندوستان کے پسماندہ خطے کا نغمہ عالمگیر شہرت کا حامل بن گیا۔ سو مادری زبان مقامیت کی سرحدوں کو توڑ کر عالمگیر سرحدوں تک پہنچ جانے کے امکان سے محروم نہیں ہے۔

ایک اور خیال یہ پایا جاتا ہے کہ اب جبکہ انگریزی ساری دنیا میں پھیل چکی ہے، یہ عالمگیریت کی زبان بن چکی ہے تو اس کے ہوتے ہوئے مادری زبانوں پر اصرار کیوں کیا جائے۔ بات سیدھی سی ہے کہ انگریزی ضرور گلوبلائز ہو چکی ہے لیکن دنیا بھر کی مائیں نہ تو گلوبلائزڈ ہیں نہ ہی وہ سب انگریزی میں بولتی اور سوچتی ہیں۔ سو جب تک مائوں کی اپنی ایک زبان ہے ان کی زبان بچوں کے لئے سائنسی اور سماجی طور پر حاصل کردہ زبان رہے گی۔

مادری زبانوں کی اہمیت سے انکار کرنے والے بیشتر وہ ذہن ہیں جو انگریزی زبان اور اسکے حاصلات سے مرعوب ہیں۔ انگریزی یقیناً ایک عظیم الشان زبان ہے اس کاعلمی اور ادبی سرمایہ نظروں کو خیرہ کرتا ہے۔ اس میں پایا جانے والا فکری سرمایہ انسانیت کا بہت بڑا اثاثہ ہے سو اس کی اہمیت سے کسی طور انکار نہیں کیا جاسکتا ۔ لیکن اس عالمی زبان کی جہاں ایک حیثیت اور اہمیت سب انسانوں کے لیے ہے وہیں اس کی ایک غیر معمولی اہمیت انگریز مائوں اور انکے بچوں کے لیے ہے جن بچوں کو یہ مادری زبان کے طور پر حاصل ہوئی ہے۔ اسی طرح دنیا کی دوسری زبانوں کو بھی مادری زبان ہونے کی اپنی حیثیت سے آگے بڑھ کر ایک بڑی زبان بننے اور ہوسکے تو عالمی درجے تک فائز ہونے کے حق سے محروم نہیں کیا جاسکتا۔

یہ بات ہمارے پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ زبانیں ایک دوسرے کی دشمن نہیں ہوتیں۔ یہ ہمارے دنیا داری کے مسائل ہیں، انسانوں کی مختلف حوالوں سے تقسیم ہے، کشمکش کے مختلف اسباب ہیں کہ جو زبانوں کو بھی آلودہ کرنے کا سبب بن جاتے ہیں۔ لیکن ہم اگر انسانی صفوں میں ہم آہنگی پیداکرنے کی کوشش کریں، اپنے اپنے معاشرے کے تضادات کو ختم کرنے کی جدوجہد کریں، ایک وسیع تر اور ہمہ گیر انسانی معاشرہ ان تمام تر انصاف کے اصولوں پر استوار ہوا ہو اور اسے قائم کرنے میں کامیاب ہوں تو ہم دیکھیں گے کہ زبانیں ایک دوسرے کو آگے بڑھانے اور ایک دوسرے کے اندر ارتقاء اور ارتفاع کا ذریعہ بھی بن جائیں گی۔