• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
,

مثبت معاشی اشاریے: مہنگائی قابو سے باہر کیوں؟

2018ء کے انتخابات کے نتیجہ میں بننے والی عمران خان کی حکومت اپنے اقتدار کے تین سال مکمل کرنے کو ہے قومی اسمبلی میں بڑی تعداد اور سینٹ میں اکثریت رکھنے والی اپوزیشن جماعتیں پہلے دن سے انتخابی نتائج تسلیم کرنے کے لیے تیار نہ تھیں مگر تین برسوں کی کوششوں کے باوجود حکومت کو کوئی زک پہنچانے میں کامیاب نہیں ہو سکیں،کہتے ہیں کہ قومی قرضہ تیس ہزار ارب سے 42 ہزار ارب تک پہنچ گیا ہے مگر مولانا فضل الرحمن کی قیادت میں پی ڈی ایم ملک گیر مظاہروں اور جلسے جلوسوں کے باوجود آخری مرحلے میں پارلیمنٹ سے استعفوں کے ایشو پر تقسیم ہو گیا مولانا فضل الرحمان نے اس کا دوبارہ اجلاس بلا رکھا ہے۔ 

اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کی طرف سے دیئے گئے عشائیہ سے اپوزیشن کے اکٹھے ہونے کے کوئی امکانات پیدا ہوئے ہیں پی ڈی ایم اے اجلاس میں کھل کر سامنے آجائے گا،استعفوں کے ایشو کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی اور (ن) لیگ کے مابین بات کافی بڑھ چکی ہے ان کے مابین سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر کا ہی تنازعہ موجود نہیں بلکہ کراچی کے حلقہ این اے 249 میں (ن) کے امیدوار کی حمایت کی بجائے پیپلزپارٹی نے نہ صرف اپنا امیدوار کھڑا کیا جو کامیاب بھی ہو گیا اور نون لیگ کے دھاندلی کے الزامات کو بھی شنوائی نہ مل سکی، ایسی صورت حال میں پی ڈی ایم میں پیپلز پارٹی کی واپسی کے امکانات زیادہ نہیں ہیں(ن) لیگ خوش نہیں، مولانا فضل الرحمن دونوں کو اکٹھا رکھنے میں کس حد تک کامیاب ہوتے ہیں 29 مئی کو پتہ چل جائے گا۔ 

عمران خان حکومت نے اپنے دور اقتدار میں اپوزیشن کو ساتھ لے لے کر چلنے کی ابھی تک کوئی کوشش نہیں کی بلکہ یہ کہنا زیادہ بہتر ہوگا کہ عمران خان کی حکومت کی ابھی تک سب سے بڑی کارکردگی نواز شریف کو احتساب عدالتوں سے سزا کے بعد بیرون ملک بھیجنا، قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف، پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز ، سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی ،سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل، سابق وزیر داخلہ احسن اقبال، سابق وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق ،رانا ثناءاللہ ،سابق صدر مملکت آصف زرداری اور ان کی بہن فریال تالپور سمیت مخالفین کو جیل یاترا کروانا ہی ہے ، وزیراعظم آج بھی سابق حکمرانوں کو چور ڈاکو قرار دیتے ہوئے اسی طرح تنقید کا نشانہ بناتے ہیں جس طرح انتخابی مہم کے دوران کرتے تھے، قومی اسمبلی میں (ن) لیگ کے پارلیمانی لیڈر خواجہ محمد آصف آج بھی جیل میں احتساب بھگت رہے ہیں۔

سیاسی حالات کی بہتری کے خواہاں بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ عمران خان کو اقتدار میں لانے والوں نے اپوزیشن سے تعلقات استوار کرنے کا کہا ہے مگر شاید وزیراعظم اس کے لئے تیار نہیں، اور دوسری طرف وہ عمران خان کا ساتھ دے کر نون اور شین کو الگ کرنے کے لیے بھی کارآمد ہو سکتے ہیں حکومت میں موجود ان کے دوستوں کا خیال ہے کہ بنیادی طور پر چوہدری نثار علی خان نواز شریف کے اور مریم نواز کے جارحانہ بیانیہ کو غیر مؤثر کرنے کی کوشش کریں گے جس سے شہباز شریف کا پلڑا بھاری ہوگا اور شاید وہ اپنے بڑے بھائی اور بھتیجی کو بھی اس بات پر راضی کرنے میں کامیاب ہوجائیں کہ اسٹیبلشمنٹ سے صلح کرکے آگے بڑھا جائے۔ 

چودھری نثار علی خان حمزہ شہباز کی جگہ(ن) کے لوگوں کو متحد کر کے پنجاب میں پاسہ پلٹنے کی پوزیشن میں بھی بتائے جاتے ہیں ، عمران خان کی "گڈ بکس" میں ہونے کی وجہ سے وہ عثمان بزدار کی جگہ بھی لے سکتے ہیں جس سے پنجاب میں پی ٹی آئی کی حکومت کو اگلے دو سال بھرپور انداز میں کام کرنے کا موقع ملنے کا بھی امکان ہے (ن) لیگ کے لوگوں نے تو چودھری نثار علی خان کے حلف کو عمران خان کے لیے" این آر او" قرار دے دیا ہے ان کا کہنا ہے کہ کہ چوہدری نثار علی کا اڑھائی سال بعد الیکشن کا بیان ہی ان کی نیت جاننے کے لئے کافی ہے، پی ٹی آئی کے حامی بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ عمران خان نہ صرف اپنا یہ پانچ سالہ دور اقتدار پورا کریں گے بلکہ آئندہ پانچ سال بھی انہی کی حکومت ہوگی (ن) لیگ اور پیپلزپارٹی کے راستے میں احتساب رکاوٹیں کھڑی رہیں گی۔ 

حکومت وقت کے ترجمانوں کا دعوی ہے کہ کہ پاکستان کی معاشی صورتحال تیزی سے بہتر ہو رہی ہے وزیر خزانہ حفیظ شیخ کے جانے اور شوکت ترین کے آنے سے معاشی صورتحال یکسر تبدیل ہوگئی ہے،ویژن اور سوچ کی تبدیلی نے تمام معاشی نظام کو بدل کر رکھ دیا ہے آئی ایم ایف کی شرائط پر عمل درآمد روک دیا گیا ہے، نئے وزیر خزانہ نے آئی ایم ایف کا پروگرام جاری رکھتے ہوئے شرائط ماننے سے انکار کیا ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ بجلی اور گیس کی قیمتیں بڑھنے سے روکنے میں کس حد تک کامیاب ہوتے ہیں؟

پاکستان کا اصل مسئلہ مہنگائی اور بروزگاری ہے موجودہ حکومت جس طرح کے دعوے کر کے آئی تھی اس میں سے کوئی دعوی بھی پورا نہیں ہو سکا ، مہنگائی کو روکنے کے لیے نئے میکانزم کی ضرورت ہے،مہنگائی پر قابو پانے کے لئے مڈل مین کا کردار ختم کرنے کی ضرورت ہے کھیت اور منڈی کا تعلق جوڑے بغیر مسئلہ حل نہیں ہوگا حکومتی مثبت معاشی اشارئیے کے باوجود مہنگائی کنٹرول نہیں ہو رہی۔ 

روزگار کے مواقع بڑھانے کے لئے انڈسٹری لگانے کی ضرورت ہے، نوجوانوں کو بغیر سودی قرضوں کی فراہمی سے انڈسٹری لگائی جاسکتی ہے جس سے دیہی علاقوں سے لوگوں کی شہروں کی طرف نقل مکانی کا رجحان بھی کم ہو گا، معیشت بہتر بنانے کے لئے انقلابی اقدامات کی ضرورت ہے قصبوں اور دیہاتوں میں گھریلو صنعتوں کو فروغ دیا جائے، کاروباری طبقے اور کاشتکار کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے ساتھ ساتھ مراعات دینا ہونگی۔ 

کاروباری طبقے اور کسان کو خوش رکھنا ہوگا تاکہ وہ قومی خوشحالی کا باعث بنے ، پٹواری، عدالتی عملے اور تھانیدار کی لوٹ مار ختم کیے بغیر معاشی ترقی اور سماجی تبدیلی کا سوچنا پاگل پن کے سوا کچھ نہیں۔ سیاسی حلقوں کا کہناہے کہ وزیراعظم ابھی تک پاکستان میں بہترین نظام حکومت کیا ہونا چاہیے کے حوالے سے ذہنی انتشار کا شکار ہیں ۔

تازہ ترین
تازہ ترین