نیلم منیر... رانگ نمبر نہیں، رائٹ نمبر ہے

June 30, 2019
 

کسی بھی فلم کا اسکرپٹ جاندار اور اس کی کاسٹ شاندا ر ہوتو اسے ہٹ ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ ایساہی جیو فلمز کی پیش کش ’’رانگ نمبر 2‘‘ کے ساتھ ہوا ہے، جس میں اداکارہ نیلم منیر انگوٹھی میں’’ نیلم‘‘ کی طرح فٹ نظر آئیں۔ نیلم اس فلم کی کامیابی پر بہت خوش ہیں اور بقول نیلم اس فلم نے ان کے مستقبل کی سمت کا تعین کردیاہے اور وہ مزید اچھے کرداروں والی فلمیں کرنے کی خواہش رکھتی ہیں۔ نیلم کا کہنا ہے کہ اگر معیاری اسکرپٹ کو معیار بنا کر فلمیں بنائیجائیں تو انڈسٹری کو عروج پر پہنچنے سے کوئی نہیںروک سکتا۔

فلم اور ڈرامہ انڈسٹری میںجو آپ کو اپنی اداکاری سے رُلادے ، اسے اداکارہ تسلیم کرلیا جاتا ہے اور نیلم منیر اپنی اداکاری سے دوسروںکو متاثر کرنے میںکامیاب رہی ہیں۔ ایسے میں یہ برملا کہا جاسکتاہے کہ انڈسٹری کو ایک اور باصلاحیت اداکارہ مل گئی ہے جسے آپ آنکھ بند کرکے اپنی فلم میںکاسٹ کرسکتے ہیں لیکن اس کیلئے جاندار اسکرپٹ کو یقینی بنانا ہوگا۔

’رانگ نمبر 2‘ کا اسکرپٹ جب نیلم کو ملا تو انھیں اپنےکردار میں اداکاری کا بہت اسکوپ نظر آیا، کیونکہ یہ فلم کامیڈی، رومانس ، ڈانس اور جذبات سے بھر پور تھی ۔اس فلم میںنیلم کو اپنے خوابوںکی تعبیر چاہئے تھی اور فلم ایک رانگ نمبر پر ختم ہو جاتی ہے۔

نیلم منیر اس سے قبل سمیعخان کے ساتھ بھی ڈراموں میں کام کرچکی ہیں اور فلم میں بھی ان کی کیمسٹری خوب نظرآئی اور اس فلم کے مستی اور مسالہ اسکرپٹمیں فلم بینوں کو لطف آیا، خاص طور پر دونوں کا مہند ی اور ڈانس والا گیت فلم بینوں کو بہت پسند آیا۔ اگرچہ کہ یہ کوئی آئٹم سونگ نہیں تھا ، لیکن نیلم کے ڈانس نے اسے اسپیشل بنادیا۔ اس فلم میں نیلم اپنی پرفارمنس سے بہت خوش ہیں اور فلم کی کامیابی نے ان کی خوشی کو دو چند کردیا ہے۔

رانگ نمبر ون میں نیلم منیر نہیںتھیں،لیکن ایک کامیاب فلم کے سیکیول میں کام کرنے کا پریشر نیلم نے نہیں لیا۔ نیلم کا اس بابت کہنا ہے کہ بحیثیت ایک اداکارہ ان کا کام پرفارم کرنا ہے ۔ اس سے فرق نہیں پڑتا کہ فلم کا نمبر کیا ہے۔ وہ ایک فلم کے لیے اسی وقت ’ہاں‘کرتی ہیں جب فلم کا اسکرپٹ جاندار اور کردار مضبوط ہو ۔

نیلم اس سے قبل فلم ’’چھپن چھپائی‘‘ میںکام کرچکی ہیں اوران کی آنے والی فلم کا نام ’’کاف کنگنا‘‘ ہے ۔

فلم اور ڈرامہ، دونوں میڈیم میں بیک وقت کام کرنے اور کسی ایک میڈیم کو ترجیح دینے سے متعلق نیلم منیر کا کہنا ہے کہ، ’’پہلی بات تو یہ ہے کہ دونو ںمیڈیم مختلف ہیں ۔ میں تھیٹر، ٹی وی اور فلم کیلئے دستیاب ہوں ،لیکن شرط یہ ہے کہ اسکرپٹ اچھا ہو۔ ہمارے ملک میںڈرامہ انڈسٹری مستحکم ہے اور ڈرامہ زیادہ دیکھا جاتاہے اس لیے یہاںپہچان بنانا قدرے آسان ہے ، جہاں تک فلم کا تعلق ہے ، ہم وقت کے ساتھ بہتر ہوتے جارہے ہیں اور مجھے یقین ہے کہ 2019 ء پاکستان فلم انڈسٹری کیلئے بہتر سال ثابت ہوگا‘‘۔

بالی ووڈ کیلئے ہاں یا ناں میں سے نیلم ’’ناں ‘‘ کا انتخاب کرتے ہوئے کہتی ہیں، ’’مجھے اپنے وطن میںاور یہاں کے پرستاروں سے ہمیشہ بہت پیار ملا ہے، لہٰذا مجھے کبھی پڑوسی ملک جا کر کام کرنے کی خواہش محسوس نہیںہوئی۔ میںپاکستان میں پیدا ہوئی اور ہمیشہ یہیں رہنا چاہتی ہوں اور کہیں جانے کا سوچ بھی نہیںسکتی۔ مجھے اپنے پاکستانی ہونے پر فخر ہے ‘‘۔

اس حوالے سے نیلم منیرنے مزیدلب کشائی کی ،’’ ٹی وی اور فلم کے میڈیم میں کام کرنے والے اداکاروں کو تقسیم کرنے کے بجائے صرف پاکستانی سمجھا جائے تو یہ زیادہ بہتر ہوگا۔ ٹی وی کے فنکاروںنے فلم انڈسٹری کو اپنی عمدہ اور شاندار پرفارمنس سے ہمیشہ مقبولیت دلوائی ہے۔ اس وقت بھی ٹی وی فنکا رعمدہ پرفارم کررہے ہیں۔ میری پہچان چونکہ ٹی وی ہے اس لئے فلموں کے ساتھ ساتھ ڈراموں میں بھی اداکاری کا سلسلہ جاری رکھوںگی۔ پاکستان فلم انڈسٹری کے اچھے دن شروع ہوچکے ہیں۔ وہ فنکار جویکسانیت اور ایک جیسے موضوعات پر بننے والی فلموںسے مایوس ہو کر دور چلے گئے تھے وہ واپس لوٹنے لگے ہیں‘‘۔

اداکارہ وماڈل نیلم منیر خان 20 مارچ 1992 کو کراچی میں پیدا ہوئیں۔ اسی شہر میں تعلیم حاصل کی۔ نیلم کو مطالعہ اور ڈرائیونگ کا شوق ہے۔اردو ، سندھی اور انگریزی روانی سے بولتی ہیں۔چائنیز فوڈ مرغوب غذا ہے۔کھیلوں میں باسکٹ بال اور کرکٹ پسندہیں ۔ فرصت کے لمحات میں پرانے ٹی ڈرامے اور پرانی فلمیں دیکھتی ہیںیا موسیقی سے دل بہلاتی ہیں۔ پسندیدہ اداکارائوں میں ثانیہ سعید اور بشریٰ انصاری کو سرفہرست رکھتی ہیں ، جبکہ اداکاروں میں فیصل قریشی، ہمایوںسعید اور عدنان صدیقی کی معترف ہیں۔

نیلم نے اپنے کیریئر کا آغاز پی ٹی وی کے ڈرامے ’’ تھوڑا سا آسمان‘‘ سے کیا۔ اس کے بعد 2011ء میں ابتدا ئی ڈراموں میں سے جیو کے ڈرامے ’’جل پری ‘‘ سے پہچان بنائی۔ اس کے علاوہ میری بہن مایا،(2011)، اشک (2012) میری صبح کا ستارہ (2013) ، کیوں ہے تُو(2014)، دلِ عشق (2015) ، کیسے ہوئے بے نام (2015)، بوجھ (2015)، تیرے بنا (2017)، اُمّ ِ ہانیہ (2018) میں اپنی اداکاری کے جوہر دکھا چکی ہیں۔