ابصار عالم پر حملہ
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان میں صحافت ہمیشہ حکومتوں اور طاقتور اشرافیہ کے ہاتھوں بندشوں، دبائو، خوف و ہراس اور تادیبی و تعزیری رویوں کا نشانہ رہی ہے۔ بین الاقوامی تنظیم رپورٹرز ود آئوٹ بارڈرز (آر ایس ایف) کی تحقیقی رپورٹ کے مطابق آزادی صحافت کے اعتبار سے دنیا کے 180ملکوں میں پاکستان کا درجہ 145واں ہے جس میں بتدریج تنزلی آ رہی ہے۔صرف 2021میں اپریل تک ملک میں دس صحافی اور میڈیا ورکرز قتل اور 416حوالہ زندان ہوئے۔ اس افسوسناک عمل کا تازہ شکار سینئرصحافی اور پیمرا کے سابق چیئرمین ابصار عالم منگل کو اس وقت بنے جب اسلام آباد میں وہ اپنے گھر کے قریب پارک میں واک کر رہے تھے۔ ایک شخص نے ان کا پیچھا کیا، گولی ماری اور فرارہوگیا۔ انہیں پمز اسپتال میں پہنچایا گیا جہاں خوش قسمتی سے ان کی حالت خطرےسے باہر بتائی جاتی ہے سیاسی و سماجی رہنمائوں اور صحافتی تنظیموں نے واقعہ کوآزادیٔ صحافت پر حملہ قرار دیتے ہوئے ملوث افراد کو گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا ہے، ایک صحافی کو وفاقی دارالحکومت میں یوں کھلے عام دہشت گردی کا نشانہ بنانا امن عامہ کے حوالے سےحکومتی کارکردگی پر یقیناً ایک سوالیہ نشان ہے۔ آر ایس ایف کے مطابق موجودہ دور میں الیکٹرونک، پرنٹ اور سوشل میڈیا پر دبائو، دھونس اور دھمکیوں کا مسئلہ ڈرامائی طور پر بڑھ گیا ہے۔ سخت سنسر شپ کے کئی کیسز سامنے آئے حکومت کے مخالفین کی کوریج کرنے والے ٹی وی چینل جام کئے گئے۔ اخبارات کی ترسیل روکی گئی۔ اشتہارات کی بندش کا حربہ استعمال کیا گیاجن صحافیوں نے ان پابندیوں کو توڑنے کی جسارت کی انہیں جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا حتیٰ کہ جان سے بھی مارنے کی دھمکیاں دی گئیں۔ حکومت اور متعلقہ اداروں کو اس صورتحال کا سنجیدگی سے نوٹس لینا چاہئے اور آزادی صحافت کویقینی بنانے اور صحافیوں کے تحفظ کیلئے موثر عملی اقدامات کرنے چاہئیں۔

اداریہ پر ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائے دیں0092300464799

تازہ ترین