سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل اورسابق ڈی ایس میں سرکاری رہائش پر ٹھن گئی

May 05, 2021

راولپنڈی (وسیم اختر،سٹاف رپورٹر) اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ اورسابق ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ ایگزیکٹو کے درمیان سرکاری رہائش خالی کرانے کے معاملہ پر ٹھن گئی۔ سابق ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ محمداکرم نے اڈیالہ جیل میں سرکاری رہائش گاہ خالی کرنے کے لئے تین دن کانوٹس ملنے پر جوابی خط میں سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل پرالزامات لگادیئے۔ چودھری اعجازاصغر سپرنٹنڈنٹ سنٹرل جیل راولپنڈی کی جانب سے اڈیالہ جیل کے سابق ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ ایگزیکٹومحمداکرم کوتین مئی کولکھی چھٹی میں کہاگیاکہ آپ کومتعددبارسرکاری رہائش گاہ خالی کئے جانے کی بابت مطلع کیاگیا، پانچ ماہ گزرنے کے باوجودآپ نے اڈیالہ جیل سے سرکاری رہائش گاہ خالی نہیں کی ۔ آپ نے ڈسٹرکٹ جیل شیخوپورہ میں بھی رہائش رکھی ہوئی ہے جوقانون کی خلاف ورزی ہے ۔ اس لیٹرکے ملتے ہی چارمئی کومحمداکرم ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ ڈسٹرکٹ جیل شیخوپورہ نے سپرنٹنڈنٹ سنٹرل جیل راولپنڈی کو لکھے گئے لیٹرمیں مؤقف اختیارکیاکہ میں ڈپٹی جوڈیشل جیل کے ساتھ ایک کمرے میں رہ رہاہوں ،مجھے متعددبارسرکاری رہائش گاہ خالی کروانے کی بابت آپ غلط بیانی کررہے ہیں کیوں کہ ہیڈآفس میں میرے پاس کوئی رہائش گاہ نہ تھی ،اورمیں وہاں پرائیویٹ طورپررہ رہاتھا۔ آپ مجھے کس طرح سرکاری رہائش گاہ خالی کرنےکانوٹس بھیج سکتے ہیں اورکس قانون کے تحت میرے خلاف بیدخلی کی پالیسی لاگوکرسکتے ہیں۔ آپ کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹس نے ڈبل بیڈوالے تین سے چارکوارٹرتوڑکرایک رہائش گاہ بنائی ہوئی ہے اورتقریباً چھ سے سات ملازمین کو اپنی رہائش گاہ پررکھا ہواہےجب کہ میں ایک گزیٹڈافسرہوں اوراڈیالہ جیل میں تعیناتی کے دوران میرے پاس صرف ایک ملازم تھااورجیسے ہی میرے آرڈرہیڈآفس کے ہوئے آپ نے اس ملازم کی ڈیوٹی بھی جیل میں لگادی اورمیرے سکول جانے والے بچوں کا آپ کوکوئی خیال نہ آیا۔ جہاں تک ڈبل رہائش رکھنے کاتعلق ہے تواس سلسلے میں فدوی نے تونہیں بلکہ آپ کیمپ جیل لاہور میں دواعلیٰ قسم کی سرکاری رہائش گاہوں کوغیرقانونی طورپرتوڑکر تقریباً پندرہ سال سے ان پرمستقل غیرقانونی پرقابض ہیں اوراس سرکاری رہائش گاہ کے ساتھ آپ دوران تعیناتی دیگرجیلوں میں بھی سرکاری رہائش گاہیں اورریسٹ ہاؤسزبھی رکھتے رہے ہیں۔ آپ نے اپنی ڈبل رہائش گاہوں کے پانی ،بجلی اورسوئی گیس کے واجبات کیاگورنمنٹ کو اداکیے ،جہاں تک سامان کی توڑپھوڑکاتعلق ہے توآپ یہ کرکے دیکھ لیں البتہ یہ یادرکھیے گاکہ انصاف فراہم کرنے والے ادارے ابھی موجودہیں ۔اس لیٹرکی کاپیاں ہوم ڈیپارٹمنٹ اورآئی جی جیل خانہ جات پنجاب سمیت دیگراعلیٰ افسروں کوبھی بھیج دی گئیں ۔