• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کورونا کی وباء نے ابھی تک جان نہیں چھوڑی، دُوسرا برس شروع ہوگیا۔ یہ وائرس دیگر شعبوں کی طرح فلم انڈسٹری اور سینما انڈسٹری کو نِگل رہا ہے۔ ہر طرف مایوسی نظر آ رہی ہے، لیکن چند باہمت اور باصلاحیت فلم ساز اور ہدایت کاروں نے اپنا کام نہیں روکا اور فلم سازی کا عمل جاری رکھا۔ بے یقینی کی اس کیفیت میں فلمیں بنانا خوش آئند بات ہے۔ نامور ہدایت کار نبیل قریشی اور پروڈیوسر فضا علی مرزا نے اپنی نئی فلم ’’قائداعظم زندہ باد‘‘ میں فہد مصطفیٰ اور ماہرہ خان کے ساتھ مکمل کر کے دُوسری فلم بھی شروع کر دی ہے۔ اس فلم کا نام ’’کھیل کھیل‘‘ رکھا گیا ہے۔ 

ایک جانب سینما گھروں میں مسلسل تالے لگے ہوئے ہیں، لیکن فلم انڈسٹری کے ہنرمند پُرامید ہیں۔ اس لیے انہوں نے اپنا کام جاری رکھا ہوا ہے۔ ہدایت کار یاسر نواز نے رواں برس اُردو فیچر فلم ’’چکر‘‘ شروع کی، جس میں نامور اداکار احسن خان اور نیلم منیر کو بطور ہیرو، ہیروئن کاسٹ کیا۔ اسی طرح فلم ساز ہمایوں سعید نے اپنی فلم ’’لندن نہیں جائوں گا‘‘ مکمل کر لی ہے۔ وجاہت رئوف بھی ’’پردہ نہ اُٹھائو‘‘ مکمل کر کے ریلیز کا انتظار کر رہے ہیں۔ فواد خان اور ماہرہ خان کی بڑے بجٹ کی فلم ’’مولاجٹ‘‘ بھی تین چار برس سے ریلیز کے انتظار میں ہے۔ 

یہ فلمیں ریلیز ہوں گی تو نیا ٹیلنٹ بھی سامنے آئے گا۔ جیسے ہدایت کار احتشام الدین اور پروڈیوسر عدنان صدیقی نے ٹیلی ویژن کی نامور اداکارہ امر خان اور ’’بھولا‘‘ کے کردار سے شہرت حاصل کرنے والے مزاحیہ فن کار عمران اشرف کو لے کر فلم ’’دَم مستم‘‘ شروع کی اور اس میں عالمی شہرت یافتہ گائیک اُستاد راحت فتح علی خان بھی جلوہ گر ہوں گے۔ اچانک صورتِ حال بدلی اور کورونا کی تیسری لہر سے شو بزنس کی تمام سرگرمیاں معدوم ہوگئی ہیں۔ عیدالفطر دُوسری بار بھی کورونا کے سائے میں گزارنی پڑے گی۔ بھارت میں تو فن کاروں کا بہت بُرا حال ہے۔ کورونا نے تباہی پھیلا رکھی ہے۔ دُنیا کی بہت بڑی فلم انڈسٹری کا ٹائٹینک ڈوبنے لگا ہے۔ 

عالمی شہرت یافتہ سپراسٹار کورونا کا شکار ہوکر موت کی نیند سو رہے ہیں۔ پاکستان کی تاریخ میں دُوسری بار ایسا ہو رہا ہے کہ عیدالفطر پر سینما گھروں میں سنّاٹا ہوگا، کوئی فلم ریلیز نہیں ہوگی۔ عام آدمی کی سستی تفریح بھی ختم ہو گئی ہے۔ کراچی میں فلم کے علاوہ ہر قسم کے تھیٹر، ڈرامے اور موسیقی کے پروگراموں پر مکمل پابندی ہوگی۔ ناظرین گھر بیٹھے ٹیلی ویژن پر ڈرامے اور فلمیں دیکھیں گے اور سوشل میڈیا سے لطف اندوز ہوں گے۔ اس عیدالفطر پر فلم اور ٹی وی انڈسٹری کی سپر اسٹار ماہرہ خان نے موسیقار عدنان سمیع کے صاحبزادے اذان سمیع خان کے گانے ’’تُو‘‘ میں بہ طور ماڈل جلوہ گر ہوئی ہیں۔ 

اس کے ساتھ ہی معروف فلم اسٹار مایا علی نے بھی اذان سمیع خان کے گانے میں ماڈلنگ کی ہے، جو بعد میں ریلیز ہوگا، گانے کے وڈیوز بہت مہنگے بنائے گئے ہیں۔ اذان سمیع خان بھی اپنے والد کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے نامور فلم اسٹارز کو گانوں کی وڈیوز میں شامل کررہے ہیں۔ عدنان سمیع نے بھی ایک زمانے میں بالی وڈ کے سپر اسٹارز کو اپنے سونگز کی وڈیوز میں کاسٹ کر کے دُھوم مچا دی تھی۔ انہوں نے بالی وڈ کے سب سے مقبول اداکار امتیابھ بچن کو بھی اپنے گانے ’’مجھ کو بھی لفٹ کرا دے‘‘ میں شامل کر کے ہر سُو دُھوم مچا دی تھی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اذان سمیع خان بھی اپنے والد کی طرح شہرت اور کام یابی حاصل کرتے ہیں کہ نہیں۔

دوسری جانب ’’نہ بینڈ نہ باراتی‘‘ فلم کے پروڈیوسر شایان خان نے پاکستان میں ایک بڑے بجٹ کی فلم بنانے کا فیصلہ کیا اور اس فلم کی ہدایت کاری کی ذمے داری مزاحیہ اداکار فیصل قریشی کو سونپی گئی۔ فلم کے پروڈیوسر شایان خان امریکا میں رہتے ہیں، اس لیے اس فلم کو برق رفتاری سے مکمل کیا گیا۔ فلم کی کاسٹ میں فواد خان جیسے سپر اسٹار کوشامل کیا۔ ٹیلی ویژن ڈراموں کے سپر اسٹار میکال ذوالفقار اور عائشہ عمر کو بھی فلم میں خصوصی کردار دیے گئے۔ فلم کا نام ’’منی بیک گارنٹی‘‘ رکھا گیا۔ 

بین الاقوامی شہرت یافتہ کرکٹر وسیم اکرم اور ان کی غیر ملکی اہلیہ کو بھی فلم کی کاسٹ میں شامل کیا گیا۔ یہ دونوں شخصیات کسی فلم مین پہلی بار جلوہ گر ہوں گی۔ فلم ’’منی بیک گارنٹی‘‘ کی دن رات شوٹنگ کی گئی اور اسے عید پر ریلیز کرنے کا سوچا گیا، مگر کورونا وائرس نے پوری دنیا کو ہر قسم کی سرگرمی سے روک دیا۔ ایسا محسوس ہورہا ہے، جیسے دُنیا چند مہینوں کے لیے رُک گئی ہو۔ ہالی وڈ، بالی اور پاکستانی فلموں پر کورونا طوفان بن کر آیا اور ساری منصوبہ بندی دھری کی دھری رہ گئی۔ فلم ’’منی بیک گارنٹی‘‘ کے پروڈیوسر شایان خان بھی فلم میں مختلف اور دل چسپ کردار میں نظر آئیں گے۔ اس فلم میں درجنوں شہرت یافتہ فن کار مہمان اداکار کی حیثیت سے بھی نظر آئیں گے۔ اس کے لیے فلم بینوں کو انتظار کرنا ہوگا۔

رواں برس عیدالفطر پر اسٹیج ڈراموں سے وابستہ فن کار سخت پریشان ہیں۔ حکومتی سطح پر ان کی کوئی مدد نہیں کی جا رہی ہے اور نہ ہی ثقافتی ادارے ان کے مسائل کے مکمل حل کے لیے عملی اقدامات کر رہے ہیں۔ اسٹیج ڈراموں کے فن کاروں نے دُنیا بھر میں پاکستان کا نام روشن کیا۔ ایک زمانہ وہ بھی تھا، جب عیدالفطر پر آرٹس کونسل میں عمر شریف اور معین اختر کے ڈراموں کے ٹِکٹ لاکھوں روپوں کے فروخت ہوتے تھے۔ شکیل صدیقی، رئوف لالہ، پرویز صدیقی، شہزاد رضا، سلومی، نعیمہ گرج، روفی انعم، شکیل شاہ، عرفان ملک، علی حسن، سلیم آفریدی و دیگر نے بھارتیوں کو ہنسا ہنسا کر لوٹ پوٹ کر دیا تھا۔ 

ہمیں ان فن کاروں کی قدر کرنا ہوگی۔ رواں برس عیدالفطر پر ’’جیو‘‘ کی اسکرین دل چسپ پروگراموں، فلموں اور ڈراموں سے جگمگائے گی۔ جیو پاکستان میں اُستاد راحت فتح علی خان کی دل چسپ اور قہقہوں سے بھری بات چیت اور دِل چھو لینے والے گیت سُن سکیں گے۔ ’’جیو پاکستان‘‘ پروگرام کے میزبان عبداللہ سلطان اور ہما امیر شاہ کے سوالات اور اُستاد راحت فتح علی خان کے جوابات عید کا مزہ دوبالا کر دیں گے۔ یہ حقیقت ہے کہ جیو کے ڈراموں نے سب کو پیچھے چھوڑ دیاہے۔ 

جیو کے ڈراموں کے OST بھی فلمی گیتوں کی طرح غیرمعمولی مقبولیت حاصل کررہے ہیں۔ امسال جیو کی رمضان المبارک کی نشریات بھی بہت پسند کی گئیں۔ علاوہ ازیں نجی ٹی وی سے اداکارہ ریما اور احسن خان نے بھی ناظرین کی توجہ حاصل کی۔ احسن خان ان دنوں شہرت کی بلندیوں کو چُھو رہے ہیں۔ انہیں جیو کے ڈرامے ’’قیامت‘‘ میں نیلم منیر اور امر خان کے ساتھ بے حد پسند کیا جا رہا ہے۔ احسن خان کا ایک جملہ ’’میرا میٹر گھوم جائے گا‘‘ ناظرین میں بے حد مقبول ہو رہا ہے۔ کورونا کی وجہ سے ٹیلی ویژن ڈراموں کی پسندیدگی میں غیرمعمولی اضافہ ہوا ہے۔ 

ٹیلی ویژن اب واحد تفریح کا ذریعہ رہ گیا ہے۔ ڈراموں میں کام کرنے والے فن کاروں کو کورونا کی وجہ سے بے حد فائدے پہنچ رہے ہیں، لیکن کورونا کی وجہ سے فلم، موسیقی اور تھیٹر کو غیرمعمولی نقصان اُٹھانا پڑا۔ کورونا کے بعد کیا ہوگا، یہ کوئی بھی نہیں بتا سکتا۔ میرا رَبّ ہم سب پر رحم فرمائے اور ایک مرتبہ ہم پھر سے کورونا سے پہلے والی زندگی شروع کر سکیں۔ ہم سب عید سادگی اور ایس او پیز کے ساتھ منائیں اور ضرورت مند اور غریبوں کا خیال رکھیں۔

فن و فنکار سے مزید
انٹرٹینمنٹ سے مزید