• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

چند یوم قبل کراچی کے علاقے صفورہ گوٹھ، واقع اسکیم تینتیس کے ایک نجی اسکول میں اساتذہ کے واش رومز میں خفیہ کیمرے نصب ہونے کا انکشاف ہوا اور محکمہ تعلیم کی ٹیم نے وہاں سے کیمرے برآمد کرلیےتو معاشرے کے سنجیدہ فکر افراد نے یہ سوال پھر دہرایا کہ آخر ہمارا پستی کا سفر مزید کتنی اخلاقی اور معاشرتی پستیوں کے سنگِ میل عبور کرے؟ بتایا گیا ہے کہ واش رومز خواتین اساتذہ کے ساتھ طالبات کے بھی زیر استعمال تھے۔ محکمہ تعلیم سندھ کا کہنا ہے کہ خفیہ کیمرے سے وڈیوز بنائی جاتی تھیں۔ اسکول کے دورے کے دوران واش روم سے خفیہ کیمرے برآمد کیے گئے۔

محکمہ تعلم کے حکام کا کہنا ہے کہ خفیہ کیمرے مرد اساتذہ کے واش رومز سے بھی برآمد ہوئے ہیں، معاملہ سامنے آنے پر اسکول کی رجسٹریشن منسوخ کردی گئی ہے۔ادہر اسکول کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ واش روم میں خفیہ کیمرے نصب کرنےکا مقصد مانیٹرنگ تھا۔

واضح رہے کہ مذکورہ اسکول میں محکمہ تعلیم کی ٹیم نے خواتین اساتذہ کی شکایت پر چھاپہ ماراتھا۔ ادہر محکمۂ تعلیم کی وجیلینس ٹیم نے وزارت تعلیم سندھ کو دی گئی رپورٹ میں کہا ہے کہ کیمرے مکمل طور پر خفیہ تھے، دوبار چیک کرنے پر کیمرے برآمد نہ ہوسکے، تیسری بار باریک بینی سے جائزہ لینے پر بورڈز کے اندر سے کیمرے برآمد ہوئے۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ دورے میں ساتھ موجود وائس پرنسپل نے خفیہ کیمروں کی موجودگی کی تردید کی تھی، تاہم خاتون وائس پرنسپل کے سامنے بورڈ توڑ کر کیمرے برآمد کیے گئے۔

وزیر تعلیم سندھ کو دی گئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خواتین اساتذہ نے بھی خفیہ کیمروں سے متعلق لاعلمی کا اظہار کیا۔ واضح رہے کہ اسکول انتظامیہ نے کیمروں کی موجودگی سے متعلق اپنے بیان میں کہا ہے کہ اسکول میں کوئی چیز خفیہ نہیں، سب کچھ ریکارڈ پر ہے، کیمرے ٹوائلٹس میں نہیں واش بیسن والے ایریا میں لگے ہوئے تھے۔انتظامیہ کا کہنا ہے کہ بچے، اساتذہ اور پورا اسٹاف واش بیسن کے قریب لگے ہوئے کیمروں سے آگاہ ہے۔اسکول کی انتظامیہ کے مطابق کیمرے پندرہ برس سے لگے ہوئے ہیں، جن کا مقصد بہتر مانیٹرنگ ہے۔

لیکن یہ اپنی نوعیت کا کوئی پہلا معاملہ نہیں ہے۔ ہاں یہ ہے کہ اب خفیہ کیمروں کا سلسلہ دراز سے دراز تر ہوتا جارہا ہے۔اس سے قبل 2019میں جامعہ بلوچستان میں خفیہ کیمروں سے طالبات کی وڈیوزبنانے اور پھر انہیں ہراساں کرنے کا اسکینڈل سامنے آیا تھا۔یہ الزام ثابت ہونے پر یونیورسٹی کی سنڈیکیٹ نے دو ملازمین کو برطرف اور سابق رجسٹرار اور ٹرانسپورٹ آفیسر کی دو سال کے انکریمنٹس بھی روک دیے تھے۔یہ معاملہ بلوچستان ہائی کورٹ تک بھی پہنچا تھا۔ آئیے،ایسے بہت زیادہ شہرت پالینے والے چند واقعات پرنظر ڈال لیتے ہیں۔

پشاور کی امتحان گاہ میں سی سی ٹی وی کیمرے

پشاورمیں مارچ 2014ء میں ہونے والے میٹرک کے سالانہ امتحانات میں نقل کے رجحان کے خاتمے کے لئے امتحانی ہالوں میں پہلی مرتبہ سی سی ٹی وی کیمرے نصب کئے گئے تھے۔ تعلیمی بورڈ پشاور کے چیئرمین ڈاکٹر شفیع آفریدی کے مطابق پشاور، چارسدہ، چترال،خیبر ایجنسی،مہمند ایجنسی اور ایف آر پشاور میں 506 امتحانی مراکز قائم کئے گئے تھے جن کی نگرانی کے لئے پہلی مرتبہ سی سی ٹی وی کیمرے نصب کئے گئے۔ ڈاکٹر شفیع آفریدی کے مطابق سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب سے نقل کے رجحان پر قابو پایا جاسکتا ہے۔

جامعہ بلوچستان کی یاد

جامعہ بلوچستان میں ہراسانی اسکینڈل سامنے آنے کے بعدطلبا اور سیاسی جماعتوں کی احتجاجی تحریک شروع ہوئی اور حکومت نے وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کوتحقیقات کی ہدایت کی تھی جس کی روشنی میں جامعہ کی سنڈیکیٹ کے اجلاس میں مذکورہ فیصلہ کیا گیاتھا ۔ چانسلر پروفیسر ڈاکٹر شفیق الرحمان کی زیرِ صدارت ہونے والے اس اجلاس کا ایجنڈا ہراسانی اسکینڈل کے حوالے سے بلوچستان ہائی کورٹ کے حکم پر ایف آئی اے کی انکوائری کی روشنی میں ملزمان کے خلاف کارروائی کرنا تھا۔

اجلاس میں بلوچستان ہائی کورٹ کے نمائندے جسٹس ہاشم کاکڑ ، وزیراعلیٰ بلوچستان کی مشیر بشریٰ رند، روشن خورشید بروچہ، ڈاکٹر سعود بلوچ، محمد ایوب بلوچ، ڈاکٹر کلیم اللہ، پروفیسر باقی جتک، ڈاکٹر فرید اچکزئی اور دیگربھی شریک تھے ۔ جس سابق وائس چانسلر کے دور میں ہراسانی اسکینڈل سامنے آیاتھاان کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے گورنر بلوچستان سے سفارش کی گئی تھی کہ انہیں جو صدارتی یا دیگر ایوارڈز دیے گئے ہیں، وہ واپس لیے جائیں اور ان کے خلاف جوڈیشل انکوائری کروائی جائے۔

یاد رہے کہ جامعہ بلوچستان میں نگرانی کے لیے اسّی تا نوّے کیمرے لگائے گئے تھے، جن میں سے دو خفیہ رکھے گئے تھے۔ ان خفیہ کیمروں سے طالبات کی خفیہ وڈیوز بنائی جاتی رہی تھیں۔ لہذا ان ہی افراد کے خلاف کارروائی کی گئی جو یہ وڈڈیوز بناتے رہے تھے۔اس اسکینڈل نے نہ صرف طالبات کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگادیا تھا بلکہ بعض والدین نے اپنی بچیوں کوجامعہ جانےسے روک دیا تھا۔یہ ہی وجہ ہے کہ ہراسانی اسکینڈل سامنے آنے پر یونیورسٹی میں زیر تعلیم طلبانے طویل عرصے تک احتجاج کیا جس میں بعدازاں سیاسی جماعتوں نے بھی حصہ لیا۔

اس معاملے کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے پچّیس اکتوبر 2019 کو ڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن(ڈی آر ایف)، سول سوسائٹی کے ارکان اور طلبا کے نمائندے تعلیمی اداروں میں طلبا کی پرائیویسی ، نگرانی اور ہراسانی کے معاملات پر سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کے اجلاس میں شریک ہوئے۔ڈی رایف کی چیئرپرسن نگہت دادکے مطابق اجلاس میں یونیورسٹی آف بلوچستان کے قائم مقام وائس چانسلر اور طلباکےنمائندوں کو مطالبات پیش کرنے کا موقع دیا گیا تھا۔

کمیٹی کو بتایا گیا تھا کہ یونیورسٹی میں نگرانی کے لیے 92 کیمرے لگائے گئے تھے لیکن بلوچستان ہائی کورٹ کے حکم پر ہونے والی تحقیقات کے دوران کُل آٹھ خفیہ کیمرے ملے، جن کے ذریعے طلبا کی مرضی کے بغیر ان کی ریکارڈنگ کی گئی تھی۔ اس فوٹیج کے ذریعے انتظامیہ نے طلبا کو مبینہ طور پر بلیک میل کیاتھا۔

ٹرائل روم میں کیمرا

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر فیصل آباد میں پولیس نےآٹھ فروری 2018 کو ملبوسات کے ایک مشہور برانڈ کی دکان کے ٹرائل روم میں نصب پوشیدہ کیمرے کے ذریعے خواتین کی وڈیوز بنانے کے الزام میں دو افراد کو گرفتار کر کے مقدمہ درج کر لیا تھا۔ پولیس کے مطابق ٹرائل یا چینجنگ روم میں ایک ڈبے میں موبائل کیمرا چھپایا گیا تھا اور شہریوں کی نشاندہی پر پولیس نے کارروائی کرکےاسسٹنٹ مینیجر اور ایک ملازم کو حراست میں لیاتھا۔

پولیس کے مطابق گرفتار ملازمین کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعات 352 اور 509 کے تحت مقدمہ درج کیا گیاتھا۔خیال رہے کہ پاکستان میں اس سے قبل بھی کپڑوں کی دکانوں کے ٹرائل رومز میں خفیہ کیمروں کی اطلاعات سوشل میڈیا پر گردش کرتی رہی ہیں۔

اسی طرح گوجرانوالہ میں پولیس نےکچھ عرصہ قبل خواتین کے سلے سلائے کپڑوں کی دکان کے مالک باپ بیٹے کو گرفتار کیاتھا جن پر دکان کے اندر ٹرائل روم میں خفیہ سی سی ٹی وی کیمرے نصب کرکے خواتین کی برہنہ وڈیوز بنانے اور انہیں بلیک میل کرنے کا الزام تھا۔تھانہ سیٹیلائٹ ٹائون پولیس نے ملزمان کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعات 354، 294 اور 506 کے تحت مقدمہ درج کیاتھا۔

یہ مقدمہ محلہ محمد نگر، جناح روڈ کے رہایشی فیضان حنیف کی درخواست پر درج کیا گیاتھاجس نے پولیس کو بیان ریکارڈ کرایاتھا کہ اس کی بہن (س) سیٹیلائٹ ٹائون مارکیٹ میں واقع ایک سوٹنگ سینٹر پرسلے ہوئے کپڑے خریدنے گئی تو دکان کے مالک شیخ اسلم اور اس کے بیٹے شیخ عمر نے اسے کپڑے چیک کرنے کے لیے دکان کے اوپر والے حصے پر موجود ٹرائی روم میں بھیج دیا، جہاں مبینہ طور پر ملزمان نے خفیہ کیمرے لگائے ہوئے تھے۔

فیضان حنیف کے مطابق اس کی بہن نے کپڑے تبدیل کرتے وقت کیمروں کو دیکھ لیا، موقعےپرجھگڑا بھی کیا اور کپڑے تبدیل کرتے وقت کی وڈیو ڈیلیٹ کرنے کو کہا،لیکن دکان دار کا کہنا تھا کہ تمہاری پہلے بھی برہنہ وڈیوز ہمارے پاس ہیں، جنہیں ہم وائرل کرسکتے ہیں،یوں انہوں نے خاتون کو بلیک میل کرکے ایک لاکھ بیس ہزار روپے وصول کیے، لیکن وڈیو ڈیلیٹ نہیں کی۔پولیس نےفیضان کی درخواست پر تحقیقات کیں اور دکان کا سی سی ٹی وی ریکارڈ چیک کیا تو خواتین کی کپڑے بدلنے کی وڈیو کلپس ریکارڈ میں موجود پائی گئیں جس پر پولیس نے دکان کے مالک باپ بیٹے کو فوری گرفتار کرکے مقدمہ درج کرلیا تھا ۔

ڈیجیٹل رائٹس

ایسے اسکینڈلز صرف پاکستان نہیں بلکہ دنیا بھر سے سامنے آرہے ہیں۔اس کی دو بنیادی وجوہات ہیں۔ پہلی وجہ کیمرا ٹیکنالوجی میں انقلابی پیش رفت ہے۔ دوسری وجہ اطلاعاتی ٹیکنالوجی کا زبردست انقلاب اور اس کا پھیلاو ہے۔اب کیمرے جگہ جگہ مختلف مقاصدکےلیے اور مختلف شکلوں میں نظر آتے ہیں۔پاکستان سمیت دنیا بھر میں اِن کا بڑھتا ہوا غلط استعمال بہت اہم مسئلہ بن گیا ہے ۔

ان حالات میں ڈیجیٹل حقوق کے تحفظکی جدوجہد کرنے والے افراد اور ماہرین کافی عرصے سے اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ خفیہ کیمرے یا نگرانی کی دیگر ٹیکنالوجیز کے استعمال اورخلوت یا پرائیویسی قائم رکھنے کے معاملے میں قواعدوضوابط کیا ہیں؟ کچھ عرصہ قبل ملک میں سنیما گھروں اور سیف سٹی پراجیکٹ کی وڈیوز لیک ہوئیں۔یہاں یہ ایک سوالیہ نشان ہے کہ آپ نے سی سی ٹی وی کیمرے تو لگا دیے، لیکن ان سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کی حفاظت کا نظام وضح نہیں کیا۔ کس کو اس ڈیٹا تک رسائی حاصل ہے؟ اسے رئیل ٹائم میں کون دیکھتا ، کون ریکارڈ کرتاہے؟ کچھ عرصے یہ ڈیٹا کو ضایع کرنے کے ایس او پیز کیا ہیں؟

ہم نے اس جانب توجہ نہیں دی ۔ سب سے پہلے یہ ضروری ہے کہ جہاں کیمرے لگے ہوں وہاں تختی نصب ہو کہ کیمرے کی آنکھ آپ کو دیکھ رہی ہے۔ سنیما گھروں میں جانے والے کتنے لوگوں کو پتاہے کہ اسکرین کے بالکل سامنے کیمرے لگے ہوتے ہیں۔ تعلیمی اداروں میں خفیہ کیمرے لگے ہیں ،مگر وہاں کی انتظامیہ ہی غلط کام میں ملوث ہو تو آپ کیا کریں گے؟خفیہ کیمروں کی نا جائز ریکارڈنگز پر پر فوری ایکشن لیا جانا چاہیے۔ آگاہی مہم چلائی جائے تاکہ لوگوں کو پتا ہو کہ رازداری ان کا قانونی حق ہے اور وہ کسی سے بھی یہ کہہ سکیں کہ آپ ہماری وڈیوبغیر اجازت لیے نہیں بنا سکتے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آپ کو محسوس ہو کہ آپ کی خفیہ ریکارڈنگ کی گئی ہے تو آپ کے پاس یہ حق ہونا چاہیے کہ آپ اسے کسی فورم پر جا کر چیلنج کر سکیں۔ مگر افسوس کی بات ہے کہ پاکستان میں ایسا نظام موجود نہیں۔ جب 2020 میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی میں یہ مسئلہ اٹھایا گیا تو کمیٹی نے نہ صرف جامہ بلوچستان کے اسکینڈل کو دیکھا بلکہ ڈیٹا پروٹیکشن قانون کا بل جو وزارت آئی ٹی میں پڑا تھا اس کے بارے میں بھی دریافت کیا کہ اس کی منظوری میں کیا رکاوٹ ہے۔

ماہرین کے مطابق پاکستان میں نجی اورسرکاری ادارے بغیر کسی پالیسی اور قانون کے، لوگوں کے ڈیٹا تک رسائی حاصل کرکے اس کا جائزہ لیتے ہیں اور پھر اپنی مرضی سے اسے استعمال کرتے ہیں۔ اس حوالے سے قانون آ بھی جائے تو کیا اس پر عمل درآمد کروایا جاسکےگا؟ اس ضمن میں جو بل سامنے آیا اس میں صرف نجی اداروں کا ذکر ہے۔ نادرا اور سیف سٹی پراجیکٹ کو یہ کہہ کر نظرانداز کر دیا گیا کہ یہ ادارے قومی سلامتی سے متعلق ہیں، اس لیے بل میں ان کا ذکر نہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر سرکاری ادارے اس کے زمرے میں نہیں آتے تو پھر کون آتا ہے؟ آپ کا شناختی کارڈ بایومیٹرک ہے آپ کو کچھ نہیں پتا کہ آپ کا شناختی کارڈ نادرا میں کس کے پاس ہے؟

اس شعبے کے سرگرم افراد کے بہ قول جب کسی مسئلے کو طویل عرصے تک ٹالا یانظر انداز کیا جائے تو پھر بات آپ کے تعلیمی اداروں تک پہنچ جاتی ہے جہاں خفیہ کیمروں کی فوٹیج لڑکے لڑکیوں کو بلیک میل کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ہمیں یہ بھی دیکھنا ہوگاکہ انسداد ہراسانی کمیٹیز کی تشکیل کون کر رہاہے۔ اگر وہ انتظامیہ کر رہی ہے تو وہ وہی لوگ لے کر آئے گی جو اس کے موقفکی حمایت کریں گے۔ کمیٹیوں کی تشکیل ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔ کمیٹیاں بن جانا آسان ہے لیکن یہ دیکھنا ضروری ہے کہ ان میں کون لوگ شامل ہیں؟ہراسانی کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے قائم کمیٹیوں میں صنفی برابری کی ضرورت کو مد نظر رکھاجائے۔

شہریوں کے حقوق کے تحفظ کے ضمن میں اکتوبر 2021 کے دوسرے ہفتے میں ہونے والی ایک عدالتی کارروائی کافی اہمیت کی حامل ہے۔ لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس جواد حسن نے خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے سلمان صوفی کی درخواست پر سماعت کی جس میں سی سی ٹی وی کیمرے کی موجودگی میں ایک عام شہری کی پرائیویسی پامال کرنے پر تحفظات کا اظہار کیا گیا تھا۔

سی سی ٹی وی کیمرے کی موجودگی میں شہریوں کی پرائیویسی کے تحفظ کے لیے یہ اپنی نوعیت کی پہلی اور منفرد درخواست ہے جو لاہور ہائیکورٹ میں دائر کی گئی ہے۔ کچھ عرصے میں پبلک مقامات پر لگائے گئے پرائیویٹ سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں اور عام شہریوں کی پرائیویسی پامال کی گئی۔

جسٹس جواد حسن نے درخواست پر ابتدائی کارروائی کے بعد اسے باقاعدہ سماعت کے لیے منظور کرلیا اور وفاقی اور صوبائی دونوں حکومتوں سے جواب مانگ لیا تھا۔ شہریوں کی پرائیویسی کو پامال کرنے کا ایک واقعہ لاہور کے جدید طرز کے سنیما گھر میں پیش آیا تھا ہال میں بیٹھے کچھ لوگوں کی نجی نوعیت کی فوٹیج سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی تھی۔ اس کے علاوہ بلوچستان یونیورسٹی میں مبینہ طور پر خفیہ کیمروں کے ذریعے طالبات کو ہراساں اور بلیک میل کرنے کی خبروں کو بھی درخواست میں بنیاد بنایا گیا ہے۔

انس مشہود ایڈووکیٹ نے سنیما گھر کے علاوہ دیگر واقعات کو بنیاد بنا کر درخواست دائر کی اور اس میں ان واقعات کے بارے میں اخباری تراشے اور تصاویر کو لف کیا گیاتھا۔درخواست گزار سلمان صوفی کے وکیل انس مشہود عدالت میں پیش ہوئے اور سی سی ٹی وی کیمرے کی موجودگی میں شہریوں کی پرائیویسی کے تحفظ کو یقینی بنانے کے نکات پر دلائل دیے۔ انہوں نے نشان دہی کی کہ سی سی ٹی وی کیمرے کے ذریعے بنائی گئی فوٹیج میں شہریوں کی پرائیویسی کا دھیان نہیں رکھا جاتا اور کئی مرتبہ ایک عام شہری کی پرائیویسی مجروح ہوتی ہے۔

لاہور ہائی کورٹ کے روبہ رو درخواست گزار کے وکیل انس مشہود نے مختلف ممالک میں پرائیویسی کے قوانین کا حوالہ دیا اور یہ بتایا کہ وہاں پرائیویسی کی پامالی کے مسائل سے کس طرح نمٹا گیا۔ سلمان صوفی کے وکیل نے توجہ دلائی کہ پبلک مقامات پر لگائے گئے سرکاری اور نجی سی سی ٹی وی کیمرے کے ذریعے بنی ہوئی فوٹیج کو وائرل کرنے کے واقعات رونما ہوئے جو بینادی حقوقِ کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ 

وکیل نے نکتہ اٹھایا کہ پبلک مقامات پر لگائے گئے سی سی ٹی کیمرے کی فوٹیج وائرل کرنے کے ذمے داروں کے خلاف کارروائی کا ٹھوس اور موثر طریقہ کار ہونا چاہیے۔ پبلک مقامات پر پرائیویٹ سی سی ٹی وی کیمرے نصب ہوتے ہیں لیکن ایسے نوٹس آویزاں نہیں کیے جاتے جن سے عام شہری کو کیمرا نصب ہونے کا علم ہو۔ 

انہوں نے استدعا کی کہ جہاں بھی سی سی ٹی وی کیمرے ہوں وہاں عوامی نوٹس آویزاں کرکے اس کی موجودگی کی اطلاع دی جائے۔وکیل نے یہ بھی نشان دہی کی کہ پبلک مقامات اور مختلف دکانوں کے علاوہ سیف سٹی اتھارٹی کے کیمرے سے بنی فوٹیج بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہیں۔ سی سی ٹی وی کیمرے کی فوٹیج کسی بھی طور پرکسی کی شہرت کو نقصان پہنچانے کے لیے استعمال نہیں کی جانی چاہیے۔ انہوں نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ پاکستان میں لوگوں کی پرائیویسی کے تحفظ کے لیے قوانین توہیں لیکن ان پر عمل نہیں کیا جا رہا۔

لاہور ہائی کورٹ کے روبہ رو انس مشہود ایڈووکیٹ نے نکتہ اٹھایا کہ یہ ریاست کی ذمے داری ہے کہ وہ ہر شہری کی پرائیویسی کا تحفظ یقینی بنائے اور اس مقصد کے لیے قانون سازی کی جائے۔درخواست پر آئندہ کارروائی دس دسمبر کو ہوگی۔

ہم کیا کررہے ہیں؟

دنیا تو ہر طرح کے کیمروں سے بہت سے مفید کام بھی لے رہی ہے لیکن ہم تو ان کی وجہ سے محض بدنامی ہی سمیٹ رہے ہیں۔ پاکستان میں بدامنی، قتل و غارت گری اور جرائم کی نوعیت اور شرح میں روزبہ روز ہوتے اضافے کو کنٹرول کرنے میں حکومت ناکام دکھائی دیتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جرائم پر قابو پانے کے لیے ہر طرح سے جرائم پیشہ عناصر کی نگرانی کرکے ان کی گرفت نہیں کی جارہی۔ اکثر ممالک میں خفیہ کیمروں (سی سی ٹی وی کیمرے) سے مدد لے کر جرائم میں ملوث افراد کو کیفر کردار تک پہنچایا جاتا ہے۔

یہ خفیہ کیمرے کافی حد تک جرائم پیشہ عناصر کی سرکوبی میں معاون بھی ثابت ہوتے ہیں۔ ان کیمروں کے ذریعے مختلف قسم کے جرائم پیشہ عناصر پر کڑی نگاہ رکھی جاتی ہے اور اس کے ساتھ ٹریفک کے مسائل کی بھی نگرانی کی جاتی ہے۔ سی سی ٹی وی کیمروں کا مقصد سیکیورٹی کو یقینی بنانا اور جرائم پیشہ لوگوں کو کنٹرول کرناہوتا ہے۔ اسی لیے بیرونی ممالک میں سی سی ٹی وی کیمروں پر بھاری رقوم خرچ کی جاتی ہیں۔

بگ برادر واچ کے مطابق برطانیہ میں برمنگھم کونسل نے چند برسوں میں 636 سی سی ٹی وی کیمروں پر 14.29 ملین پونڈزکے اخراجات کیےتھے۔برطانیہ میں موجود دیگر سیکڑوں سٹی کونسلز نے مجموعی طور پر سیکیورٹی کے لیے لگائے گئے کیمروں پرپانچ سو ملین پونڈزخرچ کیے۔ برمنگھم کے لندن کی ویسٹ منسٹر کونسل جہاں برطانیہ کے شاہی خاندان کے محلات، ہاؤس آف کامنز، ویسٹ منسٹر ایبے اور دیگر اہم تاریخی مقام واقع ہیں، وہاں چند برسوں میں دس ملین پونڈز خرچ ہوئے۔

اسی طرح سڑکوں پر ہونے والے جرائم کی روک تھام کے لیے صرف برطانیہ میں سی سی ٹی وی کیمرے روزانہ کی بنیاد پرسڑکوں پر کاروں کی چھبّیس ملین تصاویر کھینچتے ہیں۔ برطانوی حکومت کے پاس ہر کار کی 472 سی سی ٹی وی تصاویر موجود ہیں اور یہ تصاویر آٹھ ہزار کیمروں پر مشتمل نیٹ ورک سے کھینچی جاتی ہیں۔ آٹو میٹک نمبر پلیٹ ریکگنیشن کیمروں سے کھینچی گئیں تصاویر کوجرائم سے نمٹنے میں استعمال کیا جاتا ہے۔ ان کا منصوبہ تھا کہ 2018ءتک ہر روز تقریباً گاڑیوں کی 75 ملین تک تصاویر کھینچی جائیں گی۔ 26 ملین تصاویر فی روز کے حساب سے تصاویر کی شرح 2012 ءکے مقابلے میں 61 فیصد زیادہ تھی۔ 2012ءمیں ہر روز 16 ملین تصاویر کیمروں میں محفوظ کی جاتی تھیں۔

اسی طرح برطانیہ میں اسکولوں میں جرائم کی روک تھام کے لیے بھی سی سی ٹی وی کیمروں کا ستعمال کیا جارہا ہے۔ بگ برادر واچ کی ایک رپورٹ کے مطابق جرائم کی روک تھام کے لیے ایک لاکھ سے زاید سی سی ٹی وی کیمرے سیکنڈری اسکولزاور اکیڈمیز میں نصب کیے گئے ہیں۔ اسی لیے یورپ میں جرائم پیشہ عناصر بالکل آزاد نہیں ہیں، بلکہ سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعے ان کی نگرانی کرکے انہیں گرفتار بھی کیا جاتا ہے۔

دوسری طرف پاکستان میں دن بدن بڑھتی جرائم کی شرح کے باوجود سی سی ٹی وی کیمروں پر کوئی توجہ نہیں دی جارہی۔ ملک کے تقریباً تمام شہروں میں بہت سے سی سی ٹی وی کیمرے ایک عرصے سے خراب ہیں، جنہیں ٹھیک کرنے کی طرف حکومت کی کوئی توجہ نہیں ہے۔ سیف سٹی کے بیش تر منصوبے بھی تاحال’’ منصوبے‘‘ ہی ہیں۔