ادب پارے

August 03, 2022

مولانا عبدالمجید سالک

فیروز خان نون کی پہلی بیوی، بیگم نون کے نام سے موسوم تھیں۔ جب فیروز خان نون نے دوسری شادی کرلی تو ان کی ایک شناسا نے مولانا سالک سے بطور مشورہ پوچھا : ’’اب دوسری بیوی کو کیا کہا جائے گا؟‘‘

مولانا نے بے ساختہ جواب دیا: ’’افٹر نون۔‘‘

٭…٭…٭

ایک بار پانی کی قلت سے مولانا عبدالمجید سالک بہت پریشان تھے۔ پطرس بخاری کو جب ان کی پریشانی کا علم ہوا تو وہ پانی کی کئی بالٹیاں کار میں رکھ کر مولانا کی کوٹھی پر لے گئے اور مولانا سے کہنے لگے: ’’دیکھئے حضور! آپ کو پانی پانی کرنے کے لیے حاضر ہوگیا ہوں۔‘‘

سالک صاحب نے فوراً جواب دیا: ’’پطرس صاحب، آپ تو کیا، یہاں بڑے بڑے پانی بھرتے نظر آتے ہیں۔‘‘

٭…٭…٭

سالک صاحب نے بڑی نکتہ رس طبیعت پائی تھی۔ ایک بار پنڈت ہری چند اختر سے فرمانے لگے… پنڈت جی آپ کا نام کیا ہوا، مسلم لیگ کا جھنڈا ہوگیا۔ پنڈت جی پوچھنے ہی والے تھے کہ سالک صاحب نے سلسلۂ کلام جاری رکھتے ہوئے وضاحت کی، ’’دیکھیے نا، یہ جھنڈے کا رنگ ہے سبز یعنی ’’ہری‘‘ اور اس پر چاند اور تارے کا نام یعنی ہری چند اختر۔

٭…٭…٭

سالک صاحب، ہندو پاک مشاعرے میں شرکت کے لیے دہلی آئے ہوئے تھے۔ موتی محل ہوٹل میں قیام تھا۔ احباب میں گھرے بیٹھے تھے کہ ایک صاحبِ ذوق نے اپنے یہاں کھانے پر تشریف لانے کی درخواست کی۔ سالک صاحب نے عذر پیش کیا تو خوشتر گرامی نے کہا کہ مولانا ان کی دل شکنی نہ کیجئے دعوت قبول کر لیجیے۔ سالک صاحب نے اپنے روایتی تبسم کے ساتھ فرمایا: ’’مرغ وماہی کی اس دعوت کو قبول کرنے میں کوئی عذر نہیں، لیکن خطرہ یہ ہے کہ مرغ وماہی کے پیٹ میں مشاعرہ بھی چھپا ہوا ہے۔‘‘ ان کے اس جملہ پر محفل احباب قہقہہ زار بن گئی۔

٭…٭…٭

سالک صاحب روزنامہ ’’زمیندار‘‘ میں فکاہیہ کالم ’’افکار و حوداث‘‘ لکھا کرتے تھے۔ وہ ایک بار دہلی گئے تو خواجہ حسن نظامی سے ملنے کے لیے بستی نظام الدین بھی گئے۔ خواجہ صاحب بڑے تپاک سے پیش آئے اور درگاہ دکھانے کے لیے ان کو ساتھ لے کر چلے گئے۔ ایک معمولی سے مکان کی طرف اشارہ کر کے فرمایا: یہ ’’ایمان خانہ‘‘ ہے۔ سالک صاحب نے کہا: ’’اس پر کیا موقف ہے، اس نواح کے تو سبھی مکان ایمان خانے ہیں اور ہم جہاں سے اٹھ کر آئے ہیں کیا وہ ’’بے ایمان خانہ‘‘ ہے۔ خواجہ صاحب اس نکتہ سنجی پر خوب ہنسے اور فرمایا: آپ افکار لکھتے ہی نہیں، بولتے بھی ہیں۔

لارڈارون، ہندوستان کے وائسرائے مقرر ہوئے، ان کا دایاں ہاتھ جنگ میں کٹ چکا تھا۔ مختلف اخبارات نے اس تقرری پر مخالفانہ انداز میں لکھا، لیکن مولانا سالک نے ’’افکار و حوادث‘‘ میں جس طریقے سے لکھا وہ قابلِ تعریف ہے۔ لکھتے ہیں: ’’ہندوستان پر حکومت کرنا، ان کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔‘‘

٭…٭…٭

مولانا عبدالمجید سالک ہشاش و بشاش رہنے کے عادی تھے، جب تک دفتر میں رہتے، دفتر قہقہہ زار رہتا۔ اُن کی تحریروں میں بھی اُن کی طبیعت کی طرح شگفتگی تھی۔ جب لارڈویول ہندوستان کے وائسرے مقرر ہوئے تو سالک نے انوکھے ڈھنگ سے بتایا کہ وہ ایک آنکھ سے محروم ہیں، چنانچہ مولانا سالک نے انقلاب کے مزاحیہ کالم ’’افکار و حوادث‘‘ میں لکھا کہ لارڈویول کے وائسرائے مقرر ہونے کا یہ فائدہ ہے کہ وہ سب کو ایک آنکھ سے دیکھیں گے۔‘‘