’’عبداللہ III‘‘ (بتیسویں قسط)

February 23, 2020

باہر چلی آندھی کا بگولہ تو پَل بھر میں صحن سے چَھٹ کر کسی اور جانب نکل گیا تھا، مگر میرے اندر ابلتے، بپھرتے طوفان پھر تھم نہ پائے۔ بڑی سرکار کی بیوہ بہو جب قطار میں بیٹھے ملنگوں،فقیروں کو نذر بانٹتی میری جانب بڑھ رہی تھی، تبھی ایک بہت مانوس سی خوشبو نے میرے سارے حواس معطّل کردیئے تھے اور جب میری نظر اٹھی، تو جیسےیکایک سب بھسم ہوگیا۔ ایک بجلی سے گری، جو میرے تن مَن کو جلا کر راکھ کر گئی۔ ہاں، وہی تو تھی، بڑی سرکار کی بیوہ بہو کے رُوپ میں سوگ کے سیاہ لباس میں ملبوس۔ زہرا کی نظر مجھ سے ٹکرائی، تو اس کے اندر بھی شاید وہی برق گری اور مجھے دیکھ کر وہ اپنے حواس قابو میں نہ رکھ سکی اور اگلے ہی لمحے چکرآ کر زمین پر گر گئی۔

آُس کے پاس کھڑی نوکرانیوں اور جہاں دیدہ خادمائوں میں شور سا مچ گیا۔ ’’چھوٹی سرکار بے ہوش ہوگئیں۔ شالا رب خیر کرے…‘‘ عورتیں زہرا کو سنبھالنے لپکیں اور اُس کے چاروں طرف فوراً پردے کے لیے چادروں اور دوپٹوں کی ایک دیوار سی بنادی گئی۔ بڑی سرکار سب چھوڑ چھاڑ حواس باختہ دوڑی چلی آئیں۔ سب حیران تھے کہ یکایک اُن کی چھوٹی سرکار کو کیا ہوگیا۔ لوگوں کے ساتھ مَیں بھی اُٹھ کر صحن کے ایک جانب چلا آیا، مگر خود میری حالت دِگرگوں تھی۔ پچھلےچند دن میں کئی بار مجھے اِس علاقے پر آئی ہر آفت کی خبر کے ساتھ یہ خبر بھی سُنائی جاتی رہی کہ بڑی سرکار کی حویلی مصائب و مشکلات کی زَد میں رہتی ہے، مگر مجھے کیا پتا تھا کہ زہرا ہی اس حویلی کی وہ بدقسمت بہو ہے، جو رخصتی کے بعد اپنے سسرال میں بارات کی واپسی سے پہلے بیوہ ہوچُکی تھی۔ جس کے سہاگ کو راستے میں گھات لگائے دشمنوں نے ہمیشہ کی نیند سُلادیا تھا۔ میرے دل و دماغ میں جھکڑ چلتے رہے۔ آس پاس کا شور خاموشی میں بدل گیا اور میرے اندر کے سنّاٹے چلّانے لگے۔

بڑی حویلی کے مکین مزار سے جاچُکے تھے۔ مگر مجھے ابھی تک ہر طرف سے زہرا کی دو آنکھیں جھانکتی، تکتی محسوس ہو رہی تھیں۔ گویا یہ بھید چُھپا تھا میرے بختیار آباد کے بلاوے میں۔ مَیں تیزی سے حاکم بابا کے حجرے میں داخل ہوا۔ وہ آنکھیں بند کیے بیٹھے جانے کس سوچ میں گُم تھے۔ آہٹ ہوئی، تو مجھے دیکھ کر بولے ’’کیوں خود کو اتنا ہلکان کرتے ہو۔

دو گھڑی اس ذہن کی چرخی کو آرام بھی دے دیا کرو۔‘‘ میرا جی چاہا کہ زور زور سے چِلّائوں، مگر میری آواز میں لرزش تھی ’’آپ جانتے تھے کہ وہ بڑی حویلی کی مکین ہے، یہیں رہتی ہے، پھر بھی آپ نے مجھے یہاں کیوں بلایا..... کیوں بھیجا اُس کے گھر پانی دے کر؟ اتنا مضبوط نہیں ہوں مَیں، پھر مجھ پر اتنا بوجھ کیوں ڈال دیا.....؟‘‘ حاکم بابا نے ایک گہری سانس لی۔ ’’تم کہیں بھی جاتے، تمہیں یہیں آنا تھا۔ اور یہ طے تھا۔‘‘ وہ آدھی بات کہہ کر خاموش ہوگئے۔ اور ہمیشہ کی طرح باقی آدھے سوال میرے دماغ کی دیواروں سے ساری رات ٹکراتے رہے۔

صبح تک آس پاس چاروں طرف یہ بات پھیل چُکی تھی کہ بڑی حویلی کی بہو کم زوری یا کسی ذہنی دبائو کی وجہ سے مزار میں گرکر بے ہوش ہو گئی۔ ایک بار پھر سے سکندر کے چھوٹے بھائی، بابر کی دھوم دھام سے ہوئی شادی اور بارات کے گھر واپس اُترنے سے پہلے کے قصّے زبان زدِ عام ہونے لگے۔ بڑی سرکار کے دو ہی بیٹے تھے۔ سکندر اور بابر اور دونوں ہی جیسے ایک دوسرے کی ضد تھے۔ سکندر خود سر، ضدی، غصیلا اور جاگیردارانہ صفات سےبھرپور ایک سخت گیر جوان تھا، تو دوسری طرف اُس سے پانچ سال چھوٹا بابر نرم دل، ہنس مُکھ اور زندگی کی ہر خُوب صُورتی سے پیار کرنے والا لڑکا۔ جس کی زیادہ تر تعلیم مُلک سے باہر ہوئی تھی۔

سکندر کو شروع ہی سے باپ نے جاگیر کے معاملات اور زمین کے جھگڑوں میں اُلجھائے رکھا، اِس لیے اُس کے مزاج پر بھی وہی رنگ غالب آگیا۔ باپ کی موت کے بعد بڑی سرکار ہی نے دونوں بیٹوں کو باپ بن کر پالا تھا اور دونوں بیٹے ماں کی بات کو دنیا کا اخری حکم سمجھ کر بجا لاتے تھے۔ سکندر کی بیوی دو چھوٹے بچّوں کو چھوڑ کر اگلے جہاں سدھاری تو حویلی سنسان سی ہوگئی۔ سکندر اپنے بچّوں کے اوپر سوتیلی ماں کا سایہ پڑتے نہیں دیکھ سکتا تھا، لہٰذا بڑی سرکار کی ساری امیدیں اب بابر کی آنے والی بیوی سے وابستہ ہوچُکی تھیں۔ تبھی بڑی سرکار نے ایک میلاد کی تقریب میں زہرا کو دیکھا اور دیکھتی ہی رہ گئیں۔

وہ کسی کام سے بابر کے ساتھ بڑے شہر گئی تھیں اور اُسی روز ان کی واپسی بھی طے تھی۔ مگر زہرا کو دیکھنے کے بعد اُن کے سارے پروگرام دھرے کے دھرے رہ گئے۔ بابر کے لیے اس سے بہتر اور لڑکی کوئی ہو ہی نہیں سکتی تھی۔ چُپ چاپ کسی سوچ میں ڈوبی اور خاموش سی زہرا بڑی سرکار کے دل کو بہت بھا گئی تھی۔ انہوں نے شہر میں اپنا قیام مزید بڑھا دیا اور اپنے میزبانوں کے توسّط سے زہرا کے گھر والوں تک رسائی حاصل کر کے ہی دَم لیا۔ زہرا کے ماں باپ نے بھی تھوڑی سوچ بچار کے بعد ہامی بھرلی۔ مگر نہ جانے کیوں بڑی سرکار کو زہرا کے چہرے پر کبھی خوشی کے آثار دکھائی نہیں دیئے۔

انہوں نے بارہا بہانوں سے زہرا سے اس کے دل کا حال جاننے کی کوشش بھی کی، مگر زہرا کا ہمیشہ ایک سادہ سا جواب ہوتا کہ ’’جو اس کے والدین کی مرضی ہے، وہی اُس کی خوشی ہے۔‘‘ البتہ زہرا کے ماں باپ نے صاف دلی سے بڑی سرکار کو یہ بات دوسری ہی ملاقات میں بتادی تھی کہ اِس سے پہلے بھی زہرا کا رشتہ کہیں طے ہوا تھا، مگر حالات کی کروٹ کی وجہ سے وہاں بات پکّی نہیں ہو سکی۔

اس لیے زہرا آج تک اس صدمے کے اثر سے باہر نہیں نکل سکی۔ بڑی سرکار کو زہرا کے گھر والوں کی یہ صاف گوئی بھی بہت پسند آئی اور انہوں نے زہرا کے والدین سے یہ وعدہ کیا کہ وہ اور اُن کا بیٹا بابر، زہرا کو اتنا پیار اور خوشیاں دیں گے کہ اُس کے ماضی کا ہر زخم بھرجائے گا، مگر کون جانتا تھا کہ یہ رشتہ خود اُن سب کےلیے عُمر بھر کا ایک روگ بننے جارہا تھا۔ یہاں ماں چھوٹے بیٹے کی شادی کی تیاریوں میں مصروف تھی اور وہاں بڑا بیٹا سکندر علاقے میں اپنی خاندانی دشمنیاں بڑھانے میں مگن۔

کہتے ہیں زَن، زَر ہو یا زمین، تصرّف کےلیے خراج مانگتی ہے۔ سکندر کو اپنی شکار گاہوں کے لیے مزید زمین کی ضرورت تھی اور وہ زمین کی جنگ میں سب جائز سمجھتا تھا۔ علاقے کے معمولی پٹواری سے لے کر اوپر اعلیٰ اہل کاروں تک سبھی سکندر کا دَم بھرتے تھے۔ کیوںکہ سکندرنے انہیں نوازنے میں کبھی کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔ اور انہی دنوں صحرائی ہرن کی ایک نئی شکار گاہ سرکاری کاغذات میں اس کےنام منتقل ہوئی تھیں۔ مگر جن زمین داروں سے یہ زمین چھین کر سکندر کے حوالے کی گئی تھی، وہ اتنی آسانی سے اپنے علاقے میں سکندر کی اجارہ داری قبول کرنے والے نہیں تھے۔ بات زمین کے راکھوں کی مار پیٹ اور لڑائی جھگڑے سے بڑھتے بڑھتے جانی دشمنی میں بدل گئی۔

وہ لوگ سکندر سے زمین کا قبضہ تو نہیں چُھڑوا سکے، مگر انہوں نے اپنی بے عزتی کا بدلہ لینے کی ٹھان لی تھی اور اب انہیں کسی مناسب موقعے کی تلاش تھی اور پھر وہ موقع آہی گیا۔ جب سکندر اپنے دشمنوں کے وار سے کچھ لمحوں کے لیےغافل ہوگیا۔ چھوٹے بھائی کی شادی کا موقع ہی ایسا تھا کہ بڑے بھائی کو ہزار ذمّے داریاں نبھانی پڑتی ہیں، لیکن سکندر کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ اُس کا دشمن اتنا اوچھا وار کرے گا۔ سیانے کہتے ہیں کہ دشمنی کرو تو دشمن بھی ظرف والا چُنو، مگر سکندر کے دشمن بڑے کم ظرف نکلے۔ اور انہوں نے بابر کی شادی والے دن وہاں گھات لگائی، جہاں سے بارات کو واپس علاقے میں داخل ہونا تھا۔ نشانہ سکندر تھا، مگر شکار بابر بنا۔ گولی سیدھی اُس کے دل کے پار ہوگئی۔ اور بڑی سرکار کی حویلی ہمیشہ کے لیے اُجڑگئی۔ بہو بیوہ بن کر حویلی کے آنگن میں اُتری اور اس کی باقی تمام عُمر عدّت میں بدل گئی۔

بڑی سرکار کے اُسی لاڈلے کی آج برسی منائی جارہی تھی، جو پھرسے ایک نئے حادثے کا پیش خیمہ ثابت ہو ئی۔ مگر یہ حادثہ بھی کتنا عجیب تھا کہ جن پر بِیتا وہ کچھ بھی بتانے سے قاصر تھے۔ مَیں یہاں رات بھر جاگتا رہا اور وہاں اُس کی جانے کیا حالت ہوگی۔ راستے، فاصلے، رشتوں کی دیواریں..... جانے کیا کچھ حائل تھا ہمارے درمیان۔ مَیں اگر اس کے بارے میں کچھ پوچھتا بھی تو کس سے پوچھتا۔ اور حاکم بابا.....وہ تو سب کچھ جانتے ہوئے بھی ایسے اطمینان سے اَن جان بنے بیٹھے تھے، جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ مَیں بے چین سا حجرے سے صحن اور صحن سے دروازے تک چکّر کاٹتا رہا۔ صبح سے دوپہر ہوئی اور دوپہر بھی سہ پہر میں ڈھل گئی۔

مگر بڑی حویلی سے کوئی خبر نہیں آئی۔ اور آتی بھی کیوں، بڑی حویلی والوں کو بھلا کیا خبر تھی کہ یہاں کوئی ہر آہٹ پر کان لگائےبیٹھا ہے۔ آخر عصر کےبعد میری وحشت نے بھی جواب دے دیا اور مَیں حاکم بابا کے پاس آبیٹھا۔ ’’کیا آپ آج پانی دَم کرکے نہیں بھیجیں گے وہاں.....؟‘‘ وہ میری حالت پر مُسکرادیئے۔ جسے آنا ہو گا، وہ خود آئے گا، جسے غرض ہوگی، وہی دَر کھٹکھٹائے گا۔‘‘ اب مَیں انہیں کیا بتاتا کہ غرض تو میری اپنی تھی۔ صرف اتنی سی خبر کی غرض کہ کیا وہ اب ٹھیک ہے؟ اس کی حالت سنبھل گئی ہے یانہیں، لیکن مجھے تو یہاں کوئی جھوٹی تسلّی دینے والا بھی نہیں تھا۔ سو، رات بھر میں خود کو، خود ہی دلاسے دیتا رہا کہ جہاں اُس نے اتنے بڑے بڑے طوفانوں کا سامنا کیا ہے، حالات کی اس آندھی کو بھی جھیل جائے گی، مگر وہ کتنی کم زور اور لاغر ہوچُکی تھی۔ ہجر، قہر بن کر ٹوٹے تو اس سے بڑا قہر کوئی اور ہو ہی نہیں سکتا۔

فجر کی اذان ہوئی، تو مجھے دُعا کا خیال آیا، کتنی عجیب بات ہے کہ ہم عام طور پر نماز کے بعد ہی بیٹھ کر دُعائیں مانگتے ہیں، جیسے کوئی مزدور مشقّت کے بعد اپنی مزدوری مانگ رہا ہو۔ حالاںکہ دینے والے نے تو کبھی بھی کسی خاص وقت کی شرط نہیں رکھی۔ مَیں نے بھی سلام پھیر کر کسی مزدور کی طرح، معاوضے کے لیے ہاتھ پھیلا دیئے، مگر میرے سارے لفظ کہیں کھو سےگئے تھے۔ کبھی کبھی ہم چاہتے ہیں کہ بس نظر اٹھا کر آسمان کی طرف دیکھیں اور اوپر والا سب سمجھ جائے، خاموشی سے بڑی دُعا اور کیا ہوگی۔ اور اُسے ہمارے لفظوں کی ضرورت ہی کب ہے بھلا۔ وہ تو دل کی بولیاں سمجھتا ہے۔ مَن کی خاموش بولیاں، تبھی کسی نے میرے شانے پر ہاتھ رکھا ’’چلو عبداللہ! کوئی تمہارا پوچھ رہا ہے۔‘‘ مَیں گھبرا کر کھڑا ہوگیا، شاید چُپ کی دُعا، لفظوں کی منّت سے زیادہ تیز سفر کرتی ہے۔

مَیں لپک کر صحن میں پہنچا، تو دُور پیڑ تلے کوئی خود کو گرم کھیس کی بکل میں چُھپائے کھڑا میرا انتظار کررہا تھا۔ مجھے دیکھ کر اُس نے اپنے چہرے سے تھوڑی سی چادر ہٹائی۔ ’’مجھے سارنگا نے بھیجا ہے۔ تمہارے لیے اُس کے پاس کوئی ضروری پیغام ہے۔ دوپہر کے بعد سارنگا کے اڈّے پر آجانا، لیکن ذرا احتیاط سے۔ آج کل بارڈر والی سائیڈ پر بڑا پہرہ ہے۔ اور ہاں، دھیان رہے، تمہارے آنے جانے کی یہاں کسی کو خبر نہ ہو۔‘‘ وہ اپنی بات ختم کر کے لپک جھپک وہاں سے نکل گیا۔ شاید سارنگا کے پاس ظہیر کی کوئی خبر آئی ہوگی۔ میرا دل زور زور سے دھڑکنے لگا ’’یامیرے رب، ظہیر اور کندن خیریت سے ہوں۔‘‘ میرے دل نے پھر اللہ سے بات کی۔

ہم اپنی تمام زندگی میں سب سے زیادہ باتیں خود سے کرتے ہیں یا پھر اپنے رَب سے۔ کیوںکہ یہ دونوں ہی ہمارے اندر کہیں چُھپے ملتے ہیں۔ دوپہر تک ہر آہٹ پر میری نظر مزار کے بیرونی دروازے کی طرف اُٹھتی رہی، مگر مجھے جس کی خیریت درکار تھی، اُس کی خبر نہ آئی۔ عصر کے بعد مَیں چُپ چاپ مزار سے نکل آیا۔ باہر اترتی سیڑھیوں سے نیچے ریت کے میدان میں چند تانگے کھڑے تھے، مگر فقیرا مجھے کہیں نظر نہیں آیا۔ مَیں نے ایک دوسرے تانگے والے کو بازار چلنے کا کہا۔

دُور شہر کے بُرج اور پیلی عمارتوں کے چوبارے دُھوپ میں چمک رہے تھے اور تارکول کی پکّی سڑک صحرا کے بیچوں بیچ یوں پڑی تھی، جیسےکوئی بَل کھاتی کالی ناگن سنہری ریت میں راستہ بناتی رینگ رہی ہو۔ دُور فاصلے پر لگے اِکّا دُکا درخت بھی اپنا ناکافی سایہ بکھیرے کھڑے تھے۔ جیسے کلاس میں سے کسی استاد نے چند شرارتی بچّوں کو سزا کے طور پر جماعت سے باہر کھڑا کر رکھا ہو۔ مَیں نے تانگہ سرحدی بازار سے کافی پیچھے رکوا لیا اور اُسے اجرت دے کر واپس روانہ کردیا، کیوںکہ مَیں ایک بار پھر اُنہی سوالات کا سامنا نہیں کرنا چاہتا تھا۔

تانگے والے کے جانے کے بعد مَیں اُس طرف بڑھا، جہاں سے چند گلیاں پَرے سارنگا کا ٹھکانہ تھا۔ عصر ڈھلنے کے بعد شام قریب آرہی تھی۔ اِکّا دُکا کُھلی دکانوں کےسامنے بیٹھے لوگوں نے کچھ حیرت سے میری طرف دیکھا۔ مَیں چُپ چاپ سر جھکائے آگے بڑھتا رہا۔ سامنے ہی ریت کا وہ بڑا سا میدان تھا، جسے پار کرنے کے فوراً بعد گل مہر ہوٹل والی سڑک شروع ہوجاتی تھی، مگر مَیں ابھی ریت کے پہلے ٹیلے سے نیچے اُترا ہی تھا کہ دُور سے تین چار شکاری چروکی جیپیں ریت کا طوفان اُڑاتی تیزی سے میری جانب لپکتی نظر آئیں۔ جیپوں کے پچھلے حصّے کُھلے تھے، جہاں بندھے اپنی زنجیریں تڑواتے خونخوار کتّوں کے بھونکنے کی آوازیں بھی قریب آتی گئیں۔

گاڑیاں میرے قریب تیزی سے آکے گزر گئیں، مگر کچھ دُور جاکر زوردار بریک کی آواز کے ساتھ رُکیں اور پھر سب سے اگلی جیپ کسی نے پچھلےگیئر میں ڈال کر ریورس کی۔ دوسری جیپوں سے بھی مسلّح محافظ تیزی سے نیچے اُترے۔ جنہوں نے ریت اور گرد و غبار سے بچنے کےلیے چہروں پر اپنی سیاہ پگڑیوں ہی سے ڈھاٹے باند رکھے تھے۔ پہلی جیپ میرے قریب آکر رُکی، تو مَیں بھی ٹھہر گیا۔ اندر سے کوئی چِلّایا ’’جی سائیں جی..... یہ تو وہی فقیر ہے، مگر یہ یہاں کیا کر رہا ہے؟ ضرور یہ بھی اُن لوگوں سے مِلا ہوا ہے اور اب کارروائی کے بعد بارڈر پار کرکے بھاگنے کی تیاری میں ہے۔‘‘ جیپ کا دروازہ کُھلا اور اس میں سے سکندر باہر نکلا اور میری طرف غصیلی نظروں سے دیکھتے ہوئے جھڑک کر بولا ’’تم..... تم وہی ہو ناں، جو اُس دن اِسی بھیس میں میری حویلی میں آئے تھے۔

تمہارا اس علاقے میں کیا کام ہے؟ تمہیں تو مزار پر ہونا چاہیے تھا۔‘‘ مَیں نے اُس کا درشت لہجہ نظر نداز کیا۔ ’’مَیں کسی کام سے آیا ہوں یہاں.....‘‘ مَیں نے قدم بڑھانے کی کوشش کی، تو سکندر کا ایک محافظ میرے راستے کی دیوار بن گیا۔ سیدھی طرح بتاتے ہو یا کسی اور طریقے سے پوچھوں، یہاں صرف اُن لوگوں کو کام پڑتا ہے، جو یہاں سے فرار ہونے کی فکر میں ہوتے ہیں۔ ایک فقیر جوگی کا بھلا یہاں کیا کام، تم ضرور اُسی گروہ میں سے ایک ہو، جس نے کل رات میرے ذخیرے کے گوداموں میں آگ بھڑکائی تھی.....‘‘

’’نہیں، تم غلط سمجھ رہے ہو۔ مَیں ایسے کسی بھی گروہ کو نہیں جانتا۔‘‘ میرے جواب پر سکندر مزید بھڑک گیا۔ ’’یہ ایسے نہیں جائے گا، اُٹھا کر ڈالو اِسے گاڑی میں اور لے چلو ٹھکانے پر، باقی تفتیش اِس سے وہیں ہوگی۔‘‘ سکندر کا حُکم سُنتے ہی تین چار ہٹّےکٹّے محافظوں نے میری مشکیں کَس دیں اور اٹھا کر اِک کُھلی گاڑی کے پچھلے حصّے میں پھینک دیا، جہاں دو تین کتّے بھی زنجیروں سے بندھے غرّا رہے تھے۔ مجھے بندھا دیکھ کر وہ تیزی سے میری طرف لپکے۔ یوں گل رہا تھا، اُن کے خوف ناک جبڑے میری شہ رگ بھنبھوڑنے کے لیے بے تاب ہیں، مگر زنجیر کی لمبائی ختم ہوجانے کی وجہ سے اُنہیں بس چند انچ کے فاصلے پر ایک زور دار جھٹکے سے رُکنا پڑا۔ میریے اوپر کسی نے کوئی پرانا ٹاٹ یا بوری نُما کپڑا ڈال دیا اور مجھے واپسی کے سفر اور راستے کا اندازہ نہیں ہوسکا۔

قریباً ادھے گھنٹے کے بعد کسی بڑے گیٹ کے کُھلنے کی آواز آئی اور گاڑی رُک گئی، باقی گاڑیاں شاید کسی اور جانب مُڑچکی تھیں۔ مجھے کسی نے گھسیٹ کر نیچے اُتارا اور کھینچتے ہوئے عمارت کے ویران حصّے کی جانب لے جایا گیا۔ شاید یہ کسی حویلی کا عقبی حصّہ یا مردانہ تھا۔ آس پاس چند دیگر محافظ بھی چوکنّے کھڑے تھے۔ ایک جانب چند پرانے گیراج بنے ہوئے تھے۔ پھر مجھے کسی نے پیچھے سےدھکّا دیا اور ایک سال خوردہ کمرے سے نیچے جاتے زینے کے ذریعے کسی سیلن زدہ قید خانے میں دھکیل دیا گیا۔ تہہ خانے میں گُھپ اندھیرا تھا۔ مَیں اندازے سے دیوار ٹٹول کر وہیں ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔ اچانک کسی گوشے سے ایک آواز اُبھری ’’خوش آمدید.....بڑی راہ دکھائی میرے ہم قفس.....‘‘ مَیں اُچھل پڑا اور گھبرا کر اُس جانب دیکھا۔ (جاری ہے)