• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آکسفورڈ پروگرام پاکستانی طلبہ، اساتذہ اور محققین کو وسیع مواقع فراہم کرے گا، سید بابرعلی

لندن(جنگ نیوز)آکسفورڈ پاکستان پروگرام کے تحت آکسفورڈ یونیورسٹی میں پاکستانی طلبا اور پاکستان سے متعلقہ تحقیق کو اجاگر کرنے کے لیے ایک بڑا قدم اٹھایا گیا۔ 30 ستمبر 2021 کو لندن میں پاکستانی ہائی کمیشن میں آکسفورڈ پاکستان پروگرام کے رسمی ٓآغاز کے لیے ایک بڑی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ آکسفورڈ پاکستان پروگرام(او پی پی) کے نام سے شروع ہونے والی اس کاوش کا مقصد یونیورسٹی آف آکسفورڈ میں پاکستان سے متعلقہ مختلف سرگرمیوں کو آگے بڑھانا ہے۔ ان سرگرمیوں میں مستحق طلبہ کے لیے وظائف کا اہتمام، پاکستان کےاساتذہ اور فیکلٹی ممبرز کے لیے وزیٹنگ فیلوشپ کی فراہمی اور پاکستان کے حوالے سے آکسفورڈ میں خصوصی لیکچرز کا اہتمام شامل ہے۔ یہ پروگرام آکسفورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر عدیل ملک، میٹیریلز سائنس کے لیکچرر ڈاکٹر طلحہ جے پیرزادہ اور معروف وکیل ہارون زمان کی تخلیق ہے۔ اس کاوش میں آکسفورڈ کے دو سابق طلبہ مناہل ثاقب اور ڈاکٹر محسن جاوید کا بھرپور تعاون شامل ہے۔ اس پروگرام کو آکسفورڈ یونیورسٹی، لندن میں پاکستانی ہائی کمیشن اور پاکستان میں برطانوی سفارتخانے کا بھرپور تعاون بھی حاصل ہے۔ او پی پی کے لیے پاکستان کے کاروباری افراد اور برطانیہ میں مقیم پاکستانیوں نے پانچ لاکھ پاؤنڈز فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ لندن میں پاکستانی ہائی کمیشن کے چانسری ہال میں منعقد ہونے والی ایک تقریب سے اس پروگرام کا رسمی آغاز کیا گیا۔ لاہور یونیورسٹی ٓآف مینیجمنٹ سائنسز (لمز) کے بانی اور پاکستان میں تعلیم کے شعبے میں گراں قدر خدمات سر انجام دینے والی مشہور و معروف شخصیت سیدبابر علی نے اپنے کلیدی خطاب میں اس قدم کو ایک تاریخی کاوش قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے پاکستانی طلبہ، اساتذہ اور محققین کے لیے بڑی پیمانے پر مواقع میسر آئیں گے۔ نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسف زئی آغاز سے ہی اس پروگرام کو سپورٹ کرتی رہی ہیں۔ انہوں نے اس پروگرام کے تحت ایک بڑے سکالرشپ پروگرام کا اعلان کیا جس کے ذریعے ہر سال پاکستان کے پسماندہ عالقے سے تعلق رکھنے والی ایک لڑکی کو آکسفورڈ یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے کا موقع مل سکے گا۔ آکسفورڈ سے تعلق رکھنے والے 21 پروفیسرز اور فیلوز اس موقع پر موجود تھے ،جن میں آکسفورڈ کالجز کے چار پرنسپل اور سربراہان شامل تھے۔ ان میں دی گارڈین اخبار کے سابق ایڈیٹر اور لیڈی مارگریٹ ہال کے رخصت ہونے والے پرنسپل ایلن رسبرجر، حالیہ پرنسپل پروفیسر کرسٹین جیرارڈ، لنیکر کالج کے پرنسپل ڈاکٹر نک براؤن، ولفسن کالج کے صدر سر ٹم ہچنز، آکسفورڈ یونیورسٹی کے انٹرنیشنل انگیجمنٹ آفس کے ڈائریکٹر ایڈ نیش اور آکسفورڈ یونیورسٹی میں انڈرگریجویٹ ایڈمشنز کی ڈائریکٹر سارا خان شامل تھے جبکہ رہوڈز ہاؤس کی وارڈن ایلزبتھ ِکس نے اس تقریب میں ورچوئل شرکت کی۔اپنی تقاریر میں یونیورسٹی کے سینئر ممبران نے اس کاوش کی بھرپور حمایت کی اور کہا کہ اس کے ذریعے نہ صرف آکسفورڈ یونیورسٹی جیسے ادارے میں پاکستان سے متعلقہ تعلیمی سرگرمیوں کو مدد ملے گی بلکہ کم نمائندگی رکھنے والے پسماندہ طبقات کو اس کے ذریعے یونیورسٹی کی تعلیمی اور تحقیقی وسائل تک رسائی میں سہولت فراہم ہو گی۔برطانیہ کے معروف سیاسی جریدے"پراسپیکٹ میگزین" کے ایڈیٹر ایلن رسبرجر نے اس پروگرام کو عملی شکل دینے پر ؐاوپی پی کی ٹیم اور ملالہ یوسفزئی کے جذبے کی دل کھول کرتعریف کی۔ یونیورسٹی کے سینئیر ممبران نے پاکستان اور آکسفورڈ کے تاریخی رشتوں کا ذکر کرتے ہوئے لیاقت علی خان، ذوالفقار علی بھٹو، بینظیر بھٹو اور موجودہ وزیراعظم عمران خان کا خصوصی تذکرہ کیا۔ آکسفورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر عدیل ملک نے اپنے خطاب میں اس امر کی طرف اشارہ کیا کہ پاکستان اور دیگر ترقی پزیر ممالک اپنے سیاسی اور معاشی فیصلوں کو بین الاقوامی طاقتوں کے اثرات سے ٓآزاد نہیں رکھ سکتے اور مزید کہا کہ پاکستان کو ابھی تک سیکیورٹی، شدت پسندی اور عسکریت پسندی کے محدود اور دھندلے چشمے سے دیکھا جاتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان وہ ملک ہے جہاں پر روز اول سے ہی اسلام اور سماجی انصاف جیسے موضوعات پر مباحث کا آغاز ہوا۔انہوں نے کہا کہ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں شہریوں کے حقوق اور سیاسی و معاشی اختیارات کی تقسیم کے حوالے سے اداراتی سطح پر متحرک جدوجہد ٓآج تک جاری ہے اور وہ پر امید ہیں کے پاکستان میں جمہوریت کے لیے کی جانے والی جدوجہد میں بہایا گیا خون ایک روشن مستقبل کی آبیاری کرے گا۔ انہوں نے پاکستان میں تیزی سے وسیع ہوتے ہوئے متوسط طبقے اور ٹیکنالوجی کے میدان میں دنیا کی توجہ حاصل کرتی سرمایہ کاری پر بھی روشنی ڈالی۔ پروفیسر عدیل ملک نے او پی پی کی ٹیم کے ساتھ نیشنل ساورنٹی اینڈ ڈیولپمنٹ کےعنوان سے ایک تحقیقی پروگرام کا بھی اعلان کیا جسے آکسفورڈ کے لنکن کالج سے تعلیم حاصل کرنے والے مولانا محمد علی جوہر کے نام سے منسوب کیا گیا ہے۔ اس موقع پر پاکستان کے پہلے نوبل انعام یافتہ ڈاکٹر عبدالسالم کے فرزند احمد سالم نے اس پروگرام کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اگر ان کے والد زندہ ہوتے تو وہ اس کے زبردست حامی ہوتے۔ تقریب کے دوران اسلام آباد میں تعینات برطانوی ہائی کمشنر ڈاکٹر کرسچن ٹرنر کا ریکارڈ کیا گیا پیغام بھی نشر کیا گیا جس میں انہوں نے آکسفورڈ پاکستان پروگرام کو برطانیہ اور پاکستان کے درمیان موجود تعلیمی رشتوں کومزید مضبوط کرنے کے حوالے سے ایک سنگ میل قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ برطانیہ میں مقیم 16 لاکھ پاکستانی دونوں ممالک کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کر رہے ہیں اور برطانیہ تعلیم کے میدان میں پاکستان کو مزید مدد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔ تقریب کے میزبان، برطانیہ میں تعینات پاکستانی ہائی کمشنر معظم احمد خان نے اپنے اختتامی خطاب میں کہا کہ یہ پروگرام مستحق پاکستانی طلبہ کے لیے نئے مواقع پیدا کرے گا۔ انہوں نے او پی پی کے لیے ہائی کمیشن کی جانب سے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ اس موقع پر کئی متمول پاکستانیوں نے پروگرام کے لیے مالی تعاون کی یقین دہائی کرائی، پاکستان میں ٹریٹ گروپ آف کمپنیز کے سی ای او سید شہریار علی نے اپنی مرحوم خالہ سید نیلوفر مہدی کے نام سے گریجویٹ سکالرشپ کا اعلان کیا جو پانچ سال تک جاری رہے گا۔ اسی طرح دادابائی گروپ کے ڈائرکڑ عبدالغنی دادابائی نے ہر سال ایک محمد اقبال لیکچر کو سپانسر کرنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے وزٹنگ سکالرز پروگرام کے لیے مالی امداد کا بھی اعلان کیا۔ اسماعیل گروپ آف انڈسٹریز کے ڈائریکٹر حامد اسماعیل نے پاکستان کی سرکاری یونیورسٹیوں سے ہر سال ایک فیکلٹی ممبر کے لیے آکسفورڈ یونیورسٹی آنے کے اخراجات کی ذمہ داری اٹھانے کا اعلان کیا۔ حکومت پاکستان کے ٹیکس محتسب کے ادارے کے سابقہ فیڈرل سیکرٹری احمد اویس پیرزادہ نے زمبابوے میں فرائض کی ادائیگی کے دوران انتقال کر جانے والے اپنے بھائی، ڈاکٹر احمد بلال شاہ کی یاد میں جمال سکالرشپ پروگرام کا اعلان کیا۔ لندن کے کرامویل ہسپتال کے کنسلٹنٹ فزیشن ڈاکٹر طارق زمان نے سالانہ گریجویٹ سکالرشپ کے لیے فنڈز کی فراہمی کا وعدہ کیا، اسی طرح اریب چوہدری نے پاکستان سے ایک طالبہ کو سپانسر کرنے کا اعلان کیا، آکسفورڈ بزنس کالج کے ڈائریکٹر سرور خواجہ نے پانچ سال کے لیے گریجویٹ سکالرشپ کے لیے فنڈز کی فراہمی کا وعدہ کیا۔ تقریب کے دوران لندن ہیج فنڈ ویسٹرج مارکیٹس کے شریک بانیان شامل ملک اور عمر سلیمان نے پاکستان پر ایک مححق کو فنڈ کرنے کا اعلان کیا۔ متعدد سینئر پروفیشنلز اور کاروباری افراد نے زوم کے ذریعے تقریب میں شرکت کی، ان میں سیکرٹری پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ حامد یعقوب، فیروزسنز لمیٹڈ کے سی ای او عثمان وحید، کمپٹیشن کمیشن آف پاکستان کی چئیرپرسن مسز راحت کونین حسن، سابقہ وفاقی سیکرٹری فائنانس آصف باجوہ اور امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر جلیل عباس جیلانی بھی شامل تھے۔ 

یورپ سے سے مزید