سیاست کے رنگ: اگلے دو ماہ کیسے؟

تجزیے اور تبصرے
December 19, 2019

قومی اسمبلی کے رواں اجلاس میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما اور سابق وفاقی وزیر خواجہ محمد آصف نے اظہار خیال کرتے ہوئے حکومت سے آئینی ترامیم میں تعاون نہ کرنے کا اعلان کیا تھا اور یہ بھی کہا تھا کہ اس حوالے سے ہم حکومت سے کوئی رابطہ نہیں رکھیں گے۔ خواجہ محمد آصف نے اس موقعہ پر اپوزیشن کی دیگر جماعتوں سے بھی درخواست کی کہ وہ بھی مسلم لیگ (ن) کے اس موقف کا ساتھ دیں۔

واضح رہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) نے اس سے قبل حکومت کو یہ عندیہ دیا تھا کہ وہ قومی اسمبلی میں چیف آف آرمی سٹاف کی مدت ملازمت میں توسیع کے معاملے میں سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے سمیت دیگر امور پر قانون سازی کے موقعہ پر حکومت کا ساتھ دیں گے لیکن گزشتہ دنوں لندن میں سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کی رہائش گاہ کے باہر مبینہ طور پر پی ٹی آئی کے کارکنوں کی ہنگامہ آرائی اور نعرہ بازی کے بعد مسلم لیگ (ن) کی جانب سے لندن میں ہونے والے ایک اجلاس میں کئے گئے فیصلے کا اعلان خواجہ محمد آصف نے قومی اسمبلی کے ایوان میں کیا۔

مفروضے کی بنیاد پر یہ کہا جاسکتا ہے اپوزیشن کو یہ ادراک تھا کہ اگر سپریم کورٹ آف پاکستان آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے بارے میں آئین کے آرٹیکل 243 میں ترمیم کا کہہ دیتی ہے تو پھر حکومت کے ساتھ بندھ جائیں گے اور اپوزیشن کی جماعتیں بالخصوص مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی حکومت کے ساتھ ’’کچھ دو کچھ لو‘‘ کا مکالمہ کرنے کی پوزیشن میں ہوں گی۔

قومی اسمبلی میں خواجہ محمد آصف کی تقریر کے بعد لندن میں احتجاج اور ہنگامہ آرائی کا کوئی واقعہ دوبارہ پیش نہیں آیا اب جبکہ سپریم کورٹ نے اپنے تفصیلی فیصلے میں واضح طور پر کہہ دیا ہے کہ اگر حکومت چھ ماہ کے عرصے میں موجودہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق قانون سازی نہ کرسکی تو چیف آف آرمی سٹاف قمر جاوید باجوہ ریٹائر ہوجائیں گے۔ واضح رہے کہ اس سے قبل 28 نومبر 2019 کو سپریم کورٹ نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے جنرل قمر جاوید باجوہ کو چھ ماہ کی مشروط توسیع دینے کا اعلان کیا تھا۔

عدالت عظمیٰ نے غیر مبہم الفاظ میں اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ اگر وفاقی حکومت ایک جنرل جو چیف آف آرمی سٹاف بھی ہیں کے ملازمت کے دورانیے اور اس کی شرائط کو قانون کے ذریعے ضابطے میں نہ لاسکی تو اس کے نتیجے میں آرمی چیف کے آئینی عہدے کو مکمل طور پر بے ضابطہ اور ہمیشہ جاری رہنے کیلئے نہیں چھوڑا جاسکتا کیونکہ یہ ایک ’’ناقابل تصور‘‘ اور آئینہ مضحکہ خیزی ہوگا‘‘ فیصلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ قانون میں جنرل کی مدت ملازمت سے متعلق کوئی شق موجود نہیں چنانچہ منتخب نمائندوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اس معاملے پر قانون سازی کریں۔

اب اس صورتحال پر قانونی منہ شگافیاں جاری ہیں فیصلے کے فوری بعد حکومت کے سامنے فوری طور پر فیصلہ کرنا تھا کہ سپریم کورٹ کے احکامات کی تعمیل پر رضامندی ظاہر کر دی جائے اور ایوان میں قانون سازی کی جائے یا پھر فیصلے پر نظرثانی کی درخواست کی جائے حکومت کے پاس دونوں آپشنز موجود ہیں فیصلہ خود وفاقی حکومت نے کرنا ہے لیکن سیاسی و پارلیمانی دانائوں کا وفاقی حکومت کو مشورہ یہی ہے کہ کوئی بھی فیصلہ حقائق اور نتائج کے پیش نظر بہت سوچ بچار اور پختہ ذہنوں کی مشاورت سے کرنا ہوگا۔ اور اس حوالے سے گزشتہ فیصلہ کے باعث ندامت اور جگ ہنسائی کو سامنے رکھنا ہوگا۔

وزیراعظم عمران خان نے جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کا اعلان 19 اگست 2019 کو کیا تھااگرچہ جنرل باجوہ کو رواں سال نومبرمیں ریٹائر ہونا تھا لیکن ان کی مدت ملازمت میں توسیع کا اعلان تقریباً دو ماہ قبل ہی کر دیا تھا اس کی ایک وجہ تو یہ تھی کہ ریٹائر ہونے والے فوجی سربراہ کئی ہفتے پہلے الوادعی ملاقاتیں اور مختلف عسکری اداروں میں الوادعی خطاب کا سلسلہ شروع کر دیتے ہیں۔

جبکہ دوسری ضرورت اس لئے پیش آئی تھی کہ اپوزیشن کی جانب سے فوجی سربراہ کی ملازمت سے ریٹائرمنٹ یا توسیع میں قیاس آرائیاں زور پکڑ رہی تھیں اور اپوزیشن کے رہنما اپنے بیانات جہاں اس معاملے کو سیاسی تناظر میں پیش کر رہے تھے وہیں وہ اپنے سیاسی ہم خیال طبقات کو یہ یقین دھانی بھی کرا رہے تھے کہ ’’ اصل تبدیلی فوجی سپہ سالار کی ریٹائرمنٹ کے بعد آئے گی‘‘ تاہم وزیراعظم نے دو ماہ قبل ان کی ملازمت میں تین سال یعنی ’’فل ٹرم‘‘ کی توسیع کر دی اور توسیع کا یہ جواز پیش کیا گیا کہ یہ فیصلہ خطے میں سکیورٹی کی صورتحال کے پیش نظر کیا گیا ہے۔

وزیراعظم کے اس فیصلے کے بعد بھی خدشات اور امکانات کی خوش فہمیوں میں مبتلا لوگ یہ دعوے کرتے رہے کہ شاید سپہ سالار وزیراعظم کے فیصلے کے باوجود متعینہ مدت مکمل ہونے پر شکریہ کے ساتھ اس پیشکش کو مسترد کرتے ہوئے ریٹائرڈ ہوجائیں لیکن

؎ یوں نہ تھا میں نے فقط چاہا تھا یوں ہوجائے

بہرحال سیاست کے رنگ تبدیل ہوتے رہتے ہیں آنیوالے وقت میںکیا ہوگا یہ کچھ نہیںکہا جاسکتا۔ ملائشیا اجلاس میں شرکت کیلئے نہ صرف پاکستان کی شرکت کی تیاریاں بھرپور تھیں بلکہ وزیراعظم عمران خان کی اجلاس کا شیڈول بھی طے تھا۔ اجلاس میں شرکت کی دعوت ڈاکٹر مہاتیر کے خصوصی ایلچی اور ڈپٹی وزیر خارجہ مرزدکی بن جاجی عیسیٰ نے رواں سال نومبر میں دی تھی لیکن اجلاس سے محض دو دن قبل وزیراعظم کی اجلاس میں شرکت نہ کرنے کے فیصلے… متعلق توجیہات پیش کی جارہی ہیں۔

مشرق وسطیٰ اور پاکستان کی سٹرٹیجک اور جغرافیائی صورتحال کے پیش نظر وزیراعظم عمران خان کے حالیہ دوروں کے بارے میں مختلف آرا اور قیاس ظاہر کئے جارہے ہیں۔ وزیراعظم نے رواں سال سعودی عرب کے چار دورے کئے ہیں جبکہ ایران ترکی اور ملائشیا کے دورے بھی شامل ہیں۔ رواں ہفتے انہوں نے بحرین کا اپنا اولین دورہ کیا تھا جس میں بحرین کے اعلیٰ ترین ایوارڈ سے بھی نوازا گیا تاہم اس سے قبل انہوں نے سعودی عرب اور بعدازاں سوئٹزر لینڈ کا دورہ کیا مشرق وسطیٰ کے ممالک کے دوروں میں انہوں نے وہاں کی اعلیٰ قیادتوں سے ملاقاتیں کیں۔

یاد رہے کہ سعودی عرب اور ایران کے درمیان آئل ریفائنری پر حملوں کے بعد سے کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے اس حوالے سے ایسی اطلاعات بھی سننے میں آئی تھیں کہ پاکستان دونوں اسلامی ملکوںکے درمیان ثالثی کی کوششوں میں مصروف ہے اور عمران خان مسلم ممالک کے سربراہان کو اس خطے کی معاشی ترقی اور سلامتی کے ایجنڈے پر یکجا کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں اور ملائشیا کے ڈاکٹر مہاتیر بھی ان کے ہمراہ اس پیش رفت میں شامل ہیں۔