• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وہ آلو کا کیک نہیں تھا،بلکہ چینی کے بسکٹ کا چورا اور کچھ ٹکڑے تھے۔

اب مجھے یاد آیا کہ رات کو جب میں اپنے بھانجوں ، کامی خرگوشاورمانی خرگوش کو سونے سے پہلے ’’ بیڈ ٹائم اسٹوری ‘‘ سنا رہا تھا ،تب وہ یہاں بیٹھ کر چینی کے بسکٹ کتر رہے تھے۔

میں تو کہانی سناتے سناتے سو گیا تھا ،پھر وہ شاید فرش صاف کیے بغیر بسکٹوں کاچورا وہیں چھوڑ کر سونے چلے گئے تھے۔

بسکٹ کا چورا دیکھ کرمیں سوچ میں پڑگیا ۔

زمین پر پاؤں رکھنے سے مجھے اپنے پیر وں میں شدید درد کی لہر دوڑتی ہوئی محسوس ہوئی تھی ۔میں سوچنے لگا کہ جب میرا پاؤں بسکٹ کے چورے پہ پڑا ہے تو ٹانگوں میں درد کی لہر کیوں دوڑی ۔؟پھرخیال آیا کہ یہ میرے جوڑوں کا دردتھا جو عین اسی وقت جاگا، جب میں نے بسکٹ کے چورے پہ پاؤں رکھا ۔میں جھنجھلاکر بڑ بڑاتے ہوئے بولا :

’’ بوڑھے بھالو کی بھی کیا زندگی ہو تی ہے ۔۔۔ گٹھیا کا درد جینے کی ساری خوشی غارت کردیتا ہے ۔۔۔‘‘

میں بڑ بڑاتے ہوئے آگے بڑھا، ۔بسکٹ کا چورا سمیٹ کر ایک طرف کیا اور کمرے میں اپنی نیلی ،سرخ اور سفید دھاریوں والی لاٹھی تلاش کرنے لگا ۔ذر اسی کوشش کے بعد مجھے اپنی لاٹھی بستر کے نیچے سے مل گئی ۔

لاٹھی کے سہارے چلتے ہوئے ، دھیرے دھیرے کانپتے ہوئے چل کر میں کھڑکی تک پہنچا ۔کھڑکی کے پٹ کھول کر باہر دیکھا ۔باہر سورج اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ روشن تھا۔ سورج کو ایک نظر دیکھ کر میں نے بڑ بڑاتے ہوئے کہا :

’’شکر ہے ۔۔۔ سورج موجود ہے ۔۔۔اب مجھے اپنے گٹھیا کے درد کے بارے میں سنجیدگی سے کچھ سوچنا ہو گا ۔۔۔‘‘

میں نے شیشے کے سامنے کھڑے ہوکر بہت احتیاط اور نفاست سے شیو بنائی اور منھ دھو کر شیشے میں دیکھتے ہوئے کہا:

’’ بھائی بھالو ۔۔۔بے احتیاطی کا وقت چلا گیا۔۔۔ چل کر ڈاکٹر چوہا سے ملنا چاہیے۔۔۔ اس سے مشورہ کرنا چاہیے ۔۔۔‘‘

جب کامی اور مانی خرگوش ناشتے کے بعد اسکول چلے گئے تو میں نے ’’ڈاکٹر چوہا‘‘ کو فون کیا ۔ان سے ملنے کے لیے وقت مانگا ۔

ڈاکٹر چوہا نے کہا:

’’ابھی آجا ؤخالو بھالو۔۔۔ میں تو کلینک پہ فارغ بیٹھا ہوں ۔۔۔‘‘

میں فورا ڈاکٹر چوہا سے ملنے چلا گیا ۔

ڈاکٹر چوہا، ایک جہاندیدہ اور تجربہ کار ڈاکٹر تھا۔ سوٹ بوٹ پہنے اپنے کلینک میں میز کے دوسری طرف بیٹھا تھا۔ اس نے میرے گھٹنوں اور ٹخنوں کا معائنہ کرنے کے بعد ،ناک کی نوک پر اپنی عینک درست کرتے ہوئے کہا:

’’ خالو بھالو ۔۔۔ آپ کا گٹھیا کا مرض تو بہت بڑھ گیا ہے۔۔۔با ت خطرے کے نشان سے بھی اوپر چلی گئی ہے ۔۔۔‘‘

میں نے اس کی دانش مندوں جیسی شکل دیکھتے ہوئے منہ بنا کرکہا:

’’ یہ بات تو میں یہاں آنے سے پہلے بھی جانتا تھا۔۔۔اسی لیے تو آپ کے پاس آیا ہوں ۔۔۔ آپ یہ بتائیں اس مرض سے نجات کے لیے مجھے کیا کرنا چاہیے ۔۔۔‘‘

ڈاکٹر چوہا نہایت دانش مندانہ انداز میں آنکھیں گھماتے ہوئے بولا:

’’ بات یہ ہے خالو بھالو۔۔۔ میرا تجربہ کہتا ہے کہ آپ کو آب وہوا کی تبدیلی کی ضرورت ہے۔‘‘

’’ آب و ہوا کی تبدیلی ۔۔۔؟‘‘

’’ ہاں ۔۔۔ گھر میں بیٹھے بیٹھے آپ کی ہڈیوں کو زنگ لگ گیا ہے ۔۔۔‘‘

’’ زنگ تو لوہے کو لگتا ہے ۔۔۔میری ہڈیاں لوہے کی ہیں کیا ۔۔۔؟‘‘

ڈاکٹر چوہا بدمزہ ہوئے بغیر بولا:

’’ ہڈیوں کو زنگ لگنا محاورہ ہے ۔۔۔میرا مطلب ہے آپ کو حرکت میں آنا ہوگا۔۔۔اس کے لیے آ پ کو سفر کرنا ہوگا۔۔۔ کسی لمبے سفر پر جائیں ۔۔۔گھر سے نکلیں اور عجیب و غریب پرندوں سے ملیں ، ۔۔۔دور دراز کے خوبصورت پھولوں کو سونگھیں ۔۔۔‘‘

میں سمجھ نہیں پایا کہ ڈاکٹر چوہا کیسی باتیں کر رہا ہے۔ اس نے میرا ،اُلجھا ہوا چہر ہ دیکھ کر کہا:

’’ بات یہ ہے خالو بھالو ۔۔۔ آپ بوڑھے ہوگئے ہیں ۔۔۔ہڈیاں کم زور ہو گئی ہیں ۔۔۔گھر میں پڑے رہتے ہیں ۔۔۔ ورزش بالکل نہیں کرتے ۔۔۔تو ظاہر ہے بڑھاپے کے امراض حملہ آور تو ہوں گے ہی نا ۔۔۔‘‘

میں نے ایک طویل سانس لے کر کہا:

’’ تو پھر ۔۔۔مجھے کیا کرنا چاہیے ۔۔۔؟‘‘

ڈاکٹر چوہا بولا:

’’ وہی تو بتا رہاہوں خالو بھالو ۔۔۔آپ کو آب و ہوا تبدیل کرنی ہو گی۔۔۔ایسا کریں ۔۔۔گھر سے نکلیں اور سفر پر روانہ ہوجائیں ۔۔۔‘‘’’ مگر میں کروں گا کیا سفر پہ نکل کر ۔۔۔کہاں جاؤں ۔۔کیوں جاؤں ۔۔۔؟‘‘

ڈاکٹر چوہا بولا:’’ عجیب بھالو ہو یار آپ بھی ۔۔۔لوگ سفر پر کیوں نکلتے ہیں۔۔۔ طبیعت میں بہتری کے لیے ۔۔۔اندر کا موسم بدلنے کے لیے ۔۔۔اپنی بے زاریت اور سستی دور کرنے کے لیے ۔۔۔آپ بھی نکلیں ۔۔۔جنگل میں دور تک جائیں ۔۔۔ عجیب عجیب خوب صورت پرندے دیکھیں،حسین پھولوں کا نظارہ کریں ۔۔۔‘‘

’’ مطلب ۔۔۔میں سمجھا نہیں ۔۔۔‘‘

ڈاکٹر چوہا جھنجھلا گیا :’’ ارے یار خالو بھالو ۔۔۔اس میں نہ سمجھنے والی کون سی بات ہے ۔۔۔بس آپ کو کسی سفر پر روانہ ہوناچاہیے ۔۔۔ لمبی سیر کے لیے کسی دوسرے مقام کی طرف نکل جائیں ۔۔۔ مختلف قسم کے پرندوں کو اُڑتے ہوئے دیکھیں ۔۔۔خوب صورت پھولوں اور مرغزاروں کا نظارہ کریں ۔۔۔کسی ایسی جگہ جائیں جہاں کا موسم یہاں سے مختلف ہو ۔۔۔ آپ نے ورزش وغیرہ بھی چھوڑ رکھی ہے ۔۔۔ جاگنگ بھی نہیں کرتے ۔۔۔اس لیے طویل سفر پر جانا اس مرض کا بہترین علاج ہے ۔۔۔اس سے بہترین ورزش کوئی نہیں ۔۔۔‘‘

میں نے فورا کہا:’’ ورزش۔۔۔ وہ تو میں خوب کرتا ہوں ۔۔۔میری مثبت سوچ مجھے تروتازہ رکھتی ہے۔۔۔میں ہر روز دادا خرگوش کے ساتھ لیڈو بھی کھیلتا ہوں ۔۔۔ پھر کھانا کھانے کے بعد کچھ دیر گھر کے باہر چہل قدمی کرتا ہوں ۔۔۔‘‘

ڈاکٹر چوہا انکار میں سر ہلاتے ہوئے بولا:

’’نہیں بھئی ۔۔۔ یہ سب کافی نہیں ہے ۔۔۔تمہیں سفر کرنا ہوگا۔۔۔‘‘

’’ مگر کیوں ۔۔۔ ؟‘‘

’’ کیوں کہ سفر میں چلنا پھرنا پڑتا ہے ۔۔۔ جس سے چاق چوبند رہنے میں مدد ملتی ہے ۔۔۔مختلف چیزیں دیکھنی ہیں، مختلف لوگوں سے ملنا ہے ۔۔۔کہتے ہیں سفر وسیلہ ظفر ۔۔۔لوگوں کی قسمت بدل جاتی ہے سفر کرنے سے ۔۔۔ہمیں اپنی زندگی میں خوش گوار تبدیلی کے لیے چمتکار کی ضرورت ہوتی ہے۔۔۔یہ چمتکار سفر کرنے سے ملتاہے ۔۔۔ چوہوں کے عظیم دانش ور کہتے ہیں ۔۔۔سفر کرنے والوں کو کہیں نہ کہیں خوش نصیبی ضرور ملتی ہے۔۔۔ نصیب ڈھونڈنا ہے تو سفر پہ نکل جاؤ۔۔ ۔ممکن ہے نصیب مل جائے ۔۔۔بعض بیماریاں علاج سے نہیں، نصیب سے ختم ہوتی ہیں ۔۔۔ممکن ہے تمہارا نصیب چمک جائے ۔۔۔تمہیں اس بیماری سے نجات حاصل ہو جائے ۔۔۔‘‘

میں نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے کہا:

’’ٹھیک ہے ڈاکٹر چوہا ۔۔۔میں سمجھ گیا۔۔۔ میں فورا زاد سفر باندھ لیتا ہوں ۔۔۔ سفر پر روانہ ہوجاتا ہوں ۔۔۔دیکھتے ہیں اس سفر نے میری قسمت میں کیا لکھا ہے ۔۔۔ شاید اس سفر کی وجہ سے میں اپنے جوڑوں کے درد سے نجات حاصل کرنے میں کام یا ب ہو جاؤں ۔۔۔کوئی چمتکار مجھے بھی مل جائے ۔۔۔‘‘

اگلے ہی دن میں نے سفر کی تیاری مکمل کرلی۔سامان باندھ لیا ۔صاف ستھرے کپڑوں کو تہہ کر کے اپنے بیگ میں رکھ لیا۔ اپنے جھولے میں کھانے پینے کی بھی کچھ چیزیں رکھ لیں۔ راستے میں بھوک لگتی ،اور ارد گرد کچھ کھانے کو نہ ہوتا تو کیا کرتا۔

اس لیے کھانا ساتھ رکھنا ضروری تھا۔

میرا جھولا ،میری سب سے بہترین چیز تھی ۔مانی خرگوش اور کامی خرگوش میرے اس جھولے کو’’ خالو بھالو کی زنبیل‘‘ کہتے تھے ۔

مانی خرگوش اورکامی خرگوش خاموشی سے مجھے تیاریاں کرتے ہوئے دیکھ رہے تھے۔ وہ میرے جانے کا سن کر اداس ہو گئے تھے ۔انہوں نے بھی کچھ چیزیں میرے جھولے میں ڈال دی تھیں ۔

کامی خرگوش بولا:’’ خالو بھالو ۔۔۔ ہمیں دُکھ ہے کہ آپ جا رہے ہیں ۔۔۔ لیکن ہم دعا کریں گے کہ جب آپ واپس آئیں تو بالکل ٹھیک ٹھاک اور بیماری سے نجات حاصل کرکے آئیں ۔۔۔‘‘

میں نے مسکراتے ہوئے کہا:

’’ شکریہ بچو ۔۔۔میں واپس آؤں گا تو بالکل نو جوان ہو جاؤں گا ۔۔۔پھر تمہارے ساتھ خوب کھیلا کروں گا ۔۔۔بھاگوں گا ،دوڑوں گا ۔۔۔قلابازیاں کھایا کروں گا۔۔۔‘‘

میرے جانے کا وقت ہو گیا تھا ۔میں نے مانی خرگوش ،کامی گوش ،اوران کی امی ببلی خرگوشن کے ماتھے پہ پیار کیا۔ بچوں کے ابوبنٹی خرگوش سے مصافحہ کیا ۔ان کو گلے لگایا ۔

اپنا جھولا کاندھے سے لادا۔ سامان کا بیگ اٹھایا اور اپنی لاٹھی ٹیکتے ہوئے گھر سے نکل کرایک ان جانے سفر پر روانہ ہو گیا ۔

میں نے گھر سے نکلتے ہی بغیر رُکے اپنے سفر کا آغاز کردیا۔ کہیں رُکے بغیر جنگل میں چلتا چلا گیا ۔ کئی پہاڑیاں عبور کیں ،کئی سڑکیں ناپیں ،گھنے جنگل سے گزرا ۔۔۔ندیاں پھلانگیں ،دریا پاٹے ۔۔۔ مگر رُکا نہیں ،چلتا رہا بس ،حتیٰ کہ سورج گرم سے گرم تر ہو تا چلا گیا۔ جسم پسینہ پسینہ ہو گیا۔ تب اچانک مجھے محسوس ہو ا کہ میرے جوڑوں میں درد کم ہو رہا ہے ۔میرا گٹھیا کا درد نہ ہونے کے برابر رہ گیاہے۔ڈاکٹر چوہا ٹھیک ہی کہتا تھا:

’’ یہ مرض چلنے سے کم ہو تا ہے۔۔۔ ،سفر کرنے سے ختم ہو جاتاہے ۔۔۔‘‘