• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آرام کی نوید لے کر راتیں مکانوں میں آرام دہ بستروں پر اترتی ہے۔ گزرے کل میں یہی راتیں اسی نوید کے ساتھ پہاڑوں میں بنے غاروں کی پتھریلی زمین پر اترتی تھی، کہ یہی مکاں تھا یہی ٹھکانہ تھا۔ کئی نسلیں اسی طرح ان ہی غاروں میں اپنی اپنی زندگی گزار کر راہی عدم ہوگئیں۔ بنی نوع انساں کا غاروں سے نکل کرعالی شان عمارتوں میں رہائش تک کا یہ سفر بہت طویل ہے۔ شعور کی پختگی اور دستیاب وسائل کو بروئے کار لاکر آج انسان کئی منزلہ مضبوط عمارتوں کی تعمیر تک پہنچ گیا ہے۔

رہائش کے لئے زمین پرگھر کب بنائے گئے، یہ درست طور پر تو معلوم نہ ہوسکا، لیکن اتنا اندازہ ہے کہ بات تب آگے بڑھی جب وہ پتھروں کو جوڑنے کے مسالے سے انسان روشناس ہوا۔ جڑائی کے اس فن نے عمارت سازی کے باقاعدہ فن کی بنیاد رکھی ،یوں،گھر، کا سفر غار سے ہوتا فلک بوس عمارتوں تک جاپہنچا۔ دنیا بھر میں تعمیرات کے اس طویل دورانیے میں ہر خطہ اپنی ثقافت ، جمالیاتی ذوق اور دستیاب وسائل کی بنا پر جداگانہ ہی نظر آیا۔

انیسویں صدی کے وسط یعنی1860تک کراچی میں خال خال تعمیر ہونے والی ایک یا دومنزلہ عمارتیں پورے ہندوستان میں تعمیر ہونے والی عمارتوں کا پرتو تھیں۔ پتھر، چکنی مٹی، اور لکڑی کی مدد سے تعمیر ہونے والی وہ عمارتیں گوکہ جاذب نظر ہونے کی سند نہ پاسکیں، بس وہ صرف متوسط طبقے کے سرچھپانے کا ایک ٹھکانہ تھا۔

کراچی تادیر تعمیرات کے حسن سے محروم نہ رہ سکا۔ شہر میں جمالیاتی ذوق کی حامل عمارتوں کی تعمیر کا سلسلہ1839میں انگریزوں کے کراچی میں وارد ہونے کے بعد شروع ہوا اور کچھ سالوں بعد ہی بندرگاہ پرہونے والے ترقیاتی کاموں، شہری سہولتیں فراہم کرنے والے اداروں کے دفاتر اور سماجی، مذہبی وتفریحی مرکزوں وغیرہ کی تعمیر سے کراچی میں روزگار کے دروازے کھل گئے۔ مقامی ہنرمند افراد کے ان ذرائع سے مستفید ہونے کے بعد بھی ہنرمندوں کی مزید ضرورت پڑی، تو اس ضرورت کو پورا کرنے کے لئے کراچی کے آس پاس سے لوگ یہاں آنے لگے ۔ 

کثیر سرمائے کے حامل مقامی تاجروں اور ٹھیکیداروں نے انگریزوں کے دیئے پروجیکٹ کو مقامی ہنر مندوں کے دست ہنر سے حسن وجمال عطا کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی رہائش گاہوں اور دفاتر کو بھی جمالیاتی ذوق سے ہم آہنگ رکھا۔ اس زمانے میں کراچی تعمیرات کے حوالے سے اپنی شناخت کی طرف بڑھ رہا تھا۔ یہاں کی رہائشی عمارتیں، انتظامی دفاتر اور تفریحی وسماجی مراکز کی عمارتیں تعمیرات کے حسین رنگوں میں ڈھل رہی تھیں۔ پتھر کو حسن عطا کرنے والے باکمال ہاتھ کراچی کی عمارت سازی کو بھی نصیب ہوگئے تھے۔

’’ فطرت میں خوبصورتی رچی بسی ہے ‘‘ یہ قول ہے پہلی صدی قبل مسیح کے رومی ماہر تعمیرات وٹرووئیس کا۔ اس نے عمارت کی تعمیر کے تین بنیادی اصول متعین کئے، کہ عمارت مضبوط ہو، کار آمد ہو اور خوبصورت وجاذب نظر ضرور ہو۔ قیام پاکستان سے قبل تعمیر ہونے والی نجی وسرکاری عمارتیں ان ہی تین اصولوں پر کاربند رہ کر تعمیر کی گئیں، کہ آج اسی برس گزرنے پربھی ان کی مضبوطی اور شان وشوکت میں کوئی فرق نہیں آیا۔

اپنے جمال ودل آویزی کے ساتھ کھڑی یہ عمارتیں دنیا بھر کے خوبصورت ومستند طرز تعمیر کو اپناکر بنائی گئیں تھیں۔ ان میں یونانی، رومی ، ونسٹ گوتھک، سرکونک، یورپی، مغلیہ، اسلامی، ایرانی، مصری وہندوستانی طرز تعمیر نمایاں تھیں۔

یہاں قیام پاکستان سے قبل تعمیر کی ہوئی ان تین چار عمارتوں کا تذکرہ بے جا نہ ہوگا، جنہیں جمالیاتی ذوق کے حامل آڑیکٹیچرز نے ڈیزائن کیا تو ماہر ہاتھوں نے مضبوطی اور خوبصورتی عطا کی، یہ آج بھی کراچی کی پہچان کے طور پر معروف ہیں اور ایک صدی گزرنے پر بھی سر اٹھائے کھڑی ہیں۔

پہلے اس شہکار تعمیر کاذکر کریں گے، جسے ماہرین نے حسین وجمیل کی سند عطا کی ہے ، وہ ہے فرئیر ہال کی عمارت جو وینسٹ گوتھک اور سرکونک طرز تعمیر پر ڈایزئن کی گئی ۔گزری اور بھولاری سے لائے زرد بھورے پتھروں کے امتزاج سے تراشیدہ محرابیں، کشادہ ہال ، چھت پر خوبصورت مینار ،سحر انگیز خوبصورتی کی حامل یہ عمارت آج تقریباً ڈیڑھ سو سالوں سے کراچی کے باسیوں کے نزدیک شاہکار عمارت گردانی جاتی ہے۔

اب مختصراً اس عمارت کا ذکر، جس کا کراچی سے چولی دامن کا ساتھ ہے۔ گئے دنوں میں’’ روشنیوں کا شہر‘‘ کہلانے والے اس شہر کی روشنیاں اسی منبع سے پھوٹتی تھیں۔

یہ بندر روڈ(ایم اے جناح روڈ) پر موجودہ کراچی میونسپل کارپوریشن کی عمارت ہے جو ہندوستانی، مصری اور یونانی فن تعمیر کے باہمی اشتراک کا شاندار نمونہ ہے۔ راجھستان سے لائے گئے سرخ جودپوری پتھر اور گزری کے مقامی زرد پتھروں کے سنگم سے تعمیر کی گئی یہ عمارت حسن کا ایک دل آویز شاہکار ہے۔ 

فیرئیر ہال کی عمارت میں جہاں آرٹ مچلتا ہے، تو یہاں جلال ٹپکتا ہے۔آخر میں شہر کی ایک معروف علامت کا ذکر،جو یہاں کے باسیوں کا اندرون شہر سفر کی صورت میں کبھی نقطہ آغاز ہوتا ہے توکبھی سفر کے اختتام کا اعلان۔ بندرگاہ سے آتے ہوئے شہری حدود کے آغاز کی علامت کے طور پر ایستادہ یہ خوبصورت میری ویدر ٹاور، جسے گوتھک فن تعمیر کے خوبصورت زاویوں سے مرصع کیاگیا ہے۔ ایک سو پینتیس سال گزر جانے کے باوجود آج بھی یہ شہر کی خوبصورتی کا ضامن ہے۔

قیام پاکستان کے بعد زر کی ہوس نے آنکھوں پرپٹی باندھ دیا، جس نے تعمیراتی شعبے کوبھی نہ بخشا۔پائیداری اور خوبصورتی وحسن وجمال رخصت ہوگئے۔ عمارتوں کے نام پر ناپائیدار، اندھیرے اور بدنما کھوکھے ڈھلنے لگے۔ وہ تعمیراتی جمال کہاں کھو گیا، کہ پل بھر میں نظریں جن کے حسن کا طواف کرلیتی تھیں اور عین اسی لمحے رومی ماہر تعمیرات وٹرووئیس کی سرگوشی کہیں سنائی دیتی تھی کہ ’’ فطرت میں خوبصورتی رچی بسی ہے‘‘۔