آپ آف لائن ہیں
ہفتہ4؍رمضان المبارک 1442ھ 17؍اپریل 2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

٭…اَفواہ

اردو میں’’ افواہ‘‘ جھوٹی خبر، اُڑائی ہوئی بات، بے اصل بات اور غیر مصدقہ اطلاع کو کہتے ہیں اوراردو میں یہ واحد ہے ۔ لیکن عربی میں افواہ جمع ہے ’’فوہ‘‘ کی ،جس کے معنی ہیں ’’مُنھ‘‘۔جب کوئی بات مشہور ہوجاتی ہے اور لوگ اس پر تبصرے کرنے لگتے ہیںاورہر شخص اپنی اپنی ہانکنے لگتا ہے تو اردو میں کہتے ہیں ’’جتنے منھ اتنی باتیں‘‘۔ شاید اسی لیے’’ افواہ‘‘( یعنی بہت سے منھ) ’’جھوٹی خبر ‘‘ کے مفہوم میں رائج ہوگیا۔

افواہ کی جمع اردو والوں نے ’’افواہیں ‘‘بنالی ، مثلاً افواہیں مت پھیلائو۔ یامُغیرّ ہ حالت میں اس کے استعمال کی مثال دیکھیں تو جملہ یوں بنے گا: افواہوں پر کان نہیں دھرنا چاہیے۔اردو کے لحاظ سے یہ بالکل درست ہے۔ یہی اردو کا کمال ہے کہ وہ دوسری زبانوںکے لفظوں کو اپنے مزاج کے مطابق ڈھال لیتی ہے۔

٭… اَ سلحہ

پہلے توا س لفظ کے تلفظ پر کچھ بات ہوجائے ۔ اس کا صحیح تلفظ ’’اَ سلِحہ‘‘ (اَس لِ حَ ہ) ہے یعنی الف پر زبر اور لام کے نیچے زیر۔ یہ ’’اَفعِلہ‘‘

(اَ ف عِ ل َہ) کے وزن پر ہے جو عربی میں جمع مُکسّر کے اوزان میں سے ہے ۔ کچھ لوگ اس کا تلفظ غلط طور پر یوں کرتے ہیں کہ ’’اِصلاح ‘‘ سنائی دیتا ہے۔ ان لوگوں کو اپنے تلفظ کی اِصلاح کرنی چاہیے۔

دوسری بات یہ کہ اردو میں ’’اَسلحہ ‘‘ کو اکثر واحد کی طرح استعمال کیا جاتا ہے ، مثلاً : پولیس کو ناجائز اسلحہ ملا ہے۔ یا جیسے :وہ نہتا تھا ، اس کے پاس کوئی اسلحہ نہیں تھا ۔البتہ عربی میں اَسلحہ جمع ہے اور اس کا واحد ’’سِلاح ‘‘ ہے جو اردو میں استعمال ہی نہیں ہوتا۔

٭…حُور

اردو میں حور(بواو ِ معروف) کا مطلب ہے: حسین خاتون جو جنت میں ہوگی، اردو میں حور مجازاً نہایت حسین عورت کو بھی کہتے ہیں۔ عربی میں حور جمع ہے اور اس کا واحد ’’حوراء ‘‘ہے۔ لیکن اردو والوں کا تصرف یہ ہے کہ حور کی بھی جمع بناڈالی اور ارد میں اس کی جمع ’’حوریں‘‘ ہے اورمُغیرّہ حالت میں’’ حوروں‘‘۔ مثلاً اقبال کی’’ضرب ِ کلیم ‘‘ میں شامل نظم ’’مومن‘‘کا مصرع ہے :

حوروں کو شکایت ہے کم آمیز ہے مومن

اقبال نے حور کو واحد ہی کے معنوںمیں استعمال کیا ہے، ’’بال ِ جبریل ‘‘ میں کہتے ہیں:

حور و فرشتہ ہیں اسیر میرے تخیلات میں

اردو کی حد تک حور واحد ہے اور اس طرح استعمال کرنا بالکل درست ہے۔

٭…اُصول

اصول درحقیقت عربی کے لفظ ’’اصل ‘‘ کی جمع ہے اور اصل کے لغوی معنی ہیں : جڑ ، بنیاد۔ لہٰذاصول کا مطلب ہوا جڑیں ، بنیادیں۔ البتہ اردو میں ’’اصول‘‘ اکثر واحد کے طور پر آتا ہے اور یہ قانون، قاعدہ، دستور ، ضابطہ کے معنی میں رائج ہے، جیسے: یہ ہمارا اصول نہیں ہے۔ اردو میں اصول کی بھی جمع بنالی گئی ہے ، مثلاً : یہ ہمارے اصولوں کے خلاف ہے۔

البتہ اردو میں اصول کو جمع کے طو ر پر بھی استعمال کیا جاتا ہے اور یہ مرکبات میں بھی بطور جمع آتا ہے، مثال کے طور پر: اصول الدّین، ا صولِ اوّلیہ ، اصولِ متعارفہ۔ ان تراکیب میں اصول کا لفظ جمع ہے اور’’ قوانین ‘‘یا ’’مقررہ طریقے ‘‘ کے مفہوم میں آیا ہے۔