عظیم صوفی شاعر شاہ عبداللطیف بھٹائی

October 15, 2019
 

برصغیر کے عظیم صوفی شاعر شاہ عبداللطیف بھٹائی کے 276ویں عرس کی سہ روزہ تقریبات کا آغاز 14اکتوبر کو گورنر سندھ عمران اسماعیل نے مزار پر پھولوں کی چادر چڑھا کر کیا۔ اس موقع پر سندھ بھر میں عام تعطیل تھی اورزائرین ،عرس کی سہ روزہ تقریبات میں شرکت کے لیےبڑی تعداد میں دور دراز کے علاقوں سے بھٹ شاہ پہنچے ۔

شاہ لطیف کا مزار اقدس کراچی سےتقریباً دوسو کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے جہاں ان کی زندگی میں شروع ہونے والی محفل سماع کا سلسلہ گزشتہ تین سو سال سےبلاناغہ ہر روز ہوتا ہے۔ ان کا عرس ہر سا ل 14 صفر المظفر کو منایا جاتا ہے۔ شاہ عبد اللطیف بھٹائی سندھ کے عظیم صوفی شاعر تھے، جنہوں نے اپنے منظوم کلام کے ذریعے اللہ اور اس کے رسول ؐکے پیغام کو عام کیا۔ان کی زندگی میں شروع ہونے والی محفل سماع کا سلسلہ گزشتہ تین سو سال سے ان کی درگاہ پر، بغیر کسی ناغے کے جاری ہے۔

ان کےشعری مجموعے ’’شاہ جو رسالو‘‘ نے دنیا بھر میں پذیرائی حاصل کی ہے

شاہ عبد اللطیف بھٹائی کی ولادت باسعادت 1689ءبمطابق ، 1101ھ میںمٹیاری ضلع کی تحصیل ہالا کی حویلی میں ہوئی۔ ان کے آباؤ اجداد سادات خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔جن کا سلسلۂ نسب آل رسول سے ملتاہے۔شاہ لطیف کے والد حبیب اﷲ، شاہ حبیب کے نام سے معروف تھے۔ان کے آباؤ اجد اد کا تعلق افغانستان کے صوبے ہرات سے تھا ۔اس خاندان کے ایک بزرگ سید حیدر شاہ سندھ آ گئے اور ہالا کے علاقے میں زمیندار شاہ محمد کے مہمان بنے۔ شاہ محمد نےان کی کچھ اس طرح خدمت کی کہ وقتی راہ و رسم، رشتہ داری میں بدل گئی۔

وہ سید حیدر شاہ کی شخصیت سے اتنا متاثر ہوا کہ کچھ دنوں بعد اس نے اپنی لڑکی فاطمہ کی شادی ان سے کردی۔ سید حیدرشاہ تین سال تک ہالا میں مقیم رہے پھر اپنے والد کی وفات کی خبر سن کر ہرات واپس چلے گئے۔ والد کے انتقال کے تین سال بعد ان کا بھی وصال ہوگیا۔ سید صاحب کی وفات کے بعد ان کی بیو ی نے ایک فرزند کو جنم دیا جس کا نام میر علی رکھا گیا۔ میر علی کی اولاد میں بڑے بڑے صاحب کمال بزرگ پیدا ہوئے، جن میں شاہ عبد اللطیف بھٹائی کے علاوہ، شاہ عبد الکریم بلڑی وارو، سیدہاشم اور سید جلال خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔

سید میر علی کے خانوادے سے سید حبیب اللہ تھے، جنہوں نے تین شادیاںکیں، لیکن اولاد کی نعمت سے محروم تھے۔اپنی محرومی کا تذکرہ انہوں نے اس دور کے کامل بزرگ عبداللطیف سے کیا اور ان سے دعا کی درخواست کی۔ انہوں نے حبیب اللہ کی عرض داشت سن کر دعا فرمائی اور انہیں تاکید کی کہ اللہ تعالیٰ تمہیں بہت جلد اولاد نرینہ عطا کرے گا، اس کا نام میرے نام پر عبداللطیف رکھنا، وہ اللہ کے حکم سے یگانہ روزگار ہوگا۔ کچھ عرصے بعد ان کی پہلی بیوی نے ایک بیٹے کو جنم دیا۔

شاہ حبیب نے اس کا نام مذکورہ بزرگ کی ہدایت کے مطابق عبداللطیف رکھا، لیکن اس کا بچپن میں ہی انتقال ہوگیا۔ چند سال بعد اسی زوجہ کے بطن سے دوسرے فرزند کی ولادت ہوئی۔ حبیب اللہ نے اس کا نام بھی عبداللطیف رکھا۔ ان کے یہ فرزند بزرگ کی پیش گوئی کے مطابق باکمال ثابت ہوئے اور ان کا شہرہ سارے عالم میںہوگیا۔

شاہ عبد اللطیف بھٹائی کی ولادت کے کچھ دنوں بعد ان کے والد اپنے آبائی گاؤں کو چھوڑ کر کوٹری میں رہنے لگے۔ پانچ سال کی عمر میںشاہ لطیف کو آخوند نور محمد کی درس گاہ میں تحصیل علم کے لیے بھیجا گیا۔ لیکن انہوں نے ’’الف ‘‘ سے آگے ’’ب‘‘ اور اس کے بعد کے الفاظ پڑھنے سے انکار کردیا ۔یہ صورت حال دیکھتے ہوئے ان کے اسناد اخوند نور محمد نے شاہ حبیب کو بلوایا۔

شاہ صاحب نے سارا احوال سن کر کہا کہ اس بچے کو اللہ کی وحدانیت کا ادراک ہے اس لیے یہ الف سے اللہ کے آگے کوئی لفظ پڑھنےکو تیار نہیں ہے۔ شاہ عبداللطیف کو سندھی زبان سے گہری انسیت تھی اور انہوں نے اس پر مکمل عبور حاصل کیا۔

وہ اپنے والد کی جانب سے ورثے میں ملی ہوئی روحانیت پر تو دسترس رکھتے تھے لیکن ایک خوش گوار حادثے کی وجہ سے وہ عشق مجازی میں گرفتار ہوکر تین سال تک صحراؤں اور جنگلوں کی خاک چھانتے رہے اور اسی عالم میں ٹھٹھہ جا پہنچے ۔وہاں ایک صوفی بزرگ محمد معین ٹھٹھوی سے ملاقات ہوئی ۔انہوں نےان کی روحانی تربیت کرتے ہوئے عشق مجازی سے عشق حقیقی کی راہ پر ڈالا ۔

انہوں نے شاہ صاحب کے دل میں عبادت الٰہی ،ریاضت کی لگن، اولیاء اللہ ے محبت ، والدین کی اطاعت، انسانیت کی خدمت کا جذبہ پیدا کیا ۔ اسی جذبے نےشاہ صاحب کو والد کی خدمت میں پیش کر دیا۔آپ اپنے والد سے ملے تو وہ بہت خوش ہوئے۔

ہالا میں شاہ لطیف کی روحانیت کے چرچےعام ہوگئے اور لوگ بڑی تعداد میں ان کے ارادت مندوں میں شامل ہونے لگے ۔ہالا واپس آنے کے بعد ان کا عقد اسی لڑکی سے ہواجس کے عشق نے انہیںٹھٹھہ کی خانقاہ تک پہنچا یا تھا۔شادی کے بعد شاہ عبداللطیف بھٹائی کے مریدین نے انہیں’’ تاج المخدورات‘‘ کا لقب دیا۔

رشتہ ازدواج میں بندھنے کے بعد شاہ لطیف نے ایک پرفضااور پرسکون مقام کو اپنی رہائش کے لیے منتخب کیا،جہاں بلند و بالا ٹیلے تھے ، سندھی زبان میں ’’بھٹ‘‘ ٹیلے کو کہتے ہیں، اسی لیے اس مقام کو بھٹ شاہ کا نام دیا گیا۔ شاہ صاحب کی محنت نے مٹی اور پتھر کے تودوں کو ایک خوب صورت بستی میں تبدیل کردیا۔ وہیں رہائش کے دوران انہوں نے سندھی زبان و ادب کو فروغ دیا۔ انہیں شاعری کا شوق تھا اور انہوں نے اپنی شاعری کے ذریعے سندھی زبان کی ترقی و ترویج کے لیے کام کیا ۔

شاہ عبداللطیف بھٹائی نے اپنے کلام میں قرآن و حدیث سےلی ہوئی اصطلاحیں ضرور استعمال کیں مگر اپنی مادری زبان میں ترجمہ کیا۔ صوفیانہ تخیل شاہ کے کلام کی خصوصیات ہیں، ان کی شاعری میں سادگی اور بے لوث خلوص شامل ہے۔شاہ عبداللطیف نے بھٹ شاہ کےٹیلوں کے نزدیک نہر کراڑ کے کنارے بیٹھ کر اپنا صوفیانہ کلام مرتب کیا، جو بعد میں دنیا بھر میں’’شاہ جو رسالو‘‘ کے نام سے معروف ہوا۔

شاہ لطیف بے اتنہا متقی اور پرہیز گار تھے، دنیاوی آلائشوں سے آپ کا دور کا بھی واسطہ نہ تھا، ساری عمر عبادت و ریاضت میں گزری۔ انہوں نے اپنے منظوم کلام میں ہر جگہ اخلاقیات کادرس دیا ہے۔ ’’شاہ جو رسالو‘‘ میں سندھ کی منظوم تاریخ بھی رقم کی گئی ہے۔ وہ عظیم صوفی شاعر تھے ، انہوں نے تمثیل کے انداز میں حقائق بیان کیے ہیںاور جو بھی کردار پیش کیے ہیں وہ سرزمین سندھ سے ہی تعلق رکھتے ہیں۔

شاہ لطیف جس زمانے میں پیدا ہوئے اس زمانے میں برصغیر میں فارسی زبان رائج تھی اور سندھ کا خطہ بھی اس سے متاثر تھا، مگر شاہ بھٹائی نے فارسی کی جگہ سندھی زبان کوسندھ دھرتی کی شناخت کے لیے اہم سمجھا، اور اسی زبان میں شاعری کر کے سندھی زبان کو ایک نیا مقام دلوایا۔ شاہ عبداللطیف بھٹائی کا منظوم کلام 30ابواب پر مشتمل ہے اور ہر باب میں عورت کی حرمت اور عظمت کا اعتراف موجود ہے۔ رسالے میں شامل ابواب کو ’’ شاہ جو سر‘‘ کہا جاتا ہے۔ اس طرح شاہ جورسالو تیس سُروں پر مبنی ہے۔

شاہ بھٹائی کے رسالے میں موجود شاعری کے تمام بابوں کے نام خواتین سے منسوب ہیں۔ان کی شاعری کی سورمیاں (ہیروئن)خواتین ہی قرار دی گئی ہیں۔ سسی، مارئی، مومل، سوہنی، نوری، یہ سب وہ کردار ہیں جن کو انہوں نے اپنی شاعری میں بیان کرکے اَمر کر دیا ہے۔ انہوں نے مرد کے بجائے اپنے کلام کے اظہار کے لیے خواتین کا چناؤ کیا ہے، تاکہ معاشرے کو اس بات کا احساس دلایا جا سکے کہ عورت جسے ہمارے معاشرے میں کمتر مخلوق گردانا جاتا ہے،وہ بھی ایک اعلیٰ و ارفع مقام رکھتی ہے۔

ان کا کلام آپ کے فقرا کو زبانی یاد تھا ۔ان میں ہاشم فقیر، بلال فقیر اور تیمر فقیر اس سلسلے میں معروف ہیں۔ تیمر فقیر نے آپ کے اشعار وافکارقلم بندکیے اور انہیں’’گنج شاہ لطیف‘‘یعنی’’ شاہ لطیف کا خزانہ‘‘ کا نام دیا ۔ آپ کی خادمہ مائی نعمت نے بھی اس کام میں اس کی معاونت کی۔یہ نسخہ تیمر فقیر کے ورثا ءکے پاس محفوظ تھا، جو آج بھی بھٹ شاہ میوزیم میں موجود ہے۔شاہ صاحب کے وصال کی ایک صدی بعد ایک جرمن دانشور ڈاکٹر أرنسٹ کا برطانوی سرکارکی طرف سے سند ھ میں تقرر کیا گیا۔

وہ یورپی زبانوں کے ساتھ ساتھ سندھی ،پنجابی،بروہی اور پشتو زبانوںپر بھی عبور رکھتا تھا۔ جوگیوں اور گائیکوں کی آواز میں گایا جانے والا شاہ لطیف کا کلام اس پر سحر طاری کردیتا تھا۔ حیدر آباد میںقیام کے دوران اس نے گنج شاہ لطیف کی نقل تیار کی اورریٹائرمنٹ کے بعد جرمنی لے جا کر لیپزگ Leipzig سے شائع کرواکےاسے ’’شاہ کے پیغام‘‘ کانام دیا ۔بعض بنیادی نقائص کے باوجود یہ نسخہ سندھی دانشوروں کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب رہا ۔اس کی اشاعت کے فوری بعدعلامہ آئی آئی قاضی کی جرمن اہلیہ، ایلسا قاضی نے اس کا انگریزی ترجمہ شائع کرایا۔

شاہ لطیف کے مجموعہ کلام کی جرمنی میں اشاعت کے بعد ہی پوری دنیا پر یہ آشکار ہوا کہ ’’شاہ جو رسالو‘‘ وہ عظیم ادبی شاہ کار ہے جسے دنیائے ادب میں بجاطور پر پیش کیا جا سکتا ہے۔ اس کا ایک قلمی نسخہ برٹش میوزیم میں بھی محفوظ ہے۔شاہ جو رسالو کا سندھی سےاردو ترجمہ ،معروف شاعر شیخ ایاز نے کیا، اور اس کام میں ان کی معاونت پروفیسر آفاق صدیقی نے کی۔اکادمی ادبیات پاکستان کی جانب سے شاہ عبداللطیف بھٹائی اور تصوف کے حوالے سے لکھی جانے والی بہترین کتابوں پرشاہ عبداللطیف بھٹائی اور تصوف ایوارڈکا اجراء کیا گیا ۔

شاہ عبداللطیف بھٹائی ’’سماع‘‘ کے بے حد شوقین تھے۔ برصغیر کی کی گائیکی کے انداز سے پوری طرح آشناتھے۔ گائیکی کے سروں کے آپ نے مختلف نام رکھے تھے، یہ سُر (آواز) داستانوں میں بٹے ہوئے ہیں، اور ہر داستان کے پیچھے ’’وائی‘‘ ہے جوکہ عبداللطیف کی اپنی ایجاد ہے، اس کی ہیئت غزل سے ملتی جلتی ہے۔ ’’سُر حسینی‘‘ میں سسّی کی دردناک صدائیں سنائی دیتی ہیں، اسی طرح شاہ صاحب نے ماروی کو دیس کی محبت کی علامت کے طور پر نمایاں کیا ہے۔

شاہ بھٹائی جس ٹیلے پربیٹھ کریاد الٰہی میں مشغول رہتے اور اپنا صوفیانہ کلام مرتب کرتے تھے اس کے نزدیک ایک نہر بھی بہتی تھی،کمالِ فن دیکھئے کہ شاہ عبد اللطیف بھٹائی نے اُس کے پانی کا شور یا آوازیں سُن کر موسیقی کے سُر دریافت کیے اور ایک آلہ موسیقی ایجاد کیا جسے ’’ طنبور‘‘ کہا جاتا ہے۔ان کا کلام گائیک یا جوگی صرف طنبورے پر ہی گاتے ہیں، اور اس کے علاوہ کوئی دوسرا موسیقی کا آلہ استعمال نہیں کیا جاتا۔

شاہ عبداللطیف بھٹائی نے 14 صفر 1165 ہجری بمطابق 1752 عیسوی میں وفات پائی، آپ کی وصیت کے مطابق آپؒ کی بھٹ شاہ میں ہی تدفین کی گئی۔سندھ کے حکم ران ہ غلام شاہ کلہوڑو نے ان کا عظیم الشان مقبرہ تعمیر کرایا ۔