• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
,

پانی کا مسئلہ: وفاق اور سندھ میں کشیدگی بڑھنے لگی

عیدالفطر کے بعد سیاسی جماعتیں کمرکس کر حکومت کے خلاف احتجاج کی تیاریوں میںجت گئی ہیں پی ڈی ایم میں پی پی پی کودوبارہ لانے کی کوشش کی جارہی ہے تو پی پی پی کی بھی خواہش ہے کہ انہیں پی ڈی ایم کا حصہ بنایا جائے، پی پی پی کے رہنما مولابخش چانڈیو نے حیدرآباد میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پی پی پی کے بغیر کوئی بھی اپوزیشن اتحادبے معنی ہوگا۔عید کی نماز کے بعد گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا اور کہا کہ وزیراعظم حرم شریف سے ہوکر آئے اور دوسرے دن سے جھوٹ بولنا شروع کردیا۔ وہ کہتے ہیں کہ اپوزیشن اور مخالفین کے لیے نرم رویہ ہے جب کہ انہوں نے تمام مخالفین کا جینا دوبھرکیاہوا ہے۔ 

ہم ان سے کہتے ہیں کہ اپنالہجہ درست کریں۔ جب خود ان کا رویہ درست نہیں تو وزرا کا رویہ کیسے درست ہوگا۔جبکہ سندھ اسمبلی کے اسپیکر آغاسراج درانی نے پانی کی قلت سے متعلق حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہاکہ صوبوں کے درمیان پانی کی تقسیم آئین کے مطابق ہونی چاہیے۔ گلیشیئرناپگھلنے کے باعث پانی کی 45 فیصد کمی کی بات کی جارہی ہے اگرایسا ہے تو چاروں صوبوں کو ایک پلیٹ فارم پر لاکر اعتماد میں لیا جائے پانی کے مسئلے پر سندھ اور وفاق میں کشیدگی بڑھتی جارہی ہے۔ 

پی پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو اور صوبائی وزراء نے سندھ کواس کے کوٹے سے کم پانی دینے کا الزام عائد کیا ہے اور کہا ہے کہ کم پانی کی وجہ سے سندھ کے کا شتکاروں اوران کی فصلوں کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے صوبائی وزیر انورسیال اور ناصرحسین شاہ نے سکھر بیراج کے دورے کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے دھمکی دی کہ اگر پنجاب نے سندھ کے حصے کا پانی چوری کرنا بند نہیں کیا تو سندھ کا آباد گار بلاول بھٹو کی قیادت میں سندھ ، پنجاب کی سرحد پر دھرنا دیں گے ۔

پنجاب اور وفاق کے اس عمل کے خلاف سندھ اسمبلی کے اجلاس میں قراردادبھی لائی جائے گی انہوں نے مزید کہاکہ پنجاب چشمہ لنک کینال اور ٹی پی لنک کینال کھول کر سندھ کے حصے کا پانی چوری کررہا ہے اور اس نے ان دونوں کینالز پر پانچ پانچ میگاواٹ کے بجلی بنانے کے منصوبے بھی شروع کررکھے ہیں، جس کی وجہ سے سندھ کو اس حصے کا پانی نہیں مل رہا، اس وقت سندھ میں مجموعی طور پر 50فیصد پانی کی قلت ہے۔سکھربیراج پر اس وقت 20فیصداور کوٹری بیراج پر44فیصدپانی کی کمی ہے، جس کی وجہ سے کوٹری بیراج سے آگے کے علاقوں خصوصاً حیدرآباد اور کراچی میں لوگ پینے کے پانی کو ترس رہے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ سندھ کے وزیراعلیٰ سید مرادعلی شاہ نے اس مسئلے کو مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں بھی اٹھایا لیکن نااہل وفاقی حکومت اس کا نوٹس تک نہیںلے رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ کے ساتھ زیادتی ہورہی ہے اور یہاں تک پنجنداورتونسہ پر موجودسندھ حکومت کے نمائندے تک کو وہاں سے نکال دیا گیا ہے، ہم اس پر خاموش نہیں بیٹھیں گے۔ ریاست مدینہ کے دعویدارریاست یزید کا کردارادا کررہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی صرف سندھ کے حقوق کی بات نہیں کرتی، پنجاب، بلوچستان اور کے پی کے مسائل پر بھی بلاول بھٹو سخت موقف رکھتے ہیں، ہم پورے پاکستان کی بات کرتے ہیں مگر یہاں تو نااہل حکومت کی نااہلی سندھ کو بنجر بنارہی ہے۔جبکہ وفاقی وزیر اسدعمر نے کہاکہ یہ تعصب پھیلانے کی کوشش ہے ، کسی صوبے کو پانی کم نہیں دیا جارہا ارسا کے ترجمان کا کہنا ہے کہ پانی کی تقسيم کے معاملہ پر کسی صوبے سے بھی زيادتی نہيں ہو رہی ہے۔درياوں ميں پانی کی کمی کے باعث کچھ دن پانی کی کمی کا سامنا رہا ليکن اب صورتحال کنٹرول ميں ھے۔

سب صوبوں کو واٹرکارڈ کے تحت پانی تقسيم کيا جا رہاہے۔سندھ کو کپاس کی کاشت کے وقت پنجاب سے زيادہ پانی فراہم کيا ۔ اب تک سندھ کو صرف 4 فيصد پانی کی کمی ہوئی جبکہ پنجاب کو 16 فيصد پانی کی کمی رہی۔ اب جنوبی پنجاب کو کپاس کے لئے پانی کی فراہمی کی جا رہی ہے اور سب صوبوں کو ان کے حصہ کے مطابق پانی ديا جا رہا ہے۔تونسہ پنجند لنک کينال پر کوئی پاور ہاؤس لگانے کا منصوبہ ارسا ميں زير غور نہيں۔چشمہ جہلم لنک کينال سے پنجاب کو گريٹر تھل کينال کے لئے پانی فراہم کيا جا رہا ہے۔ارسا کسی صوبہ کا پانی کا حصہ کم نہيں کر سکتی۔ ہر صوبہ کا نمائندہ ارسا ميں موجود ہے اس کے بغير پانی کی تقسيم طے نہيں کی جا سکتی۔چاول کی کا شت کے وقت بھی انشااللہ صوبوں کو ان کے حصہ کے مطابق پانی فراہم کيا جائے گا اس وقت ايک ملين ايکڑ فيٹ پانی ڈيموں ميں موجود ہے۔

ارسا بلوچستان کو اس کو پورا حصہ فراہم کر رہا ہے ليکن سندھ بلوچستان کے حصہ کا بھی پانی خود استعمال کر رہا ہے اور بلوچستان کو 61 فيصد پانی کی کمی کا سامنا ہے۔سندھ پانی کے اعدادوشمار بھی غلط فراہم کر رہا ہے اور لائين لاسز بڑھا کر بتا رہا ہے۔اس وقت سندھ کو 71,000 کيوسک پانی فراہم کيا جا رہا ہے ۔ارسا نے اب تک 7 لاکھ ايکڑ فيٹ پانی سندھ کو منگلہ ڈيم سے بھی فراہم کيا۔سندھ اب تک 46000 ايکڑ فٹ پانی سمندر ميں بہا چکا ہے۔ 

کراچی کو پانی کی فراہمی ميں ارسا کا کوئی کردار نہيں يہ سندھ کا اندرونی معاملہ ہے۔صوبہ سندھ کو اب تک 2.5 ملين ايکڑ فٹ پانی فراہم کيا جا چکا ہے خريف سيزن ميں ۔چشمہ جہلم لنک کينال اور تونسہ پنجند لنک کينال پر کوئی تنازعہ نہيں ان نہروں ميں پنجاب اپنے حصہ کا پانی ارسا کی اجازت سے ليتا ہے ۔ايک خالصتاً تکنيکی معاملہ کو سياسی بنايا جا رہا ہے ۔

دیکھنا یہ ہے کہ سندھ اور وفاق اس مسئلے کو کیسے حل کرتے ہیں ادھر ایک بار پھر عیدکے چاند پر تنازعہ کھڑاہوگیا ہے سابق رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین مفتی منیب الرحمن نے عید کی نماز میں خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ایک روزے کی قضا اور ایک اعتکاف کی قضا کی جائے جبکہ جامعہ رشیدکے مفتی محمدنے فتویٰ جاری کیاکہ رویت ہلال کمیٹی جو اعلان کرے وہ شرعی طور پر درست ہے لہذا روزے اوراعتکاف کی قضانہ کی جائے عید کے چاند پرمسلکی جھگڑا ہوتا نظر آرہا تھا تاہم علماء کرام نے اس مسئلے پر جھگڑے کوآگے نہیں بڑھنے دیا ادھر سندھ حکومت نے 8 دن کے لیے صوبے بھر میں لاک ڈاؤن کا اعلان کردیا ان ایام میں عید کی تعطیلات اور چاند رات بھی شامل تھیں۔

تاجروں کا 2021عید سیل سیزن NCOCکے ناقص اور تجارت کُش فیصلوں کی نذر ہوگیا، کاروبار کی 6بجے بندش اور 8مئی سے لگایا جانے والا لاک ڈاؤن تجارت کیلئے تباہ کُن ثابت ہوا، اسٹاک سے بھری دکانیں و گودام تاجروں کو کوئی فائدہ نہ دے سکے، 50فیصد سے زائد مال فروخت نہ ہوسکا، تقریباً 40 فیصد خریدار عید شاپنگ سے محروم رہے، تجارت کا چمن موسم بہار میں اجڑگیا، رواں سال تجارت کے بہتر مواقع میسر آنے کے باوجود 2021 کاروباری اعتبار سے مایوس کُن رہا۔

تازہ ترین
تازہ ترین