بھکرجیل منتقل کئے گئے قیدی کے والد کا جوڈیشل انکوائری کا مطالبہ
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بھکرجیل منتقل کئے گئے قیدی کے والد کا جوڈیشل انکوائری کا مطالبہ

راولپنڈی (وسیم اختر،سٹاف رپورٹر) اڈیالہ جیل سے بھکرجیل منتقل کئے گئے قیدی کے والدنے چیف جسٹس آف پاکستان کودی گئی درخواست میں جوڈیشل انکوائری کامطالبہ کردیا ۔شیخ محمداقبال نے چیف جسٹس آف پاکستان کودی گئی درخواست میں کہاہے کہ میری عمر85سال ہے اورمیں بغیر سہارے چلنے پھرنے سے قاصرہوں ،میرابیٹا ڈاکٹر عرفان 19سال سے جیل میں ہے جومختلف بیماریوں میں مبتلاہےاوراڈیالہ جیل کے ہسپتال میں زیرعلاج تھا۔12مارچ کی دوپہراسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ اعجازمیرے بیٹے کے سیل میں آیااوراسے کہاکہ سزائے موت کے قیدی راجہ رائیدکوبلاؤجب راجہ رائیدآیاتواعجازنے اسے ڈانٹناشروع کردیااوراس دوران دونوں میں تلخ کلامی ہوگئی۔ میرے بیٹے نے بیچ بچاؤکرایا،اسی اثنامیں عبدالکریم حوالاتی اورآصف ولدنادرکی آپس میں لڑائی ہوگئی دونوں نے ایک دوسرے کوماراپیٹا۔ڈاکٹرعرفان نے نہ کسی پرہاتھ اٹھایااورنہ ہی گالی دی ،اعجازاے ایس دونوں لڑائی کرنے والوں کوہسپتال سے باہرلے گیاجہاں عبدالکریم نے مزاحمت کی جس پربات بگڑگئی اعجازاحمداوردیگرملازمین اسے پکڑکرچکرمیں لے گئے جہاں عبدالکریم پرتشددہوا،اسی دوران ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ مظہرجیل ہسپتال آیااوراس نے سب کوجیل ہسپتال کے آفس میں بٹھایااوربات ختم ہوگئی ،لیکن عبدالکریم نے اپنی تصاویرجیل سے باہربھجوادیں جن کے وائرل ہونے پراڈیالہ جیل انتظامیہ نے مجبوراً کارروائی کرتے ہوئے خودسے اعجازاے ایس کے خلاف سب سے بیانات لکھوائے اورڈی آئی جی شوکت فیروزنے اعجازکومعطل اورعبدالکریم اورمشقتی آصف کو جھگڑے کی وجہ سے قصوری بندکردیا گیا۔درخواست میں الزام لگایاگیاہے کہ آئی جی جیل خانہ جات کے ڈاکٹرعرفان کے مقدمہ کے مدعی الطاف شاہ سے مراسم ہیں اوروہ عرفان سے ذاتی عنادبھی رکھتے ہیں۔ 2004میں میرے بیٹے پروحشیانہ تشددکرایا گیاتھا،2005میں ایک حوالاتی نعمان کیانی پرتشددکرایاگیاجس کاڈاکٹرعرفان چشم دیدگواہ تھااوراس نے شاہدسلیم بیگ کے خلاف گواہی دی جس پران کی ٹرانسفرہوئی اورتین سال تک پروموشن بھی رک گئی۔جب وہ آئی جی بنے توانہوں نے مبینہ طور پر انتقامی کارروائیاں جاری رکھیں ۔ اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ اعجازکے خلاف گواہی دینے والے 4قیدیوں کوبیماری کی حالت میں پنجاب کی مختلف جیلوں میں بھیج دیاگیاہے اوراس کے لئے ڈاکٹرسے زبردستی فٹنس سرٹیفیکیٹ لیاگیا۔میرے بیٹے ڈاکٹرعرفان کاچالان پنجاب کی دوردرازجیل بھکرمیں نکال دیاجہاں اسے آئی جی کی ہدایت پرقصوری چکی میں بغیرادویات اوربنیادی سہولیات بندکرکے ذہنی اورجسمانی اذیت دی جارہی ہے ۔میرے بیٹے ڈاکٹرعرفان کے خلاف انتقامی کارروائی کی گئی ہے، اس معاملے کی جوڈیشل انکوائری کرائی جائے اورقرآن پاک پرتمام موجودافرادسے حلفاً بیان لئے جائیں ۔ہائی پروفائل قیدیوں کوکیاکیاسہولیات دی جارہی ہیں اس کے تمام ثبوت فراہم کئے جاسکتے ہیں ۔اگرمیرے بیٹے کوکسی قسم کاجانی ،جسمانی یاذہنی نقصان پہنچاتواس کے ذمہ دار آئی جی جیل پنجاب ہوں گے۔
اسلام آباد سے مزید