• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ابن آس محمد ہمارے ملک کے ممتاز ادیب، ڈراما نگار اور مترجم ہیں۔ انہوں نے بچوں کے کئی ناول لکھے، جو بڑوں میں بھی مقبول ہوئے۔ ابن آس نے ’’بچوں کا جنگ‘‘ کے لیے ’’خالو بھالو‘‘ کے عنوان سے ناول قلم بند کیا ہے، جس کا آغاز ہم اس ہفتے سے کر رہے ہیں۔ بچو! آج اس کی پہلی قسط ملاحظہ کریں۔ ہمیں امید ہے کہ آپ اسے پڑھ کر لطف اٹھائیں گے اور کچھ سیکھیں گے بھی۔ اس کے بارے میں ہمیں اپنے خیالات سے آگاہ کرنا بھولیے گا نہیں۔

میں ایک بھالو ہوں ۔

ایک نفیس طبیعت، مگر خاصا بوڑھا بھالو ۔

اطراف میں رہنے والے سب ہی جانور مجھے ’’خالو بھالو ‘‘کہتے ہیں ۔

آپ تو جانتے ہیں کہ بھالو کئی قسم کے ہوتے ہیں ۔

ایک تو ریچھ ہوتا ہے ،کالے بالوں والا بڑا سا قد آور جانور جس میں بڑی طاقت ہوتی ہے ۔اَرنے بھینسے جیسی طاقت ۔۔۔ایسے ریچھ عام طور پر سدھالیے جاتے ہیں۔ان کا تماشا انسانوں کی دنیامیں دکھایاجاتا ہے ۔ان کی ناک میں نکیل ڈال کر گلی گلی ،گاؤں گاؤں گھمایا جاتا ہے ۔ان پر ایسا ظلم ہوتا ہے کہ وہ اپنی طاقت بھول کر کسی پالتو بندر کی طرح اپنے مالک کے اشاروں پہ چلتے ہیں ۔ناچ ناچ کے دکھاتے ہیں۔گردن جھکا کر چلتے ہیں ۔اپنے مالک کی روزی روٹی کا سبب بنتے ہیں۔ مالک جو کھلائے اسی روکھی سوکھی کو مجبوری میں کھاتے ہیں ۔ویسے شہد انہیں بہت بہت پسند ہوتا ہے۔بہت شوق سے کھاتے ہیں ۔

ان ہی کی نسل میں ایک قسم ان بھالوؤں کی ہو تی ہے جو جنگل میں ہوتے ہیں۔جنگلی ریچھ کہلاتے ہیں ۔وہ نرے جنگلی اور، وحشی ہوتے ہیں ۔چھوٹے چھوٹے جانوروں کو چیر پھاڑ کر کھاجاتے ہیں ۔

ایک برفانی بھالو بھی ہوتا ہے ۔

اسے سفید ریچھ یا پولر بیئر بھی کہتے ہیں۔ وہ برفانی علاقوں میں رہتا ہے۔ برف کی طرح سفید ہوتا ہے۔ دیکھنے میں بہت پیارا ہوتا مگر سچ میں بے حد خوف ناک درندہ ہے۔ خون خوار ہوتا ہے ۔خون دیکھ کر دیوانہ ہوجاتا ہے ۔

اس کے علاوہ بھی بھالوؤں کی کئی قسمیں ہیں، کئی نسلیں ہیں۔

ایک قسم ان بھالوؤں کی بھی ہوتی جو گھروں میں بچوں کے پاس ہوتے ہیں۔معصوم ،بھولے بھالے ،خاموش اور سیدھے سادے بے ضرر بھالو۔۔۔

جہاں بٹھایا ،بیٹھ گیا،جہاں لٹایا ،لیٹ گیا۔ جہاں سجایا سج گیا۔

ان بھالوؤں کو عام طور پر ’’ ٹیڈی بیئر ‘‘ کہا جاتاہے۔

انہیں گود میں اٹھایا جاتاہے ۔الماری پہ سجایا جاتا ہے۔

بستر پہ بٹھایا جاتاہے ۔نرم نرم روئی کے گالوں جیسا بھالو۔۔۔گڑیاکے بالوں جیسا بھالو۔۔۔میں وہی بھالو ہوں ۔جنگل میں رہتا ہوں۔ چھوٹے چھوٹے جانوروں کا خالو ہوں ۔یہ میں بتا ہی چکاہوں کہ میرے ارد گرد رہنے والے تمام جانوروں کے بچے مجھے ’’خالو بھالو‘‘ کہتے ہیں ۔ان بچوں کے اماں اور ابا کے لیے بھی میں’’ خالو بھالو‘‘ ہوں ۔

کہتے ہیں ، بڑھاپے میں عام طور پربھالو چڑچڑے ہوجاتے ہیں ،جھکی ہوجاتے ہیں ۔بات بات پہ منھ بناتے ہیں۔ لڑ جاتے ہیں ،مگر میں ذرا بھی چڑ چڑا نہیں، بالکل بھی جھکی نہیں ۔ میں توبہت معصوم ،سیدھا سادا اور بھولا بھالا سابھالو ہوں ۔

میری زندگی عجیب عجیب کہانیوں اور حیرت انگیز قصوں سے بھری ہوئی ہے۔

میں نے زندگی میں کئی سفر کیے ہیں، جو بے حد حیران کن اور عجیب و غریب ہیں ۔

میری کئی کہانیاں ہیں جو کم ہی لوگوں تک پہنچی ہیں ۔

لوگ عام طور پر اپنے بچپن ،لڑکپن یا جوانی کی کہانی سناتے ہیں ۔میں آپ کو اپنے بڑھاپے کا قصہ سناتا ہوں۔ جب مجھے ایک طویل سفر پر روانہ ہونا پڑا تھا۔جس عمر میں لوگ گھروں میں بند ہوجاتے ہیں ۔بستر سے نہیں اُترتے مجھے ایک سنسنی خیز ایڈونچر کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

میرا یہ ناول ’’ بھالو کا سفرنامہ ‘‘ کے نام سے جنگل میں بہت مشہور ہورہا ہے۔

مائیں اپنے بچوں کو اس سفر کی کہانیاں سناتی ہیں ۔انہیں سکھاتی ہیں کہ دیکھو کیسے ایک بوڑھا بھالو خوف ناک اور حیر ت انگیز واقعات سے نبردآزما ہوا ۔کیسے اس نے اپنے مقصد کو حاصل کیا ،کس طرح خوف ناک واقعات کا سامنا کیا ،اور کیسے بدترین حالات میں کام یاب لوٹا۔

تو بچو۔۔۔قصہ کچھ یوں ہے :

ہاں۔۔۔مجھے یاد ہے ،یہ اس روز کا قصہ ہے جس روز میری آنکھ کچھ تاخیر سے کھلی ۔

ہوا یوں کہ اس روز میں سوکر اٹھا توسوچا کھڑکی کے پاس جاکر دیکھوں، باہر سورج چمک رہا ہے یا نہیں ۔

خیال آتے ہی میں اچھل کر بستر سے نیچے آیا ،اورجوں ہی میںنے نیچے زمین پہ پاؤں رکھا ،میری چیخ نکل گئی ۔

میرے پیر کسی نوک دار مگر نرم شے پہ پڑ گئے تھے ۔

یوں لگا جیسے درد کی ایک تیز لہر تلووں سے ہوتے ہوئے پورے بدن میں سرائیت کر گئی ہے ۔

’’۔ارے باپ رے ۔۔۔۔‘‘

میں بری طرح بوکھلا گیا ۔تلملا کر بولا :

’’شاید یہ آلو کا کیک ہے ۔۔۔۔‘‘

سب جانتے ہیں ’’خالو بھالو‘‘کو آلو کا کیک پسند تھا۔

میرے بھانجوں کو بھی پسند تھا ۔

میرے دو بھانجے ہیں ۔

ایک کا نام ’’مانی خرگوش ‘‘ دوسرے کا نام ’’کامی خرگوش‘‘ہے۔

یہ دونوں ننھے خرگوش اپنے ابو ’’بنٹی خرگوش‘‘ اور امی ’’ببلی خرگوشن‘‘ کے ساتھ میرے ہی گھر میں رہتے ہیں ۔

میں نے ہی اصل میں’’ بنٹی خرگوش‘‘ اور’’ ببلی خرگوشن‘‘ کو مان بن کرپالا تھا۔ پال پوس کر بڑا کیا تھا۔ان کی شادی کرائی تھی ۔اب ان کے دو بچے تھے ۔

کامی خرگوش اور مانی خرگوش ۔۔۔ میرے خونی رشتے دار نہیں ۔بھلا خرگوش اوربھالو میں بھی کوئی خونی رشتہ ہوا ہے۔ہماری نسلیں مختلف ہیں ۔ذات مختلف ہے،مگر چوں کہ میں نے بنٹی خرگوش اور ببلی خرگوشن کو پالا پوسا تھا ،اس لیے وہ مجھے ’’خالو بھالو‘‘ کہنے لگے۔ تب سے ہی میرا نام’’خالو بھالو‘‘ پڑگیا۔ ان کے بچے بھی ’’خالو بھالو‘‘ کہنے لگے تو اِرد گرد کے سب ہی جانوروں اور ان کے بچوں نے مجھے ’’ خالو بھالو ‘‘ کہنا شروع کردیا۔

حالاں کہ میں کسی کا خالو نہیں تھا۔میں تو محض بھالو تھالیکن وقت نے بتایاکہ خونی رشتوں سے زیادہ وہ رشتے اہم ہوتے ہیں جو وقت پر ایک دوسرے کے کام آئیں۔

میں ان کے کام آتا تھا وہ میرے کام آتے۔ یوں ہم سب رشتے دار ہو گئے ۔

خیر ۔۔۔پاؤں میں ٹیس اُٹھی تو میں سمجھ گیا کہ مانی خرگوش اور کامی خرگوش ہی یہ کیک زمین پہ چھوڑ کر چلے گئے ہیں ۔

میں نے بد مزگی سے بڑ بڑاتے ہوئے کہا:

’’خرگوش کے یہ بچے بھی نا۔۔۔کس قدر لا پرواہ اور غیر ذمے دار ہوگئے ہیں۔۔۔خرگوشوں کا نام مٹی میں ملادیا ہے ان بچوں نے تو ۔۔۔۔‘‘

میں صرف مانی اور کامی خرگوش کا خالو نہیں تھا،بلکہ میں گلہری کے دونوں لڑکوں ،بوبو او ر جوجو گلہرا کے ساتھ ساتھ بطخ کے تینوں بچوں یعنی پخ پخ، چخ چخ اور قواق قواق کابھی خالو ہوں۔

میں نے بتایا نا کہ ارد گرد کے سب ہی جانو روں کے بچے مجھے ’’خالو بھالو‘‘ کہتے ہیں ۔

میرا اپنا گایا ہوا یہ گیت ان بچوں میں بہت مقبول ہے ۔

بھالو ہوں ،میں بھالوہوں

جان وَروں کا خالو ہوں

بچے مجھ کو بھاتے ہیں

مجھ سے ملنے آتے ہیں

ہنستے ہیں ہنساتے ہیں

رَس ملائی کھاتے ہیں

بھالو ہوں میں بھالو ہوں

جان وَروں کا خالو ہوں

میرا یہ گیت بہت طویل ہے ،کہانی کے شروع میں اتنا طویل گیت سنانا مناسب نہیں ہے ،جہاں جہاں ضرورت ہوگئی وہاں وہا ں اس عظیم اور مقبول گیت کے اشعار پیش کرتا جاؤں گا۔

ہاں تو کہانی کہاں تھی ۔؟

میں کیا بتا رہا تھا ۔۔۔؟

ہاں یاد آگیا۔۔۔

کہانی وہاں تھی جہاں میں نے اٹھتے ہی سوچاکہ کھڑکی کے پا س جا کر دیکھنا چاہیے کہ سورج چمک رہا ہے یا نہیں ۔۔۔

میں نے اچھل کربستر پہ سے زمین پہ پاؤں رکھا تو جیسے میرا پاؤں کسی نرم چیز پہ چپک گیا مگر میرے تلووں سے ایک ٹیس سی اٹھی اور ہڈیوں میں درد کی لہر جاگ گئی ۔

میں ایک لمحے کو وہیں ساکت رہ گیا ۔فوری طور پر میری سمجھ میں نہیں آیاکہ میرا نرم نرم پاؤں کس چیز پہ پڑا ہے۔ پہلا خیال یہی ذہن میں آیا کہ ہو نہ ہو یہ آلو کا کیک ہے۔

مجھے یہ کیک اٹھاکر ایک طرف رکھ دینا چاہیے۔ کسی دوسرے کا پاؤں اس پہ نہ پڑ جائے ۔

میں نے نیچے جھک کر دیکھا تو چونک گیا۔