• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
,

کورونا کی تیسری لہر، شوبز بزنس کی سرگرمیاں ختم !!

کورونا کی تیسری لہر کی وجہ سے شوبزنس کی سرگرمیاں ختم کردی ہیں۔اب ہر طرف سناٹوں کا ڈیرہ اور چہار سو اُداسیاں ہی اُداسیاں ہیں۔ ماضی میں عید پر عموماً یہ ہوتا تھا کہ نئی فلم ضرور ریلیز ہوتی تھی۔ پہلے کبھی ایک عرصے تک فلم سازوں کی یہی خواہش ہوتی تھی کہ ان کی فلم عید پر سینما گھروں کی زینت بنے۔ زمانہ ہوا یہ رواج بھی ختم ہو گیا۔ کہاں وہ دور کہ ایک دوڑ لگی ہوتی تھی اور آج یہ کہ ایک بھی فلم نہیں ، جو عید پر ریلیز ہو سکے۔ ویسے اگر فلم بن بھی جاتی تو ان دِنوں حالات بھی کہاں ایسے سازگار تھے کہ لوگ سینما کا رُخ کرتے۔

کورونا نے اسے بھی نِگل لیا۔ اب تو کوئی غیر ملکی فلم بھی نہیں لگ رہی۔ عید کے موقع پہ کمرشل اسٹیج ڈراما بھی ہوتا تھا، جسے دیکھنے لوگ فیملی کے ساتھ جاتے تھے، کورونا کے باعث یہ تفریح بھی ختم ہو گئی ہے۔ لوگوں کے لیے عید خوشیاں لے کر آتی ہے اور عید کی چھٹیاں سب اپنے عزیزوں اور دوستوں کے ساتھ گزارنا چاہتے ہیں۔ اس مرتبہ کورونا کے باعث لگتا ہے، زیادہ تر لوگ گھر پر ٹی وی دیکھ کر وقت گزاریں گے۔ ٹیلی ویژن پر وقت کے ساتھ ساتھ عید کے خصوصی پروگراموں میں بھی تبدیلی آتی جا رہی ہے۔ پُرانے بلیک اینڈ وائٹ کے زمانے میں ایک عید کا خصوصی ڈراما بنتا تھا ،جس کی بڑی دُھوم مچتی تھی۔ 

یہ عید کا خصوصی ڈرامے کا سلسلہ سالہا سال چلتا رہا،پھر یُوں ہونے لگا کہ عید کے ڈرامے کے ساتھ ساتھ بچوں کا عید شو بھی ہونے لگا۔ پھر ایک عید کا خصوصی شو بھی ریکارڈ ہوتا تھا۔ اس کی ریکارڈنگ کئی گھنٹوں میں مکمل ہوتی تھی۔ گلیمر سے بھرپور اس شو میں زیادہ تر معین اختر اور انور مقصود کمپیئر ہوا کرتے تھے۔ پی ٹی وی کے اسٹوڈیو ڈی میں بڑا سا جگمگاتا سیٹ لگایا جاتا تھا۔ ستاروں کی کہکشاں ہوتی تھی ،جن سے کمپیئر گفتگو کیا کرتے تھے اور بیچ بیچ میں گانے بھی ہوتے تھے۔ کچھ کامیڈی خاکے بھی پیش کیے جاتے تھے۔ ہم نے ایسے ڈھیروں عید شوز میں شرکت کی۔ 

ایم ظہیر خان ایسے شوز پیش کرنے کے ماہر تصور کئے جاتے تھے۔کیا زمانہ تھا! محمد علی شہکی، علی حیدر، سیما رضوی جن کا فلمی نام فلک ناز تھا۔ خالد وحید اپنے شاہ کار گیت پیش کیا کرتے تھے۔ خاکوں میں بشریٰ انصاری چھائی رہتی تھیں۔ اس وقت جو ڈراما سیریل نشر ہو رہا ہوتا، اس کی پوری ٹیم کو خاص طور پر مدعو کیا جاتا تھا۔ 

طاہرہ واسطی، شکیل، عتیقہ اوڈھو، شبیر جان، گلاب چانڈیو، محمود علی سمیت بڑے بڑے فن کار تمکنت اور وقار کے ساتھ بیٹھے ہوتے اور معین اختر اُن سے ہلکی پھلکی گفتگو کیا کرتے تھے۔ عید شوز ہوں یا عید کا خصوصی کھیل ناظرین بہت پسند کرتے تھے۔ پھر یُوں ہوا کہ عید کی خصوصی نشریات کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ 

یہ لائیو ٹرانسمیشن عید کے تینوں دن ہمارے ٹی وی سینٹرپر ہی گزرتے تھے۔ اگرچہ سیٹ پر لوازمات موجود ہوتے تھے۔ تاہم آرٹسٹ جنرل منیجر اور پروڈیوسر اپنے گھروں سے خاص پکوان بنوا کے بھی لایا کرتے تھے۔کراچی سینٹر کے علاوہ لاہور مرکز کے عید پروگرام بھی رنگا رنگ ہوا کرتے تھے۔ اُس زمانے میں لاہور میں فلمی سرگرمیاں عروج پر ہوتی تھیں، لہٰذا ٹی وی شوز میں بھی زیادہ تر فلمی ستاروں کو مدعو کیا جاتا تھا۔ 

انجمن، نیلی، نادرہ، ریما، میرا وغیرہ خُوب جگمگاتی تھیں۔ وقت اور حالات بدلے تو عید شوز، عید کی ٹرانسمیشن اور عید کے ڈرامے کے انداز بھی تبدیل ہوگئے۔جدید تراش خراش کے ملبوسات، دل کش آرائش و زیبائش، بڑے بڑے سیٹ، لائٹس کی چکا چوند اور نئے اسٹائل نے لوگوں کے دلوں میں خوب جگہ بنالی۔ یہ سب اچھا ہے،بلکہ بہت اچھا ہے، بس ایک یہ کورونا کی تکلیف ہے، دعا ہے کہ جلدی سے یہ وباء ختم ہو اور سب رونقیں پھر سے بحال ہوجائیں۔

عید کے موقع پہ سبھی دوست احباب، عزیز و اقارب ایک دوسرے کو مبارک باد دیتے ہیں۔ تحائف کا تبادلہ ہوتا ہے اور بہت اچھا لگتا ہے۔ کورونا کی وباء کے باعث گزشتہ عید بہت مختلف تھی، رواں برس بھی کورونا کی تیسری لہر نے عید کی رونقوں اور شوبزس کی سرگیوں کو متاثر کیا ہے۔ پابندی، اسمارٹ لاک ڈائون، قواعد و ضوابط نے جہاں سب کو متاثر کیا، وہیں فن کار بھی متاثر ہوئے۔ 

یہ پابندیاں عوام کے حق میں ہے، ان کی بہتری کے لیے لگائی گئی ہیں۔ تاہم اس کے باعث بازاروں میں وہ رش دیکھنے میں نہیں آرہا ،جو ہمیشہ ہوتا تھا، عید بازار، چاند رات کی رونقیں بھی ختم ہوگئیں۔ چاند رات پر تو بعض اوقات عید سے زیادہ مزا آتا تھا، جب عید کی شاپنگ مکمل ہو جانے کے باوجود بھی کوئی نہ کوئی چیز رہ جاتی تھی ، جس کے لیے سب شاپنگ مال جایا کرتے تھے۔

اکثر تو صرف سیرو تفریح کرنے بھی چاند رات پر جاتے تھے۔ خاص طور پر ہم پہلے طارق روڈ بہت جاتے تھے۔ پھر یہ سلسلہ رُک گیا۔ اب بس کوشش ہوتی ہے کہ رمضان کی آمد سے پہلے ہی عید کی تیاری کرلیں۔ ایک عجیب بات یہ کہ جہاں بہت سے لوگ کورونا کے خوف کے باعث گھر سے نہیں نکل رہے وہیں، بعض علاقوں میں ایسے بازار بھی ہیں، جن کی تنگ گلیوں میں رش ہے۔ دھکم پیل جاری ہے اور عید کی زبردست خریداری بھی کورونا کے خوف سے آزاد یہ لوگ ماسک کے تکلف سے بھی آزاد ہیں۔ 

ہم تو ہر ایک کو یہی نصیحت کر رہے ہیں کہ احتیاط کریں، ویکسین لگوائیں اور کورونا کے پھیلائو سے بچیں۔ عید کے موقع پر جہاں خوشیوں ہی خوشیوں کی بات ہوتی ہے، وہیں ایک خوش خبری یاسر حسین اور اقرا عزیز کے حوالے سے بھی ہے۔ اقرا عزیز کی گود بھرائی کی تقریب ہوئی، جس کی تصاویر انہوں نے اپنے پرستاروں کے ساتھ شیئر کیں۔ تصاویر میں وہ بہت خُوب صورت لگیں اور ان کا لباس بھی، اقرا عزیز کے لباس کی خاص بات یہ تھی کہ اس پر اُن کے لیے بہت سی دعائیں تحریر تھیں۔ یہ عید یقیناً فن کار جوڑی یعنی اقرا اور یاسر کے لیے خوشیاں لے کے آئی ہے۔

فن و فنکار سے مزید
انٹرٹینمنٹ سے مزید