• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
,

حکومت یا اپوزیشن: چیئرمین سینیٹ کا ’’ہما‘‘ کس کے سر پر؟

وفاقی دار الحکومت میں کئی دنوں سے پار لیمانی گہما گہمی چل رہی ہے۔ پہلا معرکہ سینیٹ الیکشن میں پی ڈی ایم کے امیدوار سید یوسف رضا گیلانی نے وزیر خزانہ ڈاکٹر عبد الحفیظ شیخ کو شکست دے کر جیت لیا۔ اس سے حکومتی کیمپ کو بہت دھچکا لگا بلکہ حکمران اتحاد کے قلعہ میں شگاف پڑ گیا ۔وزیر اعظم اور وزراء پر اعتماد تھے کہ جیت ان کی ہوگی لیکن انہیں بہرحال اپ سیٹ کا سامنا کرنا پڑا۔ وزیر اعظم نے گرے ہوئے مورال کو بچانے کیلئے ترپ کا پتہ کھیلا اور اعتماد کا ووٹ لےلیا ۔ یہ معرکہ بہرحال وزیر اعظم نے جیت لیا ہے اور اپوزیشن والے دیکھتے رہ گئےلیکن ابھی ان کیلئے امتحان کے کئی مرحلے باقی ہیں ۔ 

اب تیسرا معرکہ چیئر مین سینیٹ کے الیکشن کا ہے ۔ وزیر اعظم نے مو جودہ چیئر مین سینیٹصادق سنجرانی کو امیدوار نامزد کردیا ہے۔اگرچہ سینیٹ میں اپوزیشن کی اکثر یت ہے لیکن اس سے قبل جب صادق سنجرانی کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک آئی تھی تو انہوں نے جادو کی چھڑی سے اپوزیشن کے ووٹ بھی حاصل کرلئے تھے ۔دیکھنا یہ ہے کہ اس مرتبہ بھی جادو کی چھڑی کام دکھائے گی یا نہیں کیونکہ اس مرتبہ آصف زرداری کا کردار ماضی سے مختلف ہوگا۔ چیئر مین سینیٹ کی نشست جیتنے کیلئے حکومت اور اپوزیشن دونوں ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں ۔ 

اب دیکھتے ہیں کہ ہما کس کے سر پر بیٹھتا ہے لیکن یہ ریزلٹ مستقبل کی سیا ست کے رخ کا تعین کرے گا۔ صادق سنجرانی وزیر اعظم کے امیدوار ہیں اور ان کی شکست وزیر اعظم کی شکست تصور کی جا ئے گی۔وزیر اعظم کو اس کے بعد بھی کئی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ایک چیلنج سیاست میں تشدد کے رجحان کو بھی روکنا ہے جس کا آ غا ز بد قسمتی سے پی ٹی آئی کے کارکنوں نے پارلیمنٹ لاجز کے سامنے مسلم لیگ ن کے رہنماوں کی پریس کانفرنس پرہلہ بول کر کیا ہے۔

وزیر خزانہ ڈاکٹر عبد الحفیظ شیخ کی شکست میں وزیر اعظم کیلئے کئی سبق ہیں ۔ ایک تو یہ کہ ان کو اسلام آ باد کی بجا ئے اگر سندھ یا خیبر پختونخوا سے ٹکٹ دیا جا تا تو ان کا انتخاب یقینی تھامگر وزیر اعظم اور ان کی ٹیم ضرورت سے زیادہ پر اعتماد تھی اور وہ شکست کے آپشن کا سوچنے کیلئے بھی تیار نہیں تھے ۔ کئی وزراء ڈاکٹر عبد الحفیظ شیخ کو مبارکباد دینے کیلئے گلدستے منگوا چکے تھے ۔ 

جونہی رزلٹ آیا تو تمام وزراء وزیر اعظم ہائوس کی جانب بھاگے اور سب نے اس غیر متوقع رزلٹ پر سر جوڑ لئے ۔ ڈاکٹر عبد الحفیظ شیخ کو پانچ ووٹوں سے شکست ہوئی ۔ سات ووٹ مسترد ہوئے لیکن وزیر اعظم عمران خان نے خود ہی اعتراف کیا کہ ان کی پارٹی کے 16ممبران نے ضمیر بیچا۔ وزیر اعظم نے اعتماد کا ووٹ لینے کا اعلان کرکے بر محل سیاسی فیصلہ کیا۔

اس سے انہیں اخلاقی برتری حاصل ہوئی لیکن قوم سے خطاب کی کوئی ضرورت نہیں تھی ۔ اس تقر یر میں وہ جذباتی تھے ۔ وہ وزیر اعظم سے زیادہ چیئر مین پی ٹی آئی کی تقر یر تھی ۔انہوں نے کہا کہ ہمارے 16ووٹ  بکے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ انہوں نے ان ضمیر فروشوں کے خلاف کسی کاروائی کی بجا ئے ان بے ضمیروں سے اگلے روز اعتماد کا ووٹ بھی مانگا اور لیا۔ 

ان کیلئے یہ بھی سوالیہ نشان ہے کہ 2018کے سینیٹ الیکشن میں بھی ان کے کے پی اسمبلی کے22ارکان بکے ۔ 2021 کے سینیٹ الیکشن میں بھی ان کی ہی جماعت کے16ارکان بکے ۔ سوال یہ ہے کہ آخرہر بار پی ٹی آئی کے ممبران کیوں بکتے ہیں۔ اس سے یہ ثابت ہوا کہ وزیر اعظم نے ٹکٹ اچھے اور موزوں لوگوں کو نہیں دیے۔ وزیر اعظم نے اپنے خطاب میں الیکشن کمیشن پر تنقید کرکے ایک نیا محاذ کھول دیا ۔ 

الیکشن کمیشن ایک خود مختار آئینی ادارہ ہے۔ چیف الیکشن کمشنر کی تقرری خود وزیر اعظم نے کی ہے۔الیکشن کمیشن نے وزیر اعظم اور وزراء کی پریس کانفرنس کا جواب دے کر حکومت کیلئے سبکی کا سامان فراہم کیا ہے۔وزیر اعظم اور وزراء کیلئے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ اس طرح ایک آئینی ادارے کو ہدف تنقید بنائیں ۔اگر انہیں کسی فیصلے پر اعتراض ہے تو اس کیلئے قانونی اور آئینی راستہ اختیار کریں۔

وزیر اعظم کو178ووٹ ملے ہیں ۔ اعتماد کا ووٹ ملنے کے بعد بظاہر وزیر اعظم مضبوط ہوگئے ہیں ۔ ان کی پارٹی کا مورال بحال ہوگیا ہےلیکن اس کامطلب یہ نہیں ہے کہ سب اچھا ہوگیا ہے۔ وزیر اعظم نے سمارٹ مو وو کی ہے لیکن یہ بات پیش نظر رہے کہ اعتماد کے ووٹ کی کامیابی اسلئے ممکن ہوئی ہے کہ منحرف ممبران کے سر پر نا اہلی کی تلوار لٹک رہی تھی ۔

وزیر اعظم کی زیرصدات ہونے والے پا رلیمانی پارٹی کے اجلاس میں وزیر دفاع پرویز خٹک اور چیف وہپ ملک عامر ڈوگر نے ممبران کو رولز پڑھ کرسنائے کہ جو رکن اسمبلی وزیر اعظم کو اعتماد کا ووٹ نہیں دےگا وہ نا اہل ہو جا ئے گا۔صرف اسی پر اکتفا نہیں کیا گیا بلکہ وزیر اعظم نے بطور چیئر مین پی ٹی آئی تمام ممبران اسمبلی کو خط لکھا جس میں رولز کا حوالہ دے کر ڈرایاگیا کہ جو ممبر اسمبلی اعتماد کا ووٹ نہیں دے گا یا غیر حاضر رہے گا وہ ڈی سیٹ ہوجا ئے گا۔یہ دھمکی کام کرگئی اور وزیر اعظم کو 178ووٹ پڑے ۔سادہ اکثریت کیلئے172ووٹ درکار ہوتے ہیں ۔ 

جب عمران خان وزیر اعظم بنے تھے تو انہیں176ووٹ ملے تھے ۔پی ڈی ایم نے وزیر اعظم کے اعتماد کا ووٹ لینے کی کاروائی کا بائیکاٹ کیا۔اپوزیشن کا موقف یہ ہے کہ اعتماد کے ووٹ کیلئے صدر مملکت وزیر اعظم کو خط لکھتے ہیں کہ آپ کو ایوان کی اکثر یت کا اعتماد حاصل نہیں رہا لھذا آپ دو بارہ اعتماد کا ووٹ لیں ۔ اس کی بجائے حکومت نے اپنی سمری بھیجی جو غیر آئینی عمل ہے اسلئے ہم اس غیر آئینی عمل کا حصہ نہیں بن سکتے ۔ پی ڈی ایم کی قیادت بہت منجھی ہوئی ہے ۔ مو لا نا فضل الر حمن اور آصف علی زردار ی بڑی مہارت سے اپنے کارڈ کھیل رہے ہیں۔

وہ مرحلہ وار اٹیک کریں گے ۔ اپوزیشن نے یوسف رضا گیلانی کی نشست جیت کر حکو متی قلعے میں جو شگاف ڈالا ہے اس سے اب یہ تاثر تقو یت حاصل کرگیا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ غیر جانبدار ہوگئی ہے۔پی ڈی ایم ابھی اس حکمت عملی کو حتمی شکل دے رہی ہے کہ تبدیلی کا عمل پنجاب سے شروع کیاجا ئے یا مرکز سے ۔ پہلے اسپیکر قومی اسمبلی کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لائی جا ئے یا وزیر اعظم کے ۔

آئین میں ایسی کوئی قدغن نہیں ہے کہ وزیر اعظم کے اعتماد کا ووٹ لینے کے بعد عدم اعتماد کی تحریک نہیں لائی جاسکتی۔ جب بھی عدم اعتماد کی تحریک آئے گی خواہ وہ اسپیکر کے خلاف ہو یا وزیر اعظم کے اس پر رائے شماری خفیہ رائے دہی کے ذریعے ہوگی ۔

تجزیے اور تبصرے سے مزید
سیاست سے مزید