• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

شہباز و بزدار حکومتوں کے اخراجات کا موازنہ جاری

وزیرِ اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کے آفس نے شہباز شریف کے دورِ حکومت مالی سال 18-2017ء اور عثمان بزدار کے دورِ حکومت مالی سال 21-2020ء کے اخراجات کے اعداد و شمار کا موازنہ جاری کر دیا۔

جاری کیئے گئے اعداد و شمار کے مطابق شہباز شریف کے دور میں وزیرِ اعلیٰ آفس کے مجموعی اخراجات (نان سیلری) 23 کروڑ 86 لاکھ روپے تھے۔

عثمان بزدار کے دور میں وزیرِ اعلیٰ آفس کے مجموعی اخراجات (نان سیلری) 14 کروڑ 41 لاکھ روپے رہے، وزیرِ اعلیٰ عثمان بزدار کے دور میں وزیرِاعلیٰ آفس کے مجموعی اخراجات (نان سیلری) میں 40 فیصد کمی کی گئی۔

شہباز شریف دورِ حکومت مالی سال 18-2017ء میں گاڑیوں کی مرمت پر 4 کروڑ 24 لاکھ روپے کے اخراجات ہوئے۔

وزیرِ اعلیٰ عثمان بزدار کے دور میں گاڑیوں کی مرمت کی مد میں 1 کروڑ 50 لاکھ روپے خرچ ہوئے، اس طرح وزیرِ اعلیٰ عثمان بزدار کے دور میں گاڑیوں کی مرمت کی مد میں شہباز شریف دور کے مقابلے میں 65 فیصد کمی ہوئی۔

شہباز شریف دور میں انٹرٹینمنٹ اور تحائف کی مد میں 8 کروڑ 99 لاکھ 91 ہزار روپے خرچ کیئے گئے، عثمان بزدار کے دورِ حکومت میں 4 کروڑ 40 لاکھ روپے انٹرٹینمنٹ اور تحائف کی مد میں خرچ ہوئے۔

عثمان بزدار کے دور میں انٹرٹینمنٹ اور تحائف کے اخراجات شہباز شریف دور کے مقابلے میں 51 فیصد کم رہے۔

شہباز شریف دورِ حکومت میں گاڑیوں کے ایندھن کی مد میں 3 لاکھ 72 ہزار لیٹر پٹرول، ڈیزل اور موبل آئل استعمال کیا گیا۔

عثمان بزدار کے دور میں گاڑیوں کے ایندھن کی مد میں 2 لاکھ 25 ہزار لیٹر پٹرول، ڈیزل اور موبل آئل استعمال ہوا، اس طرح وزیرِاعلیٰ عثمان بزدار کے دور میں گاڑیوں کے ایندھن کی مد میں 40 فیصد بچت کی گئی۔

وزیرِ اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کا اس حوالے سے ایک بیان میں کہنا ہے کہ وزیرِ اعلیٰ آفس سمیت پنجاب بھر میں شوبازوں کی شاہ خرچیوں کا کلچرختم کر دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ماضی کی حکومت نے سرکاری خزانے کو مالِ مفت کی طرح اڑایا، ہم قومی وسائل کی پائی پائی کے امین ہیں۔

سردار عثمان بزدار کا مزید کہنا ہے کہ عوام کے وسائل پر سب سے پہلے حق عوام کا ہے ناکہ اشرافیہ کا، اشرافیہ اور مافیا نے مل کر ملک کے وسائل کو لوٹا ہے۔

وزیرِ اعلیٰ پنجاب کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہم نے مافیا کی لوٹ مار کا خاتمہ کیا ہے، سیکیورٹی کے نام پر ذاتی رہائش گاہوں کی تعمیر و مرمت کا سلسلہ بھی ختم کر دیا گیا ہے۔

تجارتی خبریں سے مزید