سوچ بدلنی ضروری ہوگئی ہے
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

محمد فاروق دانش

طلبہ کوئی بھی ہو لڑکے یا لڑکیاں، دنیا بھر میں یہ دونوں صنف پڑھنے کی جانب بھرپور انداز سے مائل ہیں اور اپنی ترقی کے لیےکوشاں ہیں۔ سب اپنے اپنے طور پر مصروف عمل ہیں لیکن ہمیں یہ بات کہنے میں کوئی عار نہیں کہ لڑکوں کے مقابلے میں لڑکیاں پڑھائی کی طرف زیادہ مائل ہیں اور اپنی دلچسپی کی بنیاد پر مختلف شعبوں میں کارہائے نمایاں انجام دے رہی ہیں جبکہ لڑکوں میں ایسے بھی ہیں جو بزور والدین پڑھائے جارہے ہیں ورنہ ایسی تعداد بھی ہے کہ اگر انہیں موقع دیا جائے تو وہ پڑھنے کے علاوہ دنیا کے تمام مشاغل اپنانے کیلئے ہمہ وقت تیار ہیں۔

کسی بھی معاشرے کی بقا اور ترقی کے لیےمرد اور عورت دونوں کا کردار اپنی جگہ اہمیت رکھتا ہے۔ کہتے ہیں کہ ہر مرد کی کامیابی کے پیچھے ایک عورت کا ہاتھ ہوتا ہے۔ عورت کو مرد کا نصف کہا جاتا ہے۔ جب اس نصف کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کیا جائے گا تو وہ زندگی کے مختلف شعبوں میں اپنی قابلیت اور صلاحیتوں کو بروئے کار لاسکے گی۔ تعلیم و تربیت کا فقدان ہو تو سماج کا یہ نصف فکر اور شعور سے محروم رہ جائے گا۔

معاشرے میں مثبت تبدیلی کا خواب اس وقت تک شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا جب تک لڑکے اور لڑکیاں دونوں اپنی اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کی سعی نہ کریں۔ اگر ہم زندگی کے مختلف شعبوں پر نظر ڈالیں تو علم ہوگا کہ خواتین بعض شعبوں پر حاوی ہیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ایک عورت کو تعلیم دینا، پورے معاشرے کو سنوارنے کے مترادف ہے۔ عورت ایک فرد نہیں بلکہ ایک مکتب ہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق نیوزی لینڈ میں 89فی صد لڑکیاں یونیورسٹی میں داخلے کی اہل ہوتی ہیں جب کہ ان کے مقابلے میں صرف 60فی صد لڑکے یونیورسٹی تک پہنچنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ آئس لینڈ میں 80فی صدلڑکیوں کے مقابلے میں صرف 40فی صد لڑکے یونیورسٹی تک پہنچ پاتے ہیں۔لڑکے تعلیم کے شعبے میں لڑکیوں سے کیوں پیچھے ہوتے جارہے ہیں؟ کیا وہ تعلیم میں آنے والی رکاوٹوں کو زیادہ آسانی سے پار نہیں کر پاتے؟ 

65سے زیادہ ممالک کے طلبا و طالبات کی تعلیمی قابلیت کا مطالعہ کیا گیا اور اس سے یہ نتیجہ سامنے آیا کہ 15سے 18سال کی درمیانی عمر کے لڑکے، لڑکیوں کے مقابلے میں تعلیمی میدان میں نسبتاً کم کامیابی حاصل کرپاتے ہیں جبکہ لڑکے، لڑکیوں کے مقابلے میں ہوم ورک کرنے میں سستی دکھاتے ہیں یعنی وہ ہوم ورک پر کم توجہ دیتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق لڑکے اپنا زیادہ وقت ویڈیو گیمز کھیلنے پر لگاتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں لڑکیاں بہترین تعلیمی کیریئر رکھتی ہیں۔ محنت جو بھی کرے گا، وہ آگے ہوگا چاہے لڑکا ہو یا لڑکی! اگر لڑکے بھی لڑکیوں کی طرح محنت کریں گے تو یقیناً وہ بھی تعلیم کے میدان میں آگے ہوں گے۔

تعلیم کے معاملے میں اکثر والدین لڑکوں پر زیادہ توجہ دیتے ہیں بہ نسبت لڑکیوں کے! ان کا ایک خیال یہ ہوتا ہے لڑکے ہی ان کا مستقبل ہیں اور وارث ہیں اس لئے ان کو پڑھا لکھا کر قابل بنایا جانا چاہئے۔ اس کے باوجود لڑکوں کے مقابلے میں لڑکیاں پڑھائی پر زیادہ توجہ دیتی ہیں۔ والدین کی سوچ لڑکیوں کی تعلیم کے معاملے میں تبدیل ہوئی ہے لیکن ذہنی پسماندگی کا تناسب زیادہ ہے۔ ماں، باپ یہی سمجھتے ہیں کہ ان کے ہاتھ پیلے کرنے ہیں پھر زیادہ تعلیم کیوں…؟ یہ یاد رکھئے کہ حالات کبھی ایک جیسے نہیں رہتے۔ ضروری نہیں کہ بہت اونچے، کھاتے پیتے گھرانے میں بیاہنے سے لڑکی کا مستقبل محفوظ ہوجائے گا، یہ ایک عمومی سوچ ہے۔ ایک پڑھی لکھی، پراعتماد لڑکی یقیناً حالات کا مقابلہ کرسکتی ہے اور اپنا اور اپنے کنبے کو سہارا دے سکتی ہے۔ 

وہ اپنی ڈگریوں اور اہلیت کی بنیاد پر باعزت نوکری حاصل کرسکتی ہے جبکہ ماں کی جانب سے اچھی تربیت اور تعلیم کے نتیجے میں پیدا ہونے والا اعتماد اسے مضبوط اور توانا رکھے گا۔ ہمارے ملک میں اکثریت مڈل کلاس یا غریب لوگوں کی ہے اور یہاں بنیادی سہولت کا فقدان ہے ،جب کہ مہنگائی روزبروز بڑھ رہی ہے۔ اس پہلو کو بھی مدنظر رکھیں کہ کسی وجہ سے عورت اپنے باپ کے سائے یا شوہر کی رفاقت سے محروم ہوجاتی ہے، اگر وہ سمجھدار اور تعلیم یافتہ ہوگی تو اپنے بھائیوں یا سسرالی عزیزوں کی طرف دیکھنے کے بجائے خود ہمت کرکے اپنی ضروریات پوری اور اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ پال سکتی ہے۔ 

اس کے برعکس ایک ان پڑھ لڑکی ایسی افتاد سے گھبرا جائے گی اور اپنے کنبے کو سنبھالنے سے قاصر ہوگی۔ یہ کہا جائے تو بیجا نہ ہوگا کہ عورت ناظم بھی ہے اور مجاہدہ بھی ہوسکتی ہے۔ اسلامی تاریخ میں اس کی کئی مثالیں ہیں۔ دنیا کی مختلف اقوام میں ترقی اور اجتماعی سطح پر انقلابی تبدیلیوں کے پیچھے عورت کسی نہ کسی طرح نہ صرف موجود رہی ہے بلکہ اس نے کئی محاذوں پر قائدانہ صلاحیتوں کو بھی منوایا ہے۔

موجودہ معاشرے میں لڑکیوں کا تعلیم یافتہ ہونا اشد ضروری ہے ،تاکہ وہ کسی پر انحصار کرنے کے بجائے ایک ذمہ داری شہری بنیں اور ملک و ملت کیلئے ایک اثاثہ ثابت ہوسکیں۔ تعلیم کے بغیر معاشرے میں سدھار کا تصور فضول ہے۔ تعلیم ہی وہ زیور ہے ،جس کے ذریعے اخلاق وکردار کو سنوارا جاسکتا ہے۔ لڑکیوں کی تعلیم ہی معاشرے میں حقیقی تبدیلی کا سبب بن پائے گی۔ گھر گرہستی سے جنگ کے میدان تک، تعلیم سے عدالت، شفا خانوں میں مسیحائی تک اور سائنس کے میدان میں ایجادات تک تاریخ اس کے کردار اور کارناموں سے مزین ہے۔ 

آج بھی اگر ایک پڑھی لکھی اور باشعور ماں کے ہاتھوں اس کی اولاد خصوصاً لڑکی کی بہتر تعلیم و تربیت ہو تو وہ ایک کارآمد اور مہذب شہری بننے کے ساتھ ساتھ قوم کی ترقی اور خوشحالی کیلئے اپنا کردار ادا کرسکتی ہے۔ ہمارے لئے یہ ضروری ہے کہ اپنی بیٹیوں کو بھی تعلیم سے آراستہ کریں اور انہیں معاشی میدان میں خودکفیل بنائیں ،تاکہ وہ زندگی اپنے بل بوتے پر گزارنے کی کوشش کرسکیں۔

ہمارے سماج میں کچھ پڑھے لکھے گھرانوں کی سوچ بھی اب تک نہیں بدلی ہے اور وہ لڑکیوں کی اعلیٰ تعلیم کے خلاف ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ لڑکیوں سے نہ تو نوکری کروانی ہے، نہ ان کی کمائی کھانی ہے کیونکہ وہ غیرت مند ہیں۔ اس دور میں یہ باتیں عجیب ہی نہیں افسوسناک بھی ہیں۔ کیا آپ بھی یہی چاہتے ہیں کہ بیٹی آپ کے گھر میں رہے تو ہمیشہ آپ کے آگے اپنی ضروریات کیلئے ہاتھ پھیلاتی رہے اور باقی زندگی خاوندکے آگے…؟ سوال کمائی یا نوکری کا نہیں یہاں! سوال انہیں مکمل اعتماد کے ساتھ اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کا ہے۔

کیا خواتین صرف ہانڈی، چولھا کرنے اور ہر ایک کی خدمت کرنے کیلئے ہی پیدا ہوئی ہیں؟ یہ درست ہے کہ گھر اور ہانڈی، چولھا عورت سنبھالتی ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس کی زندگی کا صرف یہی ایک مقصد ہے اور وہ اس کے سوا کچھ نہ کرے۔ وہ ذہنی اور جسمانی اعتبار سے اگر اس قابل ہے کہ اپنی خانگی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے ساتھ اپنی ضروریات اور تعلیمی قابلیت کے مطابق کوئی کام کرسکے تو اسے پابند کرنا کہاں کی دانشمندی ہے۔

یاد رکھئے! اگر قوم کی بیٹی علم کے زیور سے آراستہ ہوگی، وہ کبھی بھی کشکول لے کر غیر کے در پر نہیں جائے گی۔ مردوں کی طرح تعلیم عورت کا بھی مکمل حق ہے اور ہم میں سے کسی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ حوا کی بیٹی کو اس کے اس بنیادی حق سے محروم کردیں۔