• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
یہ امر قابل افسوس ہے کہ مملکت خدادادپاکستان کے باسی جن کی غالب اکثریت مسلمانوں پر مشتمل ہے، ان میں ایک بڑی تعداد یا توصرف دنیا کی ہو کر رہ گئی ہے یا پھر ایک بڑی تعداد دنیا سے لاتعلق ہو کررہ گئی ہے، حالانکہ مجھ جیسا ایک کم علم والا شخص بھی یہ جانتا ہے کہ دین و دنیا ایک دوسرے کی ضد نہیں،اور نہ ہی جدید علم و ہنر اور قرآن و حدیث میں کوئی ٹکرائو ہے، المیہ یہ بھی ہے کہ اگر ایک ترقی پسند کبھی دین کی بات کرتا ہے تو جہاں دیگر ترقی پسند (نام نہاد) اسے عجیب نظروںسے دیکھتے ہیں تو وہاں دین دار کہلائے جانے والے بھی یہ سمجھتے ہیں کہ یہ گویا ہماری ’حدود‘ میں مداخلت بے جا کا ارتکاب کررہا ہےحالانکہ دین اور دنیا دونوں کسی کیلئے مخصوص نہیںہیں۔ راقم کو گزشتہ روز اپنے ترقی پسند دوستوں سے کچھ اسی طرح کی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا، ہمارے کالج کے دور کے پختون اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے ایک ساتھی جو، اب ڈائریکٹر ایجوکیشن انٹر بورڈ مردان ہیں، جناب محمد علی شاہ (شاہ صاحب) جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹائون میں ختم بخاری شریف کی تقریب میں شرکت کیلئے کراچی تشریف لائے تھے، میں جب ان سے ملاقات کیلئے جامعہ گیا تو شیخ الحدیث محترم مولانا امداد اللہ صاحب نے ازراہ کرم شرکت کی دعوت دی، چنانچہ دو دن بعد جب میں تقریب میں شرکت کیلئے جا رہا تھا، تو راستے میں ہمارے ایک ’’لبرل‘‘ دوست ملے، میرے بتانے پر ایک خوفناک قہقہہ لگاتے ہوئے گویا ہوئے یار خٹک، تم عجیب آدمی ہو ابھی پچھلے اتوار کو توسیکولرازم پر تمہارا کالم چھپا تھا، تم کبھی ایک مسلک کے مدرسے میں جاتے ہو کبھی دوسرے مسلک کے ،اور نماز کہیں اور پڑھتے ہو، میں نے جواب دیا یہی تو اصل سیکولر ازم ہے، کہ ہر ایک کا احترام کیا جائے، بہرکیف میں جب جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹائون میں داخل ہوا تو وسیع و عریض برآمدے میں سفید لباس زیب تن کئے ہزاروں طلبہ کو خوبصورت سلیقے اور بے مثال قرینے سے بیٹھے ہوئے پایا، ایک متاثر کن منظر میرے روبرو تھا، نوجوان طلبہ کا نظم و نسق انتہائی مثالی تھا، مرکزی دروازے سے داخل ہوتے وقت ہر آنے والے کو واک تھرو سے گزرنا پڑتا تھا،حفاظتی انتظامات کو دیکھتے ہوئے میں اس سوچ میں مستغرق ہوا کہ مدرسے والے جب خود دہشت گردوں سے اتنے خائف ہیں، توپھر نہ جانے کن وجوہ کی بنیاد پر ان مدرسوں پر بعض الزامات لگائے جاتے ہیں ؟ اس دوران مجھے شاہ صاحب نے دیکھ لیا ، ان کے ہمراہ مفتی محمد ادریس صاحب بھی تھے، وہ منبر کے قریب علمائے کرام کی قابل تعظیم محفل میں ہمیں لے گئے، علمائے کرام کے بالکل سامنے وہ طلبہ بیٹھے تھے جن کے سامنے بخاری شریف کی کتابیں رکھی ہوئی تھیں اور جو 8سال تحصیل علم کے بعد اب یہاں سے رخصت ہونے والے تھے، اس کے بعد قطار در قطار وہ طلبہ جو تحصیل علم کیلئے یہاں داخل ہیں، جامعہ کی بنیاد حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوریؒنے رکھی تھی ،حضرت ضلع مردان میں شیخ ملتون ٹائون کے قریب مہابت آباد کے رہنے والے تھے، 1954میں حضرت نے جامعہ کی بنیاد کراچی میں جمشید روڈ نیو ٹائون کی جامع مسجد میں جب رکھی تو اس وقت یہ جگہ جھاڑیوں سے بھری ہوئی تھی، طلبہ مسجد میں پڑھتے اور وہیں رہتے تھے، رہائش کیلئے کوئی کمرہ نہیں تھا، آج یہاں جامعہ کی بڑی عمارت ہے، متعدد ہاسٹل ہیں، ایک ہاسٹل غیر ملکی طلبہ کیلئے مخصوص ہے، جامعہ میں 12ہزار سے زائد طلبہ و طالبات تعلیم حاصل کر رہے ہیں، بلاشبہ اس مقام تک مدرسے کو پہنچانے کیلئے اکابر علمائے کرام نے گراں قدر جدوجہد کی ہے۔ اس موقع پر جوں ہی حضرت ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر صاحب تشریف لائے،تو تقریب کاآغاز ہوگیا، اس دوران میں جب طالب علموں کو دیکھتا، تو ان کے چہروں سے مسرت و انبساط صاف دکھائی دیتا، علمائے کرام پر نظر پڑتی تو سوچتا کہ ان کے سینے قرآن و حدیث کے علم کے خزینے ہیں، خود پر نظرپڑتی تو ایک عاصی کے پاس جو ہوتا ہے اس کے ماسوا کچھ بھی نہ دیکھ پاتا، کیا روح پرور اجتماع تھا، جب ایک بزرگ عالم دین نے سورہ رحمٰن کی تلاوت شروع کی تو پوری محفل پر قرآن عظیم کی بزرگی اوراثر انگیزی چھا گئی ،ہر سو بلند ہوتی ہچکیوں کی آوازیں صاف سنائی دے رہی تھیں، آنسووں کی لڑیاں تھیں جو حاضرین کے لب و رخسار کو چو م رہی تھیں، ناقابل بیان کیفیت کا عالم تھا، تلاوت کے اختتام کے کئی ساعتوں بعد بھی اجتماع پر سکوت طاری تھا اور اس سکوت میں اطمینان و قرار، قلب و نظر کو ٹھنڈک بہم پہنچا رہے تھے۔
اب ہزاروں کا یہ اجتماع ہمہ تن گوش تھا، حضرت مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر بخاری شریف کا آخری درس دینے والے تھے، یہ وہ لمحہ ہوتا ہے جس کے انتظار میں یہاں کے طالب علم صبح وشام ایک کئے رہتے ہیں، آج یہ طالب علم اس بخاری شریف کے ختم کی سعادت و اعزاز حاصل کر رہے تھے جسے ’’اصح الکتب بعد کتاب اللہ‘‘ تسلیم کیا گیا ہے جسے محمد بن اسماعیل بخاری نے 16برس کی سعی بےمثال اور جستجوئے باکمال کی بدولت تصنیف کیا اور جس کے متعلق امام بخاری کا کہنا ہے کہ میں نے اس جامع صحیح میں کوئی حدیث داخل نہیں کی جب تک غسل نہیں کیا اور دو رکعتیں نہیں پڑھیں، یہ کتاب جامع مسجد حرم میں تصنیف (شروع) کی اور کوئی حدیث اس میں شریک نہیں کی جب تک خداوند کریم سے استخارہ نہیں کیا۔ بخاری شریف میں 7275احادیث ہیں، بعض کتب میں کم یا زائد ہیں، امام بخاری ؒ کا کہنا ہے کہ میں نے اس کتاب کو 6لاکھ حدیثوں سے چھانٹا ہے، آپ کا کہنا تھا کہ مجھے ایک لاکھ صحیح حدیثیں یاد ہیں اور دو لاکھ غیر صحیح بھی یاد ہیں ،ایک روایت میں ہے کہ امام بخاری نے فرمایا کہ میں دس ہزار حدیثیں صرف نماز کے بارے میں روایت کر سکتا ہوں۔ خلاصہ یہ ہے کہ امام بخاری ؒ کی ایک لاکھ صحیح احادیث میں سے بھی صرف 7275احادیث صحیح بخاری میں لائے، اتنی احتیاط و باریک بینی اور اخلاص کے بعد ہی اس کتاب کو قرآن عظیم کے بعد صحیح کتاب کا درجہ نصیب ہوا، ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر صاحب نے جب درس کا آغاز کیا اوربخاری شریف کے فیوض و برکات اور رہنما کردار کا تذکرہ شروع کیا تو دل میں بے اختیار یہ خیال مچلنے لگا کہ بلاشبہ امام بخاری ؒ مولائے دو جہاں کا انتخاب تھے، کروڑوں سلام ہو ان پر... انہوں نےاحادیث کے ذریعے ریب وتشکیک سے پاک واضح راستہ بتایا، پھر نہ جانے کیوں ہم ٹکڑے ٹکڑے اور مختلف جماعتوں و پرچموں کے علمبردار بن کربیٹھ گئے، جب حضرت ڈاکٹر صاحب نے بخاری شریف سے یہ حدیث پڑھی کہ ’’نبی کریم ؐ نے فرمایا ہے کہ نماز اس طرح پڑھو جس طرح مجھے پڑھتے ہوئے دیکھو، تو راقم کو قدرے اطمینان ہوا کہ کم ازکم یہ ناچیز نمازتو اسی طرح پڑھتا ہے جس طرح بخاری شریف کی احادیث میں ذکرہے۔
آج اس اجتماع کو گزرے پانچ یوم ہوچکے ہیں لیکن میں تاحال اس اجتماع کے زیر اثر ہوں۔ بخاری شریف کے دیباچے میں لکھا ہے کہ ’’امام بخاری مستجاب الادعوات تھے، انہوں نے اپنی کتاب کے قاری کیلئے بھی دعا کی ہے،آئیےہم خود کو اس دعاکا مستحق بنالیں اوربخاری شریف کی احادیث پر عمل کرکے اپنے اعمال کا کھاتہ درست کرلیں....
تازہ ترین