• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کورونا وبا کی تیسری لہر نے ملک میں رمضان المبارک میں اس مرتبہ بھی معمولات اُس طرح نہیں رہے، جس طرح کبھی کورونا کی وَبا سے پہلے ہوا کرتے تھے۔ اگرچہ پچھلے برس کے مقابلے میں لوگوں میں شعور و آگہی کے ساتھ ساتھ کورونا سے مقابلہ کرنے کی بھی ہمت آ گئی ہے۔ اب کورونا کی ویکسین بھی آگئی ہے اور لوگ لگوا بھی رہے ہیں۔ فن کار بھی ویکسین لگوا رہے ہیں، جنہیں سفر کرنا ہے یا باہر جانا ہے، وہ پرائیویٹ ویکسین لگوا رہے ہیں، کیوں کہ اب دُنیا کے بہت سے ممالک میں کورونا ویکسین لگوانا لازمی ہوچکا ہے۔ آرٹس کونسل میں ویکسین لگائی جا رہی ہے۔ 

سندھ حکومت کی جانب سے ویکسین کا یہ سلسلہ شروع کیا گیا،جس میں آرٹس کونسل ممبران کے ساتھ ساتھ فن کاروں کی بڑی تعداد بھی مستفید ہو رہی ہے۔ پہلے دن جب ہم سینٹر گئے تو دیکھا کہ ضیا محی الدین موجود ہیں اور کورونا ویکسین لگوا رہے ہیں۔ مہتاب اکبر راشدی ہمیں نظر آئی۔ اس کے بعد سے تادم تحریر بے شمار آرٹسٹ، ان کے والدین ویکسین لگوا چکے ہیں۔ ساحرہ کاظمی، راحت کاظمی، طلعت حسین، شکیل، مصطفےٰ قریشی، نعیم بخاری، ٹی وی پروڈیوسر بیدل مسرور، جاوید شیخ، بہروز سبزواری، زینت منگھی، گلوکار فاخر، منظور قریشی، محمد احمد، نشیمہ احمد، اعجاز اسلم، خالد انعم، تہمینہ خالد، معصومہ لطیف، انور مقصود، بلال مقصود، عدنان صدیقی، ہمایوں سعید کے علاوہ سیاستدان بھی کورونا سے بچائو کی ویکسین لگوا رہے ہیں۔ 

فن کاروں میں سکینہ سموں، روبینہ اشرف، علی عظمت اور دیگر کئی ہردلعزیز آرٹسٹوں کے بارے میں خبریں ملی تھیں کہ انہیں کورونا لاحق ہو گیا تھا۔ اب الحمد اللہ سب بخیر ہیں۔ سکینہ سموں کو تو اس سال صدارتی ایوارڈ برائے حُسن کارکردگی سے بھی نوازا گیا ہے۔ گلوکار علی عظمت کورونا سے صحت یابی کے بعد بہت مسرور ہیں۔ حال ہی میں انہوں نے اپنی سال گرہ منائی اور اپنے پیانو پر خود اپنے لیے ہیپی برتھ ٹو می گایا۔ 

بہرحال ہم بہت خوش ہیں کہ علی عظمت مکمل صحت یاب ہو گئے ہیں۔ صحت یاب تو ہمارے گلوکار دوست ندیم جعفری بھی ہوگئے، الحمد اللہ۔ انہیں بھی کورونا نے آن گھیرا تھا۔ ندیم جعفری گلوکار ہونے کے ساتھ ساتھ بہت اچھے کمپوزر بھی ہیں۔ہمیں لگتا ہے لوگ اب کورونا سے گھبرانے اور بدحواس ہونے کے بہ جائے اس سے بچائو اور نئے انداز زندگی کے ساتھ اپنے معمولات جاری رکھنے کے لیے ذہنی طور پر تیار ہو چکے ہیں۔ ماسک، بار بار ہاتھ دھونا، سینی ٹائزر کا استعمال اور ہجوم سے پرہیز اب زندگی کا حصہ ہے۔ انہی احتیاطی تدابیر کے ساتھ ڈراموں کی ریکارڈنگ اور گیم شوز جاری ہیں۔ بہت سے فن کاروں نے اپنے سوشل میڈیا اکائونٹس پر اپنی ویکسین لگواتے ہوئے تصاویر اَپ لوڈ کی ہیں، جن میں ریما، حنا خواجہ بیات، خالد شعیب سرفہرست ہیں۔ 

ریما اِن دنوں پاکستان میں ہیں اور ایک ٹی وی چینل سے رمضان المبارک کی خصوصی نشریات میں میزبانی کے فرائض سرانجام دے رہی ہیں۔ کورونا سے بچائو کی ویکسین انہوں نے امریکا میں ہی لگوا لی تھی۔ دو سال قبل جب ہم امریکا گئے تھے تو ڈاکٹرز کے ایک پروگرام میں ریما سے ملاقات ہوئی تھی۔اداکارہ ریما نے شادی کے بعد شوبزنس کو خیرباد کہہ دیا اور اپنے گھر گرہستی کی ہوگئیں۔ وہ ایک پیارے سے بیٹے کی ماں ہیں۔ بات ہو رہی تھی کورونا ویکسین کی تو ہم اپنے قارئین کو بتا دیں کہ ہم نے بھی کورونا سے بچائو کی ویکسین لگوا لی ہے، جس دن ہمارا دُوسرا ڈوز لگنا تھا، اس دن ہم نے دیکھا فلموں کی بہترین ہدایت کارہ اورماضی کی حسین اداکارہ سنگیتا بھی ویکسین لگوانے آئی ہوئی ہیں۔ ٹیلی ویژن کے سب کے سینئر میک اَپ آرٹسٹ کمال الدین اور اُن کی بیگم جو بہت اچھی گلوکارہ اور بیوٹیشن ہیں ثمینہ کمال وہ بھی موجود تھیں۔ 

کمال الدین پاکستان ٹیلی ویژن سے وابستہ رہے ہیں اور گیٹ اَپ کا کمال، کمال صاحب کا ہی کمال ہے۔ انہوں نے بہت سے میک اَپ آرٹسٹوں کو یہ فن سکھایا ہے۔ سنگیتا کو دیکھ کر اچھا لگا۔ ڈھیر ساری گپ شپ اُن سے ہوئی۔ وہ بتا رہی تھیں کہ نومبر میں انہیں کورونا ہو گیا تھا۔ اب وہ ماشاء اللہ ٹھیک ہیں، مگر نقاہت ضرور محسوس ہوتی ہے۔ اُن سے ہم نے اُن کی ہمشیرہ کویتا کا بھی حال احوال درافت کیا۔ کویتا پاکستانی فلموں کی خُوب صورت اداکارہ تھیں، جو بہت سال قبل امریکا چلی گئی تھیں۔ سنگیتا نے بتایا کہ کویتا کی شادی ہوگئی ہے اور آج کل وہ شارجہ میں مقیم ہیں۔ 

بالی وڈ کی اداکارہ جیا خان جنہوں نے گجنی ، نشبد اور ہائوس فل میں کام کیا تھا ،وہ سنگیتا اور کویتا کی بھتیجی ہیں۔ جیا خان نے 2013ء میں خودکشی کر لی تھی۔ ہم سنگیتا سے گپ شپ لگا رہے تھے تو دیکھا اداکار نبیل بھی اپنی اہلیہ کے ہمراہ ویکسین کے لیے آئے ہوئے ہیں۔ نبیل کے آدھے چہرے کو ماسک اور آدھے چہرے کو دُھوپ کے چشمے نے ڈھانپ رکھا تھا۔

نبیل اچھے ایکٹر ہیں، عرصے سے اُن کا ایک کامیڈی سیریل ٹیلی ویژن پر نشر ہو رہا ہے۔ ہم نے نبیل کے ساتھ لاہور سے ڈراما سیریل مون سون کیا تھا، جس کی کاسٹ میں خیام سرحدی، نسرین قریشی، علی طاہر، وجیہہ طاہر، شارقہ فاطمہ، فیصل رحمان، شائستہ جبیں، سیمی راحیل اور بابر اختر شامل تھے۔ ہمیں تو اس بات کی بے حد خوشی ہے کہ فن کار بہت زور و شور سے کورونا سے بچائو کا ٹیکا لگوا کر عوام کو ترغیب دے رہے ہیں کہ وہ بھی فوراً ویکسین لگوائیں۔ کورونا بہت جان لیوا اور خطرناک ہے، جن لوگوں کو کورونا ہوا ہے، وہ یہی تاکید کرتے ہیں کہ ویکسین لگائیں تا کہ اس اذیت سے بچ سکیں۔

انورمقصود بھی اس تکلیف کو جھیل چکے ہیں۔ صدارتی ایوارڈ یافتہ گلوکار محمد علی شہکی بھی کورونا کی تکلیف اُٹھا چکے ہیں۔ محمدعلی شہکی، عارف انصاری، کشف گرامی اور چند قریبی دوستوں کو ہم نے ابتدائی روزوں میں افطار ڈنر پر مدعو کیا تھا۔ شہکی آج کل دوستوں سے مبارکبادیں وصول کر رہے ہیں کہ اُن کی فنّی خدمات کے صلے میں حکومت پاکستان نے انہیں صدارتی ایوارڈ برائے حُسن کارکردگی سے نوازا ہے۔ شہکی بتا رہے تھے کہ جب انہیں کورونا ہوا تھا تو وہ بہت کرب میں تھے، آنکھیں بند کرتے تھے، تو لگتا تھا سانس رُک رہی ہے۔ 

شہکی ماشاء اللہ اب تندرست ہیں اور خوش ہیں اپنی کام یابی پر، وہ بھی سب کو یہی مشورہ دے رہے تھے کہ ویکسین لگوائیں۔فیوژن بینڈ کے عمران مومنہ عرف عمو نے بھی کورونا سے بچاؤ کی ویکسین لگوا لی ہے اور اپنی تصویر فیس بک پر لگا دی ہے۔ اب چوں کہ ہمارے سب دوست احباب ویکسین لگاتے ہوئے تصاویر سوشل میڈیا پر لگا رہے ہیں تو ہم سوچ رہے کہ ایک عدد فاتحانہ انداز کی ویکسین لگواتے فوٹو ہم بھی لگا دیں۔’’نو ٹو کورونا… یس ٹو ویکسین‘‘۔

فن و فنکار سے مزید
انٹرٹینمنٹ سے مزید