ارشد محمود غازی مرحوم
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
صدائے زندگی…غفار انقلابی
ارشد محمود غازی کا تعلق میرپور کے شہر کےکشمیری سیاسی گهرانے سے تها وہ کچھ عرصہ تک محکمہ مال میں آفیسر کی حیثیت سے فرائض سرانجام دیتے رہے مگر شاید سرکاری ملازمت ان کے مزاج سے مطابقت نہ رکهتی تھی - وہ ملازمت سے سبکدوش ہو گئے اور اپنے والد گرامی غازی کشمیر غازی الہی بخش کے نقش قدم پر چلتے ہوئے عملی سیاست میں شامل ہوگئے اور اپنے گھر غازی منزل کے ساتھ ہی میرپور شہر کے وسط میں اپبا دفتر بنا لیا اور میرپور کے لوگوں کی خدمت کا بیڑہ اٹها لیا - 1991کے عام انتخابات میں میرپور شہر کے حلقہ سے ممبر قانون ساز اسمبلی منتخب ہوئے اور آزاد کشمیر میں سردار محمد عبدالقیوم کی سربرائی میں بننے والی حکومت میں وزیر صحت کی حیثیت سے حلف اٹهایا - اپنی وزارت کے دوران آزاد کشمیر کے لوگوں کی بلا تخصیص رنگ و نسل، برادری اور علاقہ کے بے لوث خدمت کی اور ایک دیانت دار - پر خلوص اور نڈر لیڈر کے طور پر ابهرے - ان کے بارے میں مشہور تها کہ جو کوئی بهی ان کے دفتر غازی منزل کسی مسئلہ کو لے کر جاتا اس کی ہرممکن مدد کرتے - ارشد محمود غازی گزشتہ ہفتے مختصر علالت کے بعد اس فانی دنیا سے چل بسے مگر انہوں نے میرپور اور آزادکشمیر کے لوگوں کی جو خدمت کی ہے اسے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا - ارشد محمود غازی کے والد گرامی غازی الہٰی بخش مرحوم کردار کے غازی تھےاور انہوں نے کشمیر کے مظلوم لوگوں کے حقوق کی جدوجہد میں عملی طور پر حصہ لیا بلکہ قائدانہ کردار ادا کیااور لوگوں کے سیاسی، سماجی اور مذہبی حقوق کے لئے مسلسل جنگ لڑی اور اس میں ہمیشہ سرخرو ہوئے اسی وجہ سے ان کو غازی کشمیر کا عوامی خطاب ملا ، غازی الہی بخش ڈوگروں کے خلاف جدوجہد میں عملی طور پر شریک رہے اور ڈوگرہ حکمرانوں نے ان کو خاموش کرانے کے لئے قیدوبند کی تکلیفیں اور ازیتیں پہنچائیں مگر انہوں نے اپنا مشن جای رکھا ، سیاسی طور پر وہ مسلم کانفرنس سے وابستہ رہے بلکہ مسلم کانفرنس کے بانیوں میں ان کا شمار ہوتا تھا - مسلم کانفرنس کے قائد چوہدری غلام عباس ، سردار فتح محمد کریلوی ، راجہ حیدر خان اور سردار محمد عبدالقیوم کے ساتھ مل کر ڈوگروں کے ظلم و ستم اور استبداد کے خلاف عملی جدوجہد میں حصہ لیا، قیام پاکستان سے قبل مسلم کا نفرنس کے اجلاس منعقدہ 19 جولائی 1947بمقام سرینگر الحاق پاکستان کی قرارداد منظور کرانے میں بھی ان کا نمایاں کردار تھا ، غازی الہی بخش ایک سچے مسلمان تھے اور مسلمانوں کے تمام مکاتب فکر کے اتحاد پر یقین رکھتے تھے ،اگرچہ ان کا تعلق اہل حدیث مسلک سے تھا مگر ہر سال ہر دسویں محرم کے جلوس میں ہمیشہ شریک ہوتے تھے ، اور سوگواران کو پانی اور مشروبات پلانے کا اہتمام بھی کرتے،نئے میرپور میں مفتی عبدالحکیم کی مرکزی جامع مسجد میں جمعہ کی نماز پڑھنے آتےاور تقریر میں تمام مسلمانوں کے اتحاد پر زور دیتے ، ساٹھ کی دہائی میں جب اینٹی منگلا ڈیم موومنٹ چلی تو دیگر میرپور کی قیادت کے ساتھ مل کر اس تحریک میں حصہ لیا - ارشد محمود غازی نے اپنے والد کے مشن کو اپنی زندگی میں جاری رکھا وہ مشن تھا کشمیر کی آزادی ، ظلم اور استحصال کا شکار غریب اور بے بس لوگوں کی بے لوث مدد کرنا اور مسائل کا شکار لوگوں کو ان کا حق ان کی دہلیز تک پہچانا - آج کے افراتفری ، لالچ اور حرص کے اس دور میں غریب اور بے بس لوگوں کے مسائل گھمبیر ہوگئے ہیں - ارشد غازی کی اچانک وفات سے مجاہدوں اور غازیوں کا یہ کشمیری خاندان غم میں ڈوبا ہوا ہے - کشمیر کے لوگ بالخصوص میرپور کے لوگ ان کے اس غم میں برابر کے شریک ہیں مگر اس غم کو صبر اور قوت میں بدلنے کی ضرورت ہے - میرپور کے عوام بجا طور پر یہ توقع رکھتے ہیں کہ ارشد غازی کے بھائی انور غازی اپنے عظیم والد کے مشن کو جاری رکھیں گے اور بےبس ، بے سہارا اور حقوق سے محروم لوگوں کی آواز بنے رہیں گے ۔
یورپ سے سے مزید