• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
حامد میر (03مئی2021) صحافیوں کیلئےخطر ناک ترین شہر

میر صاحب! پاکستان میں صحافیوں کے ساتھ ہونے والے جن دلخراش واقعات کی نشاندہی آپ نے کی‘ وہ واقعی قابل مذمت اور افسوس ناک ہیں۔ کسی بھی ملک کی تعمیر اور ترقی میں رائے عامہ کا اہم کردار ہوتا ہے اگر ایک صحافی کو اپنے ملکی اور ریاستی مسائل کی نشاندہی اور رائے عامہ کو حقیقی طریقے سے اجاگر کرنے کی بھی اجازت نہیں ہے تو پھر یہ اصل جمہوریت نہیں ہے۔ (صابر، کوہاٹ)

یاسر پیرزادہ (05مئی2021) مولانا طارق جمیل اب فیشن انڈسٹری میں!

یاسر صاحب‘ ان کا اخلاص اور خاص طور پر مسلمانوں کو جوڑنے کے حوالے سے کوششیں قابل قدر ہیں۔ آپ نے صحیح فرمایا کہ کاروبار سے اختلاف نہیں ہے بلکہ کاروبار کی نوعیت سے اختلاف کیا جا سکتا ہے کیونکہ برانڈ سیلنگ کے پیچھے محض خودنمائی اور اسراف ہوتا ہے، برانڈ بیچنے والے صارف کی ضرورت نہیں۔ (مظہر ادریس، لاہور)

انصار عباسی (06مئی2021) کیا EU پاکستان میں انتشار چاہتا ہے؟

عباسی صاحب یورپی یونین اپنا تحفظ کر رہی ہے۔ سویت یونین کے خلاف ہم نے جو جنگ لڑی‘ اس سے یورپ کی مسلمان آبادی نے بھی وہ نظریات اختیار کر لئے جو ہم نے وقتی طور پہ تشکیل دیے تھے۔ میرے خیال میں انہیں یہ ڈر ہے کہ یہ عوامی نہیں ریاستی پلانٹڈ احتجاج ہیں۔ اسی لئے وہ ہمیں گھیر رہے ہیں۔ (مقرب ،اٹک)

نفیس صدیقی (03مئی 2021) اس سے پہلے کہ...

جناب آپ کی تحریر سے صاف پتا لگتا ہے کہ ملکی معیشت کو نقصان سے بچانے کے لئے لکھے گئے کالم میں کافی احتیاط سے کام لیا ہے۔ ہم صدیوں سے خیرات پر زندکی بسر کر رہے ہیں مگر آج تک کسی حکومت کا کوئی ادارہ ایسا نہیں بن سکا جو عوام کو اس خیرات سے نجات دلائے۔ (محمد کامران، ملتان)

ارشاد بھٹی (03مئی2021) ایک جیسے بڑے، ایک جیسے کام!

جناب آپ نے بالکل درست فرمایا ہے آپ کا کالم پڑھ کر دلی مسرت ہوئی کہ آپ نے نظریہ پاکستان کی اساس کو کھوکھلا کرنے والوں کو بے نقاب کیا ہے۔ پاکستان کو ہمیشہ سے ہی ایک جیسے لوگ ملتے آ رہے ہیں۔ (ذبیح اللہ شاکر)

عطا الحق قاسمی (06مئی2021)گوگی، اب ہمارے ساتھ نہیں!

جناب دل بہت افسردہ اور رنجیدہ ہوا کہ آپ کتنے صدمے جھیل چکے، آپ کے دلچسپ اور رنگین کالم پڑھنے والوں کو کیا معلوم؟ دلی دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کے جدا ہو جانے والے عزیزوں کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ان کے لواحقین اور خصوصی طور پر آپ کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ (تنویر احمد ضیائی، فیصل آباد)

وجاہت مسعود (01مئی2021) پیپلز پارٹی کی حالیہ سیاست اور جمہوری سوال

محترم وجاہت صاحب طاقت کا سرچشمہ عوام کا تصور جو بھٹو صاحب نے دیا اور جو اب پیپلز پارٹی کی اساس ہے وہ دو مختلف چیزیں ہو چکی ہیں۔ بلاول بھٹو کے پاس اب بھی وقت ہےکہ پنجاب کے مزاج کو سامنے رکھتے ہوئے اور بدلتے سیاسی حالات کے تناظر میں عوامی تائید کیلئے اور عوامی طاقت پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنی سیاست کی سمت درست کریں۔ (اے ایم عباسی، راولپنڈی)

ڈاکٹر مجاہد منصوری (01مئی2021) وزیر اعظم کو کم وقت کا بڑا چیلنج

جناب آپ کے کالم میں بیان کردہ رائے سے بیشتر عوام اتفاق کرتے ہیں۔ آپ براہ کرم ملک و عوام کی کامیابی کے لئے عوام کے اہم مسائل پر روشنی ڈالیں۔ نچلی سطح پر عوام سیاستدان کےکام کرنے کے انداز میں کوئی تبدیلی محسوس نہیں کر رہے۔ (محمد ارشاد)

الطاف حسن قریشی (07مئی2021) شکر کی لازوال دولت سے مالامال ہوجایئے

جناب، اب کوئی پہلے جیسا ڈکٹیٹر نہیں بچا اب تو وقت آگیا ہے کہ ڈکٹیٹروں کے ذریعے پیدا کردہ مافیائوں کو جوابدہ بنایا جائے۔ (انور خان)