• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

حمزہ جاوید

تیز میٹھی چائے اور نسبتاََ زیادہ نمک والے پراٹھے کے ساتھ ناشتہ کرنا اب کراچی والوں کا معمول بن گیا ہے۔ صبح کے علاوہ شام اور رات کو بھی یہ شوق سے کھائےجاتے ہیں۔ کراچی میں کوئٹہ کے نام سے قائم چائے کے عوامی ہوٹلوں میں گاہکوں کا رش دیکھنے والا ہوتا ہے۔ چائے کےکپوں سے پھوٹتی گرما گرم بھاپ، چینی کی آمیزیش سے سجی دودھ کی موٹی بالائی اور انڈا آملیٹ کی خوشبو لوگوں کو اپنی طرف کھینچتی ہے۔ 

عام دنوں میں ان ہوٹلوں پر آکر کھانے والوں کا رش معمول ہے جب کہ اتوار یا کسی چھٹی والے دن پارسل لینے والوں کی بھی یہاں لائنیں لگ جاتی ہیں۔ تیز آنچ پر سکے ہوئے سرخ اور کڑک پراٹھوں کا مزہ ہی کچھ اور ہوتا ہے، پھر چائے کا جو مزہ ان ہوٹلوں پر آتا ہے وہ گھر کی چائے میں کہاں۔ 

چند برس پہلے پانچ روپے کا پراٹھا اور ساڑھے تین روپے کی سادہ چائے آتی تھی، پانچ روپے میں تو دودھ پتی آجاتی تھی، مگر جب سے گھی اور چینی کی قیمت میں اضافہ ہو اہے ، چائے پراٹھا بھی مہنگا ہو گیا ہے لیکن کھانے والوں کا رش پھر بھی کم نہیں ہوا۔ پہلے پہل ان ہوٹلوں میں تین ساڑھے تین انچ قطر کی گول پیالی میں چائے ملا کرتی تھی، مہنگائی ہوئی تو خریدار کو مطمئن کرنے کے لئے گول پیالی کی جگہ چھوٹے کپ اور پرچ استعمال کئے جانے لگے۔ پشاور کے روایتی قہوہ خانوں سے ملتی جلتی شکل کے یہ ہوٹل قریب قریب کراچی کی ہر آبادی اور ہر بستی میں موجود ہیں، خصوصاً بڑے بس اسٹاپس، ریلوے اسٹیشن، بازاروں، کارخانوں، فیکٹریوں، زیر تعمیر علاقوں، نئی آبادیوں ،یہاں تک کہ کچی آبادیوں میں بھی یہ ہوٹل قائم ہیں۔ 

کچھ ہوٹلز میں تو چائے کے ساتھ ساتھ دوپہر اور رات کا کھانا بھی ملتا ہے۔ دوسرے ہوٹلوں کے مقابلے میں یہاں کے کھانے کم قیمت ہوتے ہیں۔ اکثر ہوٹل رات گئے تک کھلے رہتے ہیں اس لئے یہ عام لوگوں کے لئے شام سے رات تک کی تفریح کا ساماں بھی ہیں۔ بعض ہوٹلوں کے آگے بڑی تعداد میں بچھی چار پائیوں پر ٹانگ پر ٹانگ پسارے ، سگریٹ کے دھواں اُڑاتے، محدود آمدنی کا گلا شکوہ، خاندانی اونچ نیچ کا تذکرہ اور یار دوستوں سے خوش گپپیاں کرتے لوگوں کے غول دن بھر کی تھکن اسی طرح اتارتے ہیں، پھر یہ ایسی تفریح بھی ہے جو کم خرچ مگر بالانشیں ہے۔ اسی "بالا نشیں" کی بدولت کراچی کے قدیم ایرانی ہوٹلز ختم ہوگئے ،ورنہ اس سے قبل چائے کے ایرانی ہوٹل کراچی کے باسیوں کی تفریح گاہ ہوا کرتے تھے۔

شہرکے کئی ہوٹل تو باقاعدہ پورے شہر میں مشہور ہیں مثلاََ  گلبرگ کا کیفے پیالہ، سپر کیفے پیالہ وغیرہ۔ دن ہو یا رات ان ہوٹلوں پر چائے پراٹھا ہر وقت ہی دستیاب ہوتا ہے۔ ہوسکتا ہے پہلے صرف صبح کے وقت چائے پراٹھا ملتا ہو مگر اب جس وقت چاہیں چائے پراٹھا مل جاتا ہے۔

آپسی جھگڑے ہوں تو بھی ان ہی ہوٹلوں پر صلح صفائی ہوتی نظر آئے گی۔ ادھار لینے اور دینے کے لئے یہیں میٹنگز ہوتی ہیں اور کبھی کبھار بات مزید بگڑ جائے تو ہاتھا پائی بھی ان ہی ہوٹلوں میں نظر آتی ہے۔ گویا جس طرح تمام مسائل، ہنگاموں اور دھما چوکٹریوں کے ساتھ زندگی آگے کی جانب گامزن ہے، اسی طرح یہ ہوٹل بھی اپنی تمام تر خصوصیات اور ہر طرح کی اونچ نیچ کے ساتھ چل بھی راور تیزی سے بن بھی رہے ہیں، لگتاہے زندگی کے ہنگامے ہی ان ہوٹلوں کی دھڑکن ہیں۔