• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

عالمی سیاسی حلقوں میں یہ سوال تیزی سے گردش کررہا ہے کیا دنیا دو بلاکس میں تقسیم ہونے جارہی ہے۔ امریکی بلاک اور چینی بلاک۔بہ ظاہر اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ چین آج دنیا کے زیادہ حصے میں اپنی سرمایہ کاری پھیلا چکا ہے اور مزید پھیلا رہا ہے خاص طورپر افریقا، جنوبی امریکا اور ایشیائی ممالک میں بیش تر ممالک سے تجارت اور سرمایہ کاری کے معاہدے طے پاچکے ہیں۔ 

امریکا اور چین کی تجارتی جنگ کیا رخ اختیار کرے گی

 چین کی اس تیز رفتار پالیسی سے واضح ہوتاہے کہ چین دنیا کی تجارت اور معیشت پر اپنا کنٹرول چاہتا ہے امریکا کو تشویش ہے اور یہ تشویش بڑھتی جارہی ہے کہ ایک طرف امریکا کی تجارت کا خسارہ بڑھتا جارہا ہےتو دوسری طرف چین نے امریکی کمپنیوں اور تحقیقی اداروں سے ٹیکنالوجی حاصل کرلی ہے اور مزید کے لئے وہ تمام حربے استعمال کررہا ہے۔ 

چین نےاپنی سرمایہ کاری اور تجارتی پالیسی کو بروئے کار لاتے ہوئے بحرہند اور افریقی ممالک میں فوجی اڈے تعمیر کرلئے ہیں جبکہ جنوبی بحریہ چین، بحرالکاہل میں چین کا بہت بڑا جدید بحری اور ہوائی اڈہ پہلے سے موجود ہے جس کو مصنوعی جزیروں کی تعمیر سے مزید وسیع کرتا جارہا ہے۔ ظاہر ہے امریکا کو چین کی ان پالیسیوں کی وجہ سے شدید تشویش ہے۔ اس ضمن میں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں خاصی لے دے رہی۔ امریکی صدر نے چند اہم مصنوعات پر محصول میں اضافہ کردیا اس پر چین نے شدید احتجاج بھی کیا مگر چینی سرمایہ کاری میں کوئی کمی نہ آئی۔ جاری حالات میں بیشتر امریکی اور دیگر ممالک کے مبصرین کی رائے میں دنیا خطرناک راستے پر چل پڑی ہے۔ 

دنیا کی دوبڑی قوتیں لگتاہےتصادم کی طرف بڑھ رہی ہیں۔ اس ضمن میں چار ممالک امریکا، جاپان، آسٹریلیا اور بھارت کے وسیع معاہدے کی مثال دیتے ہیں کہ یہ ایک دفاعی معاہدہ ہے جو چین کا راستہ روکنے کیلئے قائم ہوا ہے۔ اگرچہ امریکا اور دیگر نے واضح کیا ہے کہ کو واڈ میں چین ہدف نہیں بلکہ تجارت دو طرفہ تعاون کا وسیع معاہدہ ہے۔ اس طرح چین کا بھی بلاک جس میں شمالی کوریا، پاکستان اور بعض افریقی جنوبی ایشیائی ممالک ہیں مذکورہ چینی بلاک وسیع معاہدہ کی بنیاد پر قائم ہے تصادم کے لئے نہیں۔ اگر بالفرض امریکا اور چین کا تصادم ہوتا ہے تو مذکورہ ممالک ناچار چین کا ساتھ دے سکتے ہیں۔ شمالی کوریا البتہ چین کا صرف ساتھ دے گا۔ 

پاکستان اور چین پرامن دو طرفہ معاہدے میں منسلک ہیں، دفاعی معاہدہ میں نہیں، کیونکہ پاکستان اور امریکا دونوں طویل عرصے تک اچھے دوست پارٹنر رہے ہیں۔ تاہم آج کل امریکا اور بھارت میں گاڑھی چھن رہی ہے اس لئے امریکا اور پاکستان میں کچھ سردمہری پائی جاتی ہے تاہم پاکستان کو اپنی خارجہ پالیسی پر نظرثانی ضرور کرناچاہئے اور توازن رکھنا چاہئے۔ 

تاہم چین کا سرکاری موقف یہ ہے کہ عالمی برادری کو کھلے ذہن کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔ ایک اچھے ساجھے داری کی معیشت میں اور ایک دوسرے سے دوری اختیار کرنے کے بجائے ایک دوسرے کے قریب آنے کی پالیسی اپنانا چاہئے جبکہ امریکا نے بھی اکثر اس موقف کا اعادہ کیا کہ عالمی معیشت میں سدھار کے لئے ایک دوسرے ممالک کے آپشن کے تجارتی معاہدے مفید ہیں۔ تاہم امریکا کےسابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ بیش تر چینی معاہدوں پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ 

اس کے علاوہ ٹرمپ کے دور میں امریکا کی طرف سے جدید ٹیکنالوجی اور صنعتی راز چرانے کے الزامات سامنے آتے ر ہے تھے مگر چین نے ہمیشہ ایسے الزامات کی تردیدکی اور یہ واضح کیا کہ چین اپنے لوگوں کو جدید تعلیم دینے اور تحقیق کرنے پر سالانہ اربوں ڈالر صرف کرتاہے۔ہمارے ہنرمند اور باصلاحیت افراد نے ٹیکنالوجی کے حصول اور تحقیق میں نمایاں کامیابی حاصل کی ہےمگر امریکی مبصرین کوخدشات ہیں۔ جو امریکی کمپنیاں اور صنعتی ادارے چین میں اپنی پیداوار کے حصول کے لئے کام کررہےہیں وہ اپنے کارخانے اور ٹیکنالوجی چین لے گئے تھے جس سے چین نے فائدہ اٹھایا جس میں جی ایم موٹرز کا معاملہ بھی سامنے آیا کیونکہ جی ایم موٹرز اپنے پلانٹ چین منتقل کرچکا تھا جس کو سابق صدر ٹرمپ کے دور میں واپس امریکا لانے پڑےاور امریکی حکومت اور جی ایم موٹرز کے مابین کشیدگی پیدا ہوئی۔ 

اس نوعیت کے اور صنعتی ادارے بھی ہیں جو چین میں پلانٹ لگا کر چین کی سستی بجلی اور سستی لیبر کا پورا فائدہ اٹھارہے تھے۔ ایسے میں امریکی حکومت کاموف تھا کہ امریکی محنت کشوں کو بیروزگار کرکے محض زائد منافع کے لالچ میں امریکی صنعت کاروں نے چین کو فائدے پہنچائے۔ غرض امریکا اور چین کے مابین تجارت کے مسئلے پرحالات اور معاملات سردوگرم کا شکار رہے ،زیادہ تر امریکی حکومت کو چینی پالیسی سے شکوہ شکایات رہیں۔مگر اب صورتحال تیزی سے تبدیل ہوتی نظر آتی ہے ۔

امریکی صدر جوبائیڈن نے واضح طور پر اعلان کیا کہ امریکا نئی سرد جنگ نہیں چاہتا ہے امریکی صدر نے یہ بات اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں کہی ہے ان کا کہنا تھا کہ رواں صدی کا جاری عشرہ دنیا کی نئی سمت کا تعین کرے گا۔ امریکا تمام معاملات کو افہام و تفہیم سےطے کرنے کا خواہش مند ہے اگر پھر بھی حالات میں تبدیلی رونما نہ ہوئی تو فوجی طاقت کا استعمال آخری ہتھیار کے طور پر کریں گے۔ بیس سالہ افغان جنگ ختم ہوچکی ہے صدر بائیڈن کا کہنا تھا کہ امریکا اور چین کے مابین وجہ تنازعات بن رہے ہیں جن میں انسانی حقوق، معاشی برتری کے حصول کے بجائے تمام معیشتوں کے لئے یکساں مواقع ہیں۔ 

ان کامزید کہناتھا کہ دنیا ایک اور مہلک وبا کی طرف بڑھ رہی ہے یہ نیا وائرس ہوگا۔ صدربائیڈن نے کوواڈ معاہدہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس معاہدہ میں جاپان، آسٹریلیا، بھارت اور امریکا شامل ہیں۔ یہ چار ممالک ایشیائی اور افریقی ممالک کو درپیش معرکوں کا سامنا کریں گے۔ صدر بائیڈن نے کہا اب بھی بعض ممالک میں عوام کے حقوق کو کچلا جارہا ا ور انہیں جمہوریت کے اثرات سے دور رکھا جارہا ہے جبکہ عوام کی حکومت عوام کے ذریعہ ایک مثبت راستہ ہے۔ اس راستہ کواپنا کر بہت سے مسائل سے چھٹکارا حاصل کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے انتہا پسندوں کو کہا کہ اب امریکا 2001ء والا امریکا نہیں ہے ۔دہشت گردی عالمی خطرہ ہے۔ یہ بات صدر جوبائیڈن نے اقوام متحدہ کے جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس سے خطاب میں کہی اس کے علاوہ انہوں نے دیگر معاملات کا بھی ذکر کیا جس میں دنیا میں پائیدار امن پرزور دیا۔

چین کے صدرشی جن پنگ نے چین کی پالیسیوں کو جیو اور جینے دو اور عالمی امن کی علمبردار قرار دیا۔ انہوں نے کہا چین پرامن طور پر اپنے ملک کی ترقی اور عوامی خوشحالی کی راہ پر گامزن ہے۔ ہم چینی عوام کی ترقی اور خوشحالی کے لئے اربوں ڈالر سالانہ خرچ کررہے ہیں ۔رواں صدی کے نصف تک امید ہےچین اپنے تمام اہداف حاصل کرلے گا۔ 

واضح رہےکہ چین اس وقت دنیا کی دوسری بڑی معیشت ہے آبادی ایک ارب بتیس کروڑ کے قریب ہے۔ چین کی بری فوج دنیا کی سب سے بڑی فوج ہے۔ چینی حکومت ہر سال پانچ لاکھ طلبہ کو برطانیہ اور امریکا روانہ کرتی ہے جو وہاں انگریزی سیکھنے جاتے ہیں۔ تعلیم اور تحقیق پر بڑی سرمایہ کاری کی جانے سے خواندگی کی شرح بلند ہے تاہم شہری اور دیہی علاقوں میں طرز زندگی کے فرق کو کم سے کم کرنے پر پوری توجہ دی جارہی ہے۔

چینی صدر شی جن پنگ چین کے تاحیات صدر اور تینوں مسلح افواج کے کمانڈر انچیف بھی ہیں۔ شی جن پنگ کم گو، نرم طبیعت اور اعتدال مزاج شخصیت کے مالک ہیں۔ کم عمری ہی سے وہ ینگ کمیونسٹ لیگ کے رکن رہے اپنی محنت، حب الوطنی اور لیاقت سے عالمی رہنمائوں میں نمایاں حیثیت حاصل کرنے میں کامیاب رہے ۔چینی عوام میں قوم پرستی ، حب الوطنی اور اپنے آپ پر چینی ہونے کے ناتے فخر کرتے ہیں۔

چین کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ تاتار اور منگول قبائل نے چین پر بار بار حملے کئے۔ اسےبار بار نقصان پہنچاتے رہے اس سے عاجز آکر چین نے دیوار چین تعمیر کرائی،جو چھ سو میل کے قریب طویل اور نو فٹ چوڑی ہے باوجود اس کے چین پر حملے ہوتے رہے۔

تاہم یہ بھی دلچسپ حقیقت ہے کہ چین نےاپنی سرحدوں سے نکل کرکسی بھی ملک پر حملہ نہیں کیا ۔قدیم چین نے جڑی بوٹیوں کے ذریعہ علاج کرنے کے فن میں کمال کر دکھایا اس کے علاوہ قدیم مارشل آرٹ میں ترقی چین کا کمال ہے۔ کہا جاتا ہے کہ زمانہ قدیم سےآج تک چین دسترخوان سب سے بڑا ہے، چینی کھانے نہ صرف لذیذ ہوتے ہیں بلکہ بہت زیادہ اقسام رکھتے ہیں۔

چینی تجارت کے شعبہ میں خاص بصیرت رکھتے ہیں۔ ماضی میں چین کا سلک روٹ پہلا عالمی تجارتی بیلٹ تھا۔ عرب باشندے بحری تجارت میں گہرا تجربہ رکھتے تھے ،جبکہ قدیم چینی باشندے خشکی کے راستے تجارت کا خاصا تجربہ رکھتے تھے۔ چین کا ریشمی کپڑا بہت مشہور تھا ۔اس مناسبت سے سنکیانگ اور پاکستان کے درمیان تعمیر ہونے والی سڑک کانام شاہراہ ریشم رکھا گیا، تاہم جاری عالمی صورتحال میں دو بڑی طاقتوں کی زبانی جنگ جس میں ایک دوسرے کا نام لئے بغیر نکتہ چینی اور کبھی ڈھکی چھپی اور کبھی کھلی دھمکیوں کا تبادلہ عالمی برادری کے لئے تشویش ناک ہوتا جارہا ہے۔

 گزشتہ چند ماہ میں دو طرفہ کشیدگی اور گرما گرمی میں قدرے اضافہ ہواہے۔ گزشتہ ماہ چین کمیونسٹ پارٹی کی صدسالہ تقریب سےطویل خطاب کرتے ہوئے چینی صدر شی جن پنگ نے کہا کہ چین کسی کی ڈکٹیشن برداشت نہیں کرے گا ،اگر کسی نے چین کو میلی آنکھ سے دیکھا تو ہم اس کی آنکھیں پھوڑ دیں گے۔ 

چینی صدر کے لہجے سےغصہ نمایاں تھا، انہوں نے سب کو خبردار کردیا کہ چین نکتہ چینی یا ہدایات کرنے والوں کو برداشت نہیں کرے گاجبکہ امریکی صدر نے حال ہی میں اپنے حلیف ممالک کے سربراہوں سے طویل ملاقات میںجاری کشیدہ حالات پر تبادلہ خیال کیا۔ اس اہم ملاقات میں خاص طور پر چین کے رویہ اور چینی صدر کی مذکورہ تقریرکےحوالے سےبھی گفتگو ہوئی۔ امریکی صدر جوبائیڈن کی جنرل اسمبلی کی تقریر اور حلیف ممالک کے اجلاس سے خطاب ان کا لہجہ سنجیدہ تھا۔ وہ صورتحال کو سنجیدگی سے لےرہے ہیں۔

امریکا کے سینئر سفارت کار وینڈی شرمین نے حال ہی میں چین کے وزیر خارجہ سے ملاقات کی ہے، اس اہم ملاقات میں دونوں بڑی طاقتوں کے مابین بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ دوسری جانب امریکی وزیرخارجہ انتھونی بیلنگن نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا کسی طور اپنی سلامتی اور معیشت پر حرف آنے نہیں دے گا، کوئی طاقت امریکا کو دھمکا نہیں سکتی۔ 

حال ہی میں امریکا، برطانیہ اور آسٹریلیا نے سہ فریقی اتحاد قائم کیا ہےجس میں امریکا نے آسٹریلیا کو جدید ایٹمی آبدوز بھی دی ہے، جس پر چین نے سخت احتجاج کیا اور اس حوالے سے آسٹریلیا کو بڑی دھمکی دی ہےکہ اس سے بحرالکاہل میں جوہری ہتھیاروں کے فروغ کاخطرہ فروغ پاسکتا ہے۔ حالیہ کوواڈ کی میٹنگ میں آسٹریلیا اور جاپان نے بحرالکاہل میں واقع چھوٹے جزیروں کی سلامتی کو یقینی بنانے پر زور دیا اس پر بھی چین نے احتجاج کیا ہے۔ 

چین کاموقف ہے کہ مغربی ممالک محض پروپیگنڈے کے ذریعے دیگر ممالک کو خاص طورپرچھوٹے ممالک کو چین سےخوف دلارہے ہیں، چین اس کی شدید مذمت کرتا ہے ،تاہم ہر دو جانب امریکا اورچین دونوں ہی ایک دوسرے کےخلاف پروپیگنڈہ کررہے ہیں ترش بیانات جاری کررہےہیں۔ بعض مبصرین کہتے ہیں دونوں بڑی طاقتوں کی زبانی دھمکیاں کہیں حقیقی تصادم میں تبدیل ہوگئیں تب کیا ہوگا؟ یہ ایک بہت بڑا سوال پوری دنیا کےسامنے کھڑا ہے۔دنیا جانتی ہے کہ امریکا اور چین کے پاس مہلک ہتھیاروں کا بہت بڑا ذخیرہ ہے۔ تصادم کی صورت میں اس کرہ ارض پر آٹھ ارب سے زائد انسانوں اور پوری انسانیت کا کیا بنے گا؟

ہتھیاروں کی تیاری اور تعداد کے بارے میں تفصیلی ڈیٹا تیارکرنے والا ادارہ ہرانڈ نے ایک رپورٹ میں امریکااورچین کے مابین جوہری ہتھیاروں، میزائلوں اور ہوائی، بحری طاقت کا میزانیہ شائع کیاہےجس کے مطابق امریکا کو چین پر بحری بیڑہ، ہوائی بیڑہ اور مختلف فوجی اڈوں کی فوقیت حاصل ہے۔ امریکا اپنے دفاع پر سالانہ 6؍ سو بلین ڈالر سےزائد خرچ کرتاہے جبکہ چین اپنے دفاع پر سالانہ 220؍ بلین ڈالر خرچ کرتا ہے۔ 

چین کی بری فوج جو پیپلز لبریشن آرمی کہلاتی ہے، دنیا کی سب سے بڑی فوج ہے جس میں بارہ لاکھ ریگولر فوجی اور دس لاکھ سےزائد رضاکار جو پیراملٹری فورس سمیت بیس لاکھ کے قریب چینی بری فوج ہے، امریکا کے پاس بری فوج نہیں ہے۔ امریکی میرینز، امریکی نیوی کے ذریعہ کام کرتے ہیں جبکہ امریکی فضائیہ بڑی ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ چین کو جنگ لڑنے کاخاص تجربہ نہیں ہے جبکہ امریکی میرینز عراق، شام سمیت ماضی کی جنگوں کا تجربہ رکھتے ہیں اس کے علاوہ امریکا کو چین پرکسی حد تک خفیہ اداروں کی معاونت میں بھی فوقیت حاصل ہے۔ امریکی سی آئی اے اور دیگر دفاعی ادارے فعال ہیں ، نیٹ ورک وسیع ہے۔ 

اس لحاظ سے دونوں بڑی طاقتیں لگ بھگ کم و بیش برابر ہی ہیں۔ بیسویں صدی میں قومی ریاستوں کا خوب چرچا رہا اس کے ساتھ یہ بھی واضح ہوا کہ ریاست کی سلامتی اور بقاکا زیادہ دارومدار معیشت اور معاشی استحکام سے وابستہ ہے۔ اس حوالے سےگزری صدی کی ایک بڑی مثال سامنے ہے کہ سابق سوویت یونین 1917ء میں وجود میں آئی اور باوجود جدید ہتھیاروں کے ذخیرہ سمیت 1990ء میں زوال پذیر ہوگئی ، کیونکہ سوویت یونین معاشی طور پر دیوالیہ ہوچکا تھا۔ 

حیرت انگیز حقیقت یہ ہے کہ سوویت یونین منتشر ہوا اور پندرہ ریاستیں اس سے علیحدہ ہوگئیں ۔ یہ پرامن انقلاب تھا جس میں ایک گولی نہیں چلی اور ایک فرد ہلاک نہیں ہوا۔ سابق سوویت یونین کی مثال کو ملحوظ نظر رکھتے ہوئے چین نے بھی نوے کی دہائی سےاپنی ریاستی پالیسی اور معیشت کے حوالے سے پالیسی میں تبدیلی کی۔ چین کی کمیونسٹ پارٹی نے نجی ملکیت، ملک میں بیرونی سرمایہ کاری اور مہم جوئی کے بجائے پرامن سیاست اور معیشت کے استحکام کو ترجیح دی اور چین اس پالیسی میں زیادہ کامیاب رہا اور مزید کامیابیاں حاصل کررہا ہے۔ اس کامیاب پالیسی کی وجہ سےچین ایک بڑی مستحکم معیشت بن کرابھرا۔ جدید قومی ریاست کا سارادارومدار معاشی استحکام پر محیط ہے اس ضمن میں اب چین پوری دنیا میں نمایاں اور مستحکم ریاست ہے۔

امریکا کا بیس برس بعد افغانستان سے اچانک انخلا کا فیصلہ ہر چند کہ سب کو چونکا دینے والا تھا،درحقیقت بحرالکاہل اور بحرہند میں ایک عرصے سے چین کی جاری حکمت عملی کو دیکھتے ہوئے امریکا نے بھی جو پالیسی اپنائی تھی کہ یورپ اور مشرق وسطیٰ سے کہیں زیادہ خطرہ بحرالکاہل میں جنوبی بحیرہ چین اور بحرہند میں چین کی بڑھتی ہوئی دفاعی سرگرمیوں سے ہے، یہ فیصلہ کیا کہ اب افغانستان نہیں بلکہ جنوبی بحیرہ چین میں واقع چین دفاعی بحری، بری اور ہوائی قوت سمیت ملا کا اشیرت، خلیج اور بحرہند میں، بعض افریقی ممالک میں چین عسکری اڈّوں پر نظر رکھنا ہے۔ 

بحرہند میں سری لنکا، مالدیپ، جبوتی، بنگلہ دیش کی بندرگاہیں چین کے دفاعی علاقائی مراکز ہیں امریکا ان سب کو فوکس کرنے اور بحرالکاہل میں خاص توجہ مرکوز کرنے کے لئے افغانستان سے نکل آیا۔ واضح رہے کہ بڑی قوتوں کی لغت میں عزت، بے عزتی اور دوسرے ان کے بارے میں کیا سوچ رہے ہیں اس کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی۔ بڑی طاقتیں اپنے اہداف اور اپنے مفادات پر نظر رکھتی ہیں، ان کے نزدیک یہ عزیز ہیں۔ 

امریکی صدر جوبائیڈن نے سہ فریقی ممالک کا اتحاد بنایا ہے جس میں امریکہ، برطانیہ اور آسٹریلیا شامل ہیں۔ اس کے علاوہ گزشتہ سال امریکا نے سکووٹو کی داغ بل ڈالی تھی جس میں چار ممالک امریکہ، جاپان، آسٹریلیا اور بھارت شامل ہیں۔ یہ دونوں اتحاد دراصل چین کا راستہ روکنے، اس کے راستے میں رکاوٹیں ڈالنے کے لئے ہیں۔ 

سوال یہ ہے کہ امریکا بڑی سپر پاور ہے اس کو چین کے مقابلے میں اپنے حمایتی بڑھانے کی کیا ضرورت آن پڑی ہے۔ اس سوال کا یہ جواب سامنے آتا ہے کہ اب چین تیس سال یا چالیس سال پرانا چین نہیں، گزشتہ تیس برسوں میں چین نے نہ صرف تجارت صنعت، معیشت اور معاشرتی طور پر ترقی کی ہے بلکہ دفاعی لحاظ سے بھی چین ایک طرح سے امریکا کے قریب آن کھڑا ہواہے، جیسا کہ بالائی سطور میں عرض کیا کہ چین نے مستقبل قریب میں لڑی جانے والی جنگ کے متوقع نقشے کو سامنے رکھتے ہوئے اپنی دفاعی صلاحیتوں میں اضافے کا سلسلہ شروع کیا ہے اس کے مطابق آئندہ میدان جنگ بحرالکاہل اور بحرہند ہوگا۔ 

اس حوالے سے چین نے اپنی بحری طاقت میں نمایاں اضافہ کیا ہے اور اس وقت چوتھا طیارہ بردار جہاز تعمیر کررہا ہے،جبکہ ایسے ہی نقشے کو مدنظر رکھتے ہوئے امریکا نے اپنے تین بحری بیٹے جنوبی بحیرہ چین میں کھڑے کر رکھے ہیں، حال ہی میں برطانیہ نے بھی اپنا طیارہ بردار جہاز جنوبی بحیرہ چین میں امریکی جہازوں کے ساتھ کھڑا کر دیا ہے، جبکہ امریکا نے چند روز قبل آسٹریلیا کو جوہری توانائی سے چلنے والی جدید آبدوز دیدی ہے جس پر چین سراپا احتجاج ہے۔ 

تاہم اس آبدوز کے بعد فرانس سے جو جدید ہتھیاروں کا سودا ہورہا تھا اس کو منسوخ کر دیا ہے۔ فرانس چالیس ارب سے زائد سودے کی منسوخی کی وجہ سے آسٹریلیا سے شدید ناراض ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ بھارت نے بھی اپنے کچھ بحری جہاز جنوبی بحیرہ چین کو بھجوا دیئے ہیں جو امریکی بحری بیڑہ میں شامل ہوں گے۔ اس طرح امریکہ، بحرالکاہل اور بحر ہند میں اپنی دفاعی قوت میں بتدریج اضافہ کر رہا ہے۔

دلچسپ صورت حال یہ ہے کہ چین بھی خاموش نہیں بیٹھا ہے۔ اس نے امریکا کو براہ راست تھریٹ دینے کےلئے امریکا کے ساحلوں کے قریب کیویا اور جزائر غرب الہند میں اپنے فوجی اڈے تعمیر کرنا شروع کر دیئے،ا پنے سرمایہ اور ارزاں تجارتی سامان کے بل بوتے پر چھوٹے ممالک سے معاہدہ کرتا جارہا ہے اور براہ راست امریکا کا راستہ روکنے کے لئے افریقہ اور جنوبی امریکا سرگرم عمل ہے۔ دوسرے لفظوں میں کہا جاسکتا ہے کہ دونوں طرف سے میدان گرم ہوتا محسوس ہوتا ہے۔ دونوں بڑی طاقتوں میں شکوک و شبہات بڑھ رہے ہیں۔

اس تناظر میں دنیا دو بلاکس میں تقسیم ہوتی دکھائی دیتی ہے ۔اگر واقعی ایسا ہوتا ہے تو کیا صورت حال ہوگی۔ اس دھڑے بندی میں کون کس کے ساتھ ہوگا۔ ظاہر ہے کہ چین کے بلاک میں شمالی کوریا لازمی کھڑا ہوگا۔ چند افریقی اور جنوبی امریکی ممالک چین کے بلاک میں جاسکتے ہیں، جبکہ امریکی بلاک میں نیٹو ممالک، برطانیہ، جاپان، آسٹریلیا اور بھارت کی شمولیت ہوسکتی ہے۔ دونوں طاقتوں کے مابین تصادم میں کس کا پلہ بھاری ہوسکتا ہے۔ یہ سوال بھی عالمی میڈیا میں گردش کر رہا ہے۔ 

اگر باریک بینی سے عالمی صورتحال اور اس میں چین کے فعال کردار پر نظر ڈالیں تو یہ پتا چلتاہے کہ کئی دہائیوں تک سخت حالات اور مشکلات سے گزر کر چین نے جو کامیابیاں حاصل کی ہیں اور پھر دو دہائیوں میں اس نے اپنے سرمائے اور پالیسی سازی کے ذریعہ بحرالکاہل اور بحرہند میں اپنے تجارتی پارٹنر جمع کئے ہیں یہ چین کا پلس پوائنٹ ہے۔ چین نے امریکا کو تجارتی جنگ کی دھمکی، آسٹریلیا کو میزائل حملے کی دھمکی، بھارت کو لداخ اور بوکلام میں حیران پریشان کرنا، یہ چین کا اعتماد اور طاقت کا گھمنڈ نہیں تو اور کیا ہے۔

بیشتر سینئر ڈیفنس تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ اگر بالفرض امریکا اور چین کسی بڑے تصادم میں چلے جاتے ہیں تو چین کا پلہ قدرے بھاری نظر آتا ہے، کیونکہ یہ طے ہے کہ آئندہ میدان جنگ یورپ یا مشرق وسطیٰ نہیں ہوگا بلکہ بحرالکاہل اور بحرہند ہوگا۔ ایسے میں دونوں بحر کے قریب چین ہے، امریکا بہت دور ہے ۔ایسے میں یہاں چین کو امریکا پر ایک پوائنٹ مزید مل جاتا ہے کیونکہ یہی وہ خطہ ہے جس پر چین حاوی ہونا چاہتا ہے جہاں ساٹھ فیصد عالمی تجارت ہوتی ہے۔ 

اس خطے میں آسیان ممالک اور بھارت واقع ہیں اور یہ خطہ تیزی سے ترقی کررہا ہے۔یہاں کی آبی گزر گاہیں جیسے ملاکا اسٹریٹ، خلیج، نہر سوتیزکا کی گزرگاہ بہت اہم ہیں جس کو چین بہر طور اپنے اثر میں رکھنا چاہتا ہے، جبکہ امریکا نے بھی یورپ زون اور مشرق وسطیٰ سے اپنی نظریں ہٹا کر بحرالکاہل بحرہند زون پر فوکس کر دی ہیں۔

سابق صدر باراک اوباما نے اپنے عہد میں چین کا راستہ روکنے کے لئے جو پالیسی اپنائی تھی وہ موثر ثابت نہیں ہوئی۔ بعدازاں سابق صدر ٹرمپ نے امریکا اور چین کے مابین ہونے والی تجارت میں امریکا خسارے کا سوال بھرپور انداز میں اٹھایا تھا کہ امریکی تجارت اور صنعتی اداروں کی ناعاقبت اندیشی کا چین بھرپور فائدہ اٹھا رہا ہے اور اب صدر جوبائیڈن کہتے ہیں ہم صدر ٹرمپ کے دور کی پالیسی کی ہی تقلید کر رہے ہیں۔ 

امریکا نے تجارت میں ہی غلطیاں نہیں کیں بلکہ وہ چین کی پالیسیوں کو غالباً سمجھ ہی نہیں سکا کہ بحریہ جنوبی چین میں مصنوعی جزیروں کی تعمیر، ہوائی اڈوں اور نئی بندر گاہوں کی تعمیر کا کیا مقصد ہے۔ اس خطے میں مصنوعی جزیزوں کی کامیاب تعمیر چین کا ایک اور پلس پوائنٹ ہے۔ افریقی ملک جبوتی میں چین کا اہم دفاعی مرکز قائم ہے، اس کے علاوہ سری لنکا، پاکستان، بنگلہ دیش اور میانمار میں جدید بندرگاہوں کی تعمیر بھی چین کی کارکردگی کا مظہر ہے۔ پاکستان میں سی پیک پروجیکٹ چین کے لئے پاکستان سے زیادہ اہم ہے۔ واشنگٹن پوسٹ نے انکشاف کیا ہے کہ تاجکستان میں چین کا اہم فوجی اڈہ ہے جو فعال ہے۔

ان تمام حوالوں اور زمینی حقائق کے سبب امریکا اور اس کے حواریوں کی پریشانی بالکل بجا ہے۔ چین کے پاس دو اہم ترین مواقع ہیں جن کو وہ بہتر سے بہتر طور پر استعمال کررہا ہے ۔اوّل افرادی قوت اوردوم کثیر سرمایہ، ایسے میں ظاہر ہے چین کو روکنا شاید ممکن نہیں ہے، مزید یہ کہ اگر فرض کیا جائے کہ امریکا اور چین ہاٹ وار میں چلے جاتے ہیں تو چین کو یہ بھی سہولت ہے کہ امریکا کے جو دفاعی مراکز اس خطے میں ہے انہیں وہ باآسانی نشانہ بناکر ان اڈوں کو غیر فعال کرکے مزید ایک پلس پوائنٹ حاصل کرسکتا ہے۔ 

ان تمام حوالوں کومدنظر رکھتے ہوئے دفاعی تجزیہ نگار مستقبل میں امریکا چین ممکنہ جنگ اور امریکا کو چین کے مقابلے میں پسپا ہوتا دیکھتے ہیں بعض تجزیہ نگار ٹھوس انداز میں دعویٰ کرتے ہیں کہ آئندہ جب بھی ان قوتوں کے مابین تصادم ہوا تو چین سرخرو ہوگا۔ مگر بعض مغربی دفاعی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ چین کو امریکا کے سامنے کھڑا ہونے کے لئے وقت درکار ہے۔ امریکہ، امریکا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ امریکا دنیا سے پچیس سال آگے جبکہ ناسا افریقی خلائی تحقیقی ادارہ امریکا سے پچیس سال آگے ہے۔ 

اسکے علاوہ جو تجزیئےکاغذ میں کئے جارہے ہیں، یہ محض قیاس آرائیاں ہیں جبکہ دو بڑ ی طاقتوں کے مابین حقیقی تصادم کوئی بازیچہ اطفال نہیں بلکہ میدان جنگ میں آگ دھواں ، بارود اور لاشیں بچھی ہوتی ہیں۔ اس کا تجزیہ کاغذ پر نہیں بلکہ میدان طے کرتا ہے۔ جنگی حکمت عملی طے کرتی ہے کہ میدان کا رخ کیا ہے ، برتری کس کے حصے میں آئے گی۔ امریکا پچھتر برسوں میں تمام بڑی چھوٹی جنگوں میں بلاواسطہ یا براہ راست شریک رہا ہے۔ جبکہ اس عرصے میں چین نے جنگیں دیکھی ہیں لڑی نہیں ہیں۔ اس لئے کچھ کہنا یا فیصلہ صادر کرنا قبل از وقت ہوگا۔ 

دنیا کو دھڑوں میں تقسیم کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ بلاکس بنانے کی ضرورت نہیں۔ دنیا کے تمام ہوش مند انسانوں کی خواہش یہ ہوگی کہ کوئی تصادم نہ ہو، کوئی جنگ نہ ہو، کوئی میدان جنگ نہ سجے، کیونکہ آج دنیا کو جو حاصل ہے وہ صدیوں کی قربانیوں ، جدوجہد اور عمل مسلسل کا ثمر ہے، مگر بالفرض دو طاقتیں ٹکرا جاتی ہیں تو سوائے تباہی و بربادی بھوک افلاس آگ اور راکھ کے سوا اس دنیا میں کچھ نہیں ہوگا۔ 

یوں بھی جوہری ہتھیاروں، خوفناک میزائلوں اور تباہ کن کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے بعد اس کرہ ارض پر آباد انسانیت چرند پرند، نباتات اور جمادات سب راکھ کے ڈھیر میں تبدیل ہوسکتے ہیں۔ ایسے میں کون، فاتح، کس کی فتح، کس کی برتری نہ خوشیاں منانے والا کوئی ہوگا نہ ماتم کرنے والا کوئی ہوگا۔ سوائےراکھ دھوئیں موت کے کچھ نہیں ہوگا۔ اس لئے امن و سلامتی دنیا کے لئے ازحد ضروری ہے۔