ایوان صدر میں چیف نیازی ملاقات۔ حقائق اور نتائج

September 24, 2022

گزشتہ ڈیڑھ دو ماہ سے میری کوشش رہی کہ میں سیاست اور صحافت کا موضوع سیلاب زدگان کو بنائوں۔ اس مقصد کیلئے میں نے جیو تک کے خلاف ٹویٹ کئے لیکن بدقسمتی سے تمام سیاستدان بالعموم اور عمران خان بالخصوص سیلاب اور سیلاب زدگان کو نمبر ون ایشو بنانے نہیں دے رہے ہیں۔ بلکہ سوائے حامد میر صاحب کے ہمارے اہلِ صحافت کے لئے بھی وہ مسئلہ نمبرون نہیں بن رہا۔

ایوان صدر میں آرمی چیف اور عمران خان کی ملاقات، کیوں اور کیسے ہوئی اور اس کا کیا نتیجہ نکلا؟

ان سب سوالوں کا جواب اور متعلقہ معلومات کافی دنوں سے میرے سینے میں دفن تھیں تاہم اس وجہ سے میں اس طرف نہیں جارہا تھا کہ کہیں سیلاب زدگان پر توجہ نہ دینے کے جرم میں کہیں میں بھی شریک نہ ہوجائوں لیکن بدقسمتی سے عمران خان باز آرہے ہیں نہ ان کے ترجمان اور نہ ان کاحامی میڈیا۔

پہلے ایوان صدر میں اس خفیہ میٹنگ کی خبر لیک کی، پھر عمران نیازی نے اپنے رویے سے ایسا تاثر دیا کہ جیسے انہیں پھر اسٹیبلشمنٹ نےگود لے لیا۔ پھر ساتھ ایک اور جھوٹی خبر پھیلا دی کہ آرمی چیف ایک کورکمانڈر کی گاڑی میں جاکر ایک سیف ہاؤس میں عمران نیازی سے ملے ہیں۔

کچھ ریٹائرڈ فوجیوں کے ذریعے یہ جھوٹ بھی پھیلایا گیا کہ میٹنگ کی کوشش پی ٹی آئی نہیں بلکہ فوج کی طرف سے ہوئی۔

اب یہ سب کچھ کرنے کے بعد بھی جب نیازی صاحب کی خواہش پوری نہیں ہوئی تو انہوں نے دوبارہ یوٹرن لیا اور ڈی جی آئی ایس پی آر کا نام جلسوں میں لے کر فوج کو(عوام کے سامنے) آنکھیں دکھانے لگے۔ اس لئے آج میں بھی سیلاب سے صرف نظر کرکے اس حوالے سے حقائق سامنے لانے پر مجبور ہوا ہوں۔

حقیقت یہ ہے کہ حکومت سے نکالے جانے کے بعد شاید ہی کوئی روز ایسا گزرا ہو کہ جب نیازی صاحب یا ان کے کسی نمائندے نے کسی نہ کسی چینل سے آرمی چیف یا ڈی جی آئی ایس آئی کا منت ترلہ نہ کیا ہو۔

ان کا یہی مطالبہ رہا کہ وہ ماضی کی طرح انہیں گود لے کر موجودہ حکومت کو رخصت کرکے دوبارہ انتخابات کروادیں تو وہ سب کچھ کرنے کو تیار ہیں۔ ان رابطوں کے دوران انہوں نے جنرل قمرجاوید باجوہ کو گارنٹی کے ساتھ ایکسٹینشن کی آفر بھی کی لیکن وہ نیوٹرل رہنے پر اصرار کرتے ہوئے ملاقات سے انکار کرتے رہے۔ نہ چیف کے رشتہ داروں کو چھوڑا گیا ، نہ سابق فوجی افسران کو اور نہ ان کے ذاتی دوستوں کو ۔ نوبت یہاں تک آئی کہ افغانستان کے لئے امریکہ کے سابق نمائندے زلمے خلیل زاد سے بھی آرمی چیف کو درخواستیں کروائی گئیں کہ وہ عمران نیازی سے ایک ملاقات کرلیں۔

واضح رہے کہ امریکی نیوکانز کے رکن زلمے حکومت کی تبدیلی کے ایک ماہ بعد پاکستان آئے تھے اور نیازی صاحب سے خفیہ اور طویل ملاقات کی تھی۔ علاوہ ازیں پنجاب کے وزیراعلیٰ چوہدری پرویز الٰہی بھی دن رات منت ترلے میں لگے رہے جبکہ عارف علوی بھی ہمہ وقت اسی کام میں لگے رہے لیکن آرمی چیف پھر بھی ملنے کو تیار نہیں تھے۔ نوبت یہاں تک آئی کہ ایک دن اچانک عارف علوی آرمی چیف کے گھر جاپہنچے اور کافی دیر تک منت ترلہ کرکے انہیں اپنے گھر یعنی ایوان صدر میں اپنے لیڈر عمران نیازی سے ملاقات پر آمادہ کیا۔

چنانچہ نیازی صاحب سے شدید مایوس اور دکھی جنرل قمر جاوید باجوہ وزیراعظم شہباز شریف کو مطلع کرکے اس ملاقات کیلئے ایوان صدر گئے۔

حسبِ عادت عمران نیازی نے ان سے درخواست کی کہ وہ ایم کیوایم اور باپ پارٹی کو الگ کروا کر موجودہ حکومت ختم کردیں اور فوری انتخابات کروا لیں۔

جواب میں انہیں بتایا گیا کہ پہلے ہی پی ٹی آئی کے لئے غیرآئینی کردار ادا کرنے کی وجہ سے فوج بہت بدنام ہوئی ہے اور وہ دوبارہ یہ غلطی نہیں کرسکتی۔

ان کے سامنے اعدادوشمار رکھ کر بتایا گیا کہ اگر وہ اقتدار میں رہتے تو جون تک ملک ڈیفالٹ کرجاتا جبکہ امریکی سازش کے جھوٹے بیانیے سے بھی انہوں نے ملک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔

عمران نیازی اصرار اور عارف علوی وغیرہ بیچ بچاؤ یا منت ترلہ کرتے رہے تو جواب میں انہیں بتایا گیا کہ ان کی تمام احسان فراموشیوں اور فوج میں تقسیم کی کوشش کے باوجود فوجی قیادت ان کے ساتھ دشمنی نہیں چاہتی اور نہ یہ چاہتی ہے کہ ان کے ساتھ وہ سلوک ہو جو بھٹو یا نواز شریف وغیرہ کے ساتھ ہوا لیکن فوج انہیں فوری طور پر الیکشن نہیں دے سکتی۔

وجہ اس کی یہ بتائی گئی کہ موجودہ سیٹ اپ نے آئی ایم ایف سے ڈیل کرکے وقتی طور پر ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچالیا ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ معاشی استحکام آگیا ہے۔ اب بھی ڈالر اور مہنگائی کنٹرول میں نہیں آرہے ہیں۔ روزانہ فوج اور حکومت کوششیں کرکے چند ارب کا انتظام کرتی اور ملکی انتظام چلاتی ہے جبکہ اوپر سے سیلاب نے کسر پوری کردی ۔ تاہم اگر اتحادی جماعتوں کا آپس میں کوئی مسئلہ آجاتا ہے اور حکومت خود ٹوٹ جاتی ہے یا پھر اگر معاشی استحکام کے بعد متفقہ طور پر سیاسی جماعتیں قبل ازوقت انتخابات کراتی ہیں تو فوج نہ رکاوٹ بنے گی اور نہ مداخلت کرے گی۔

انہیں یہ بھی کہا گیا کہ اس وقت بھی دو صوبوں اور گلگت بلتستان میں ان کی حکومت ہے اور مشورہ دیا گیا کہ بہتر ہوگا کہ وہ پارلیمنٹ میں دوبارہ جائیں اور مفاہمت کے ذریعے ملک کو معاشی بحران سے نکالنے اور نئے انتخابات کا راستہ نکالیں۔ وہ اگر پاپولر ہورہے ہیں تو فوج ان کا راستہ نہیں روکے گی اور اگر وہ اگلے انتخابات جیتتے ہیں تو آرام سے جیت لیں۔ فوج اسی طرح لاتعلق رہے گی جس طرح پنجاب کے ضمنی انتخابات میں لاتعلق رہی۔

یوں یہ میٹنگ بغیر کسی نتیجے کے ختم ہوئی۔ شاید اس کے بعد بھی تناؤ میں کمی آتی لیکن عمران خان نے پہلے اس میٹنگ کی خبر کو لیک کرایا۔ پھر اس کے بارے میں یہ جھوٹا تاثر دیا کہ جیسے یہ میٹنگ فوج کی خواہش یا مجبوری تھی ۔ پھر کچھ عرصہ چالاکی کا مظاہرہ کرکے یہ جھوٹا تاثر دیا کہ فوج کے ساتھ ان کی پھر ڈیل ہوگئی ہے۔ اس سے انہوں نے حکومت اور فوج کو آپس میں بدگمان کرنے کی کوشش کی۔

پھر جنرل فیض حمید کے ذریعے ایک اور خفیہ میٹنگ کی جھوٹی خبر پھیلا دی اور ظاہر ہے ان خبروں سے تمام ادارے متاثر ہوتے رہے لیکن جب انہیں احساس ہوا کہ نومبر سے پہلے کسی صورت نئے انتخابات نہیں ہوسکتے اور کسی بھی صورت ان کے ہاتھوں ان کے پسند کے نئے آرمی چیف کی تقرری کی خواہش پوری نہیں ہوسکتی تو وہ دوبارہ بلیک میلنگ پر اتر آئے۔

پہلے کورکمیٹی میں اپنے ان لوگوں کو کھری کھری سنائیں جو اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ رابطے میں تھے اور ان پر پابندی لگائی کہ وہ آئندہ کوئی بات نہیں کریں گے۔ حالانکہ ان میں پرویز خٹک جیسوں کو بھی سننا پڑیں جو خود عمران خان کے نمائندے کے طور پر جاتے تھے۔

پھر چکوال کے جلسے میں ایک بار پھر شیر نظر آنے کی کوشش کی اور فوج اور آئی ایس آئی کو خوب سنائیں۔

اگرچہ اب کی بار آئی ایس پی آر کی طرف سے ان کی دھمکیوں پر کوئی ردعمل نہیں آیا لیکن میری معلومات کے مطابق فوج کی صفوں میں غصے کی جو لہر اب دوڑ گئی ہے، پہلے کبھی نہیں تھی۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ آگے فوج کیا ردعمل ظاہر کرتی ہے اور عمران خان مزید اس سلسلے کو کہاں تک لے جاتے ہیں۔